ذہنی پریشانی، بے خوابی اور اس کا علاج
حمدوصلوۃ کے بعد:
اس میں کوئی شک نہیں کہ نیند اور ذہنی سکون
واطمینان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم عطیہ ہے، بہت سے لوگوں کو ان کی قدروقیمت
کا احساس نہیں ہوتا ہے جب وہ اسے کھو بیٹھتے ہیں جب انہیں بے خوابی کی شکایت
ہوتی اور بے چینی وپریشانی اپنے آغوش میں لے لیتی ہے تو اس وقت اس نعمت کا
انہیں خوب خوب احساس ہوتا ہے۔''{وَمِنْ
آيَاتِهِ مَنَامُكُم} [الروم: 23]. اللہ
تعالیٰ کی نشانیوں میں سے تمہارا سونا بھی ہے۔
نیند کی حالت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ روحوں کو
اپنے قبضے میں لے لیتا ہے(موت سے دوچار کردیتا ہے) اور رات کو ہمارے لئے
سکون وراحت کا ذریعہ بنایا ہے، انسان جب مصائب میں چاروں طرف سے گھرجاتا ہے اور
تکلیفیں اور پریشانیاں انسان کو دبوچ لیتی ہیں ایسے وقت میں نیند بالکل اڑجاتی ہے
اور آرام ختم ہوجاتا ہے اور اس بحرانی کیفیت کے ساتھ میں ڈر، خوف اور اضطراب
وپریشانی بڑھتی جاتی ہے، انسان کا مستقبل گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا نظر آتا
ہے اور اس سب کے اثرات زندگی پر پڑتے ہیں پھر تو انسان پکار اٹھتا ہے : میرے
مستقبل کا کیا ہوگا؟ میرے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ یہ وہ گھبراہٹ ، کشیدگی،
فکرمندی اور خوف ہے جو بے خوابی اور بے سکونی پیدا کرتے ہیں، یہ نہ ختم ہونے والے
اندیشے ہیں۔ اور انجام کے طور پر بہت سے مشکلات کا باعث بنتے ہیں جیسے نبض کی تیز
رفتاری (دھڑکن) ہائی بلڈ پریشر اور شوگر، بعض افراد تو ڈرگز اور غیرمتحرک
کرنے والی دوائیوں کا استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔انسان فطرتاً گھبرانے اور بہت جلد
ڈرنے والا ہے۔ خاص طور پر وہ انسان جو دین اسلام کی نعمت سے محروم ہے یعنی
کافر تو وہ آرام وراحت کے لئے ہر وہ چیز استعمال کرنے کے لئے تیار
رہتا ہے جو اس کی بے چینی اور خوف ودہشت کو دور کردے۔ چونکہ کافر کے لئے دنیا وی
زندگی آخری خواہش اور سب سے پہلا مقصد ہوتا ہے، لہٰذا اس کے اس ارادے اور خواہش
کے سبب راحت وآرام کی تلاش میں دنیا میں بربادی اور ہلاکت کے نت نئے طریقے
رائج ہوئے، اب اس بات پر تعجب کرنے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ میں بے خوابی سے متاثر
افراد9% سے 35 %، اور40 % فیصد سے زائد عمردراز افراد نیند کی گولیاں
استعمال کرتے ہیں، اور ہر چار میں کا ایک نفسیاتی بے چینی کا شکار ہے، 27%
فیصد نیند کے نامکمل ہونے اور بے خوابی کے واقعات، بے چینی اور اضطراب کے
نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔دوسری جانب یہی حال شعبدہ باز اور کرتوت دکھانے والے کے
پاس دکھائی دیتا ہے ، کہ لوگ ان شعبدہ بازوں کے پاس جاتے ہیں اور اپنے
مستقبل کے بارے میں معلومات لیتے ہیں، ان ہی خیالات کی حامل علم نفسیات کی ماہر
ایک خاتون کہتی ہیں: میں نے بیس برس کے عرصے کے دوران اپنے کام میں کبھی بھی
ایسا دن نہیں دیکھا مگر یہ کہ بے چینی واضطراب کی سطح تمام اندازوں کو
لاجواب کردیتی۔
بے خوابی جس کے نتیجے میں نیند میں بے چینی اور
اضطراب پیدا ہوجاتا ہے، اس بے چینی اور بے خوابی سے بھاگنا بسا اوقات قابل
تعریف بھی ہوتا ہے، بسا اوقات انسان کسی فرض میں خلل پیدا ہونے کے سبب بے خوابی کا
شکار ہوجاتا ہے، حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ
میں آپ ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ نے سلام پھیرا،اور آپ کھڑے
ہوگئے اور اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے کمرے کی جانب لوگوں کی گردنیں پھاند کر جلدی
جلدی چلے گئے، لوگ آپ کی تیز رفتاری پر حیران ہوگئے، پھر آپ دوبارہ
نکلے، تو آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ کی سرعت اور جلدی کرنے پر تعجب کررہے ہیں، تو
آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے ایک چیز یاد آئی تھی کہ ہمارے پاس کچھ دھات (سونا،
چاندی) تھی، مجھے اسے روک کر رکھنا ناگوار گذرا، لہٰذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا
حکم دے دیا۔(بخاری)
یہ ہے اللہ تعالیٰ کا حق، اسی طرح مسلمان کبھی
کبھی اس خدشہ سے بے چینی واضطراب کا شکار ہوجاتا ہے کہ آیا وہ کسی ناجائز
عمل کا مرتکب تو نہ ہوا ہو۔امام احمد حضرت عمر بن شعیب سے اور انھوں اپنے والد سے
اور انھوں اپنے دادا سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے ایک رات اپنے پہلو میں پڑے چند
کھجور پائے تو آپ نے اسے تناول فرمادیا، اور پھر رات بھر آپ نہیں سوئے، تو آپ
کی کسی زوجہ مطہرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ، کل رات آپ بے خوابی کے شکار تھے؟
آپ نے ارشاد فرمایا: ''«إِنِّي
وَجَدْتُ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ
تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ» [حديث حسن]. میں نے اپنے پہلو میں کھجور پایا، اور کھالیا،
اور ہمارے پاس صدقہ کی کھجور بھی تھی تو مجھے ڈر ہوا کہ (میں نے جو کھائی
وہ) اس میں سے تو نہیں تھی۔
یہ شرعی بے چینی ہے جو قابل تعریف ہے، جو بندۂ
مومن کو کبھی بلندی تک پہنچادیتی ہے، اسی طرح ایک بے چینی اللہ تعالیٰ کے
حقوق، یا بندوں کے حقوق میں کمی کی وجہ سے ضمیر کی سرزنش کے طور پر ہوتی ہے،
دیکھئے ایک فرمان بردار بیوی اپنے شوہر سے کہتی ہیں: بخدا میں نیند کی ایک چھپک
بھی نہیں لوں گی یہاں تک آپ راضی ہوجائے۔
اور یہ دیکھئے ثابت بن قیس کو جو، آیت {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ
النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن
تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الحجرات: 2] اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز
سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے
روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو
خبر بھی نہ ہو۔
کے نزول کے بعدکہتے ہیں: مجھے ڈر ہے کہ یہ آیت
کہیں میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو، تمہیں معلوم ہے کہ میری آواز تم میں سب
سے بلند ہے، نبی پاک ﷺ کو معلوم ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيش حَمِيدًا وَتُقْتَل
شَهِيدًا وَتَدْخُل الْجَنَّة». کیا تم
اس پر راضی ہو کہ تم قابل تعریف بن کر جیو اور شہید ہوکر قتل کیئے جاؤ اور جنت میں
داخل ہوجاؤ۔
{وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا
وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ}
[المؤمنون: 60] اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں
۔
یہ تھے وہ لوگ جو خیر اور نیکی کے کاموں میں
جلدی کیا کرتے تھے۔غفلت ولاپرواہی بسااوقات منافقین کی صفت ہوتی ہے،اور اللہ
تعالیٰ کے حق میں کمی بیشی پر خشیت اور بے چینی اور محاسبہ مومن کی صفت ہوتی ہے،
حسن بصری ؒ کہتے ہیں: مومن لوگوں میں عمل کرنے کے اعتبار سے سب اچھا ہوتا ہےاورسب
سے زیادہ خشیت اور ڈرنے والا ہوتا ہے،مومن نیکی، اور عبادت اور اصلاح
نفس میں جیسی جیسی ترقی کرتا ہے اس کا خوف الہٰی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہونے لگتا
ہے، مومن کے زبان پر ہوتا ہے : میں (اللہ تعالیٰ کی گرفت سے)بچ نہیں
سکتا، اور منافق کی بڑبڑاہٹ ہوتی ہے:بہت سارے لوگ ہیں اللہ مجھے بھی معاف
کردے گا، کوئی بات نہیں، ،۔ وہ برابر بداعمالی میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے
امیدیں وابستہ کرتا جاتا ہے۔
جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اسے اہل جنت
میں سے نہ ہونے پر خوف ہونا چاہئے،کیونکہ ایسے لوگ ہی کہیں گے: {إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا
مُشْفِقِينَ} [الطور: 26]. اس سے
پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے۔
مومن ہمہ وقت اپنے رب تعالیٰ کی خوشنودی کا
خواہاں ہوتا ہے، اور ساتھ ہی اپنے رب تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہے: {اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ
السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1].
اپنے پروردگار سے ڈرو۔ کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہٴ عظیم ہوگا۔
مومن نیک اعمال برابر کرتا رہتا ہے اور رب
تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہے: «إِنَّ
الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ
إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ
النَّارِ فيدخلها».بیشک تم سے کوئی شخص
عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ
جاتا ہے، لیکن اس کی تقدیر اس پر سبقت لیجاتی ہے، تو وہ جہنمیوں کا کوئی عمل
کرلیتا ہے اور جہنم میں داخل ہوتا ہے۔مومن انجام پر نظر رکھتا ہے، اور حسن خاتمے
کی امید رکھتا ہے اور اپنے رب تعالیٰ سے اچھا گمان لگائے ہوئے ہوتا ہے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کے
فریضے کو انجام دینے والے (داعیان کرام) بھی اضطراب اور پریشانی میں مبتلا ہوجاتے
ہیں اور یہ اس نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے جو کچھ لوگ ان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا
کرتے ہیں، ارشاد باتی تعالیٰ ہے: : {فَلَعَلَّكَ
بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ}[الكهف: 6] (اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم
کے ان پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔ اور ارشاد ربانی ہے: {فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ}
[فاطر: 8]. تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل
جائے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ والدین کے
احساسات وجذبات اپنی اولاد کو پیش آنے والی مصیبتوں کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں،
نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: '' «إِنَّمَا
ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا» [رواه مسلم]. اس وجہ سے ان کی فکر کرنا اور ان
کے بارے میں سوچنا ایمان کا حصہ ہے ، ہاں مگر اضطرابی کیفیت کا حد سے بڑھ جانا کہ
آدمی اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں خوف کا شکار ہوجائے (مناسب نہیں ہے) اللہ
تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلْيَخْشَ
الَّذِينَ لَوْ تَرَكُواْ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافاً خَافُواْ
عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللّهَ وَلْيَقُولُواْ قَوْلاً سَدِيداً} [النساء: 9]. (ترجمہ)اور ایسے لوگوں کو ڈرنا
چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان
کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ
یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔
آدمی اپنی اولاد کے مستقبل اور ان کے
کیریئر کے بارے میں خوف کا شکار ہوجاتا ہے کہ میرے بچے تو ابھی چھوٹے ہیں، میں تو
ایک بوڑھا آدمی ہوں ، ایسا نہ ہو کہ کوئی ان کا حق نا حق کھا جائے اور غصب کرلے ،
پھر یہ لوگ کیسے جیئں گے ۔
اللہ کے بندو! مومن کا اپنا ایک میزان
اور معیار ہوتا ہے اگر یہ اضطراب دین، عبادت وبندگی ، اللہ کے حق میں ہو یا کسی
واجب دینی میں کمی یا حرام کام مبتلا ہوجانے کا خﷺف ہو تو یہ مستحسن ہے اور ہونا
چاہئے۔
دین کے بارے میں پریشانی اور اضطراب کے ثبوت
میں غار ثور کا مشہور واقعہ ہے، نبی کریم ﷺ ہمراہ ابوبکر ؓ اس غار میں پناہ گزیں
ہوئے جو سناٹا تھا اور کبھی کسی نے وہاں پنا بھی نہیں لیا ، اس منظر سے ابوبکر ؓ
کسی پیش آنے والے حادثہ کے ڈر سے خوف زدہ ہوگئے او ر کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں
نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھا ، آپ ﷺ نے بڑے ہی اطمینان کے ساتھ فرمایا:
ابوبکرؓ! آپ کا کیا خیا ل ہے ہم دو میں اور تیسرا ہمارا للہ ہے، یہ درحقیقت
ایمان کے بول ہیں۔
اور اسی طرح سے حاکم وقت کا اپنی رعیت کے بارے
میں فکر مند ہونا ہے، عمر بن خطاب ؓ کا قول ہے جو آپ نے موت سے صرف تین روز قبل
فرمایا ہے: اگر اللہ نے مجھے صحت اور زندگی بخشی تو میں باشندگان عراق کے کسی بھی
بیوہ کو ایسی حالت میں نہ چھوڑ وں گا کہ میرے بعد پھر انہیں کسی سے کچھ
مانگنے کی نوبت آئے۔(بخاری شریف)
یہ مسلمانوں کے فائدے اور بھلائی کی بات ہے، بے
شک ایمان، اطمینان اور سکون اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے اور اللہ کے ایسے ہی
صالح بندے اس سے نوازے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نماز میں اگر غنودگی طاری ہوجائے
تو اسے نفاق شمار کیا جاتا ہے جبکہ یہی غنودگی اگر میدان جنگ میں طاری
ہوجائے تو اسے ایمان کی پہچان شمار کیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: {إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً
مِّنْهُ} [الأنفال: 11]. (ترجمہ)
جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی
صحابہ کرام ؓ جنگ سے پہلے آرام کی غرض
سے سوگئے اور ان کی ٹھڈیاں نیند کی حالت میں ان کے سینے پر پڑی ہوئی تھیں، اسی طرح
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو سلادیا جبکہ وہ لوگ اپنے دین وایمان کے
تحفظ کے لئے پریشان حال ہو کر باہر نکل گئے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ} [الكهف: 11]. (ترجمہ) تو ہم نے غار میں کئی
سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔
اور اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے جب وہ اپنے نیک
بندوں کو دین وایمان کے لئے فکر مند دیکھتا ہے تو ان کے دلوں کو اطمینان وسکون سے
بھردیتا ہے۔
اور قابل مذمت بے چینی واضطراب دنیا کی خاطر پیدا
ہونے والی بے چینی اور اضطراب ہے، وہ بے خوابی ہے جو معصیت کی خاطر
پیدا ہوئی ، کہ انسان دنیا کے فوت ہونے سے ڈرتا ہے اور اس کو کرگزرنے کا ارادہ
رکھتا ہے، دنیا وی بے خوابی نومولود کے رزق کے ڈر سے بھی پیدا ہوتی ہے، جس کے
نتیجے میں شوہر اپنی بیوی کو اسقاط حمل کا مطالبہ کرتا ہے، بلکہ بعض ماہرین کے
مطابق انسان کی بے خوابی اور بے چینی کا سب سے اہم سبب یہی ہے۔
ایک برطانوی 43 سالہ تین بچوں کی ماں
نےصرف اس لئے خودکشی کی کہ اس نے اپنے بالوں کو ایک حد تک گرانے کے
لئے دوا کا استعمال کیا تھا لیکن وہ اپنے بالوں کی دل پسند خوبصورتی
بنانے میں ناکام ہوگئی تھی۔اور ایک خاتون نے اپنے چہرے پر جلدکے مرض ہونے کی وجہ
سے خودکشی کرلی۔
اللہ کے بندو! اس طرح کی پریشانی اور مشکل نیک،
گنہگار، فاجر اور مسلم وکافر کسے بھی پہنچ سکتی ہے، تاہم مسلمان کو کوئی
تکلیف پہنچتی ہے تو اسے اس کا ایمان سکون وراحت پہنچاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی
وحدانیت اسے سب سے پہلے سکون قلبی عطا فرماتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ} [الأنعام: 82]، (ترجمہ)جس کے نتیجے میں
مومنین آرام واطمینان سے سوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر سکینت ورحمت کو ڈال دیتے
ہیں۔پریشان حال کی دعائیں اور توحید کا ایک دوسرے سے واضح تعلق ہے: آپ ﷺ کی
دعا ہے: «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين،
وأصلح لي شأني كله، لا إله إلا أنت».
توحید کے کلمات پریشانیوں اور مصائب کو ختم
کردیتے ہیں، آپ ﷺ نے حضرت اسماء بنت عمیس کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا
میں تمہیں چند کلمے نہ سکھاؤں ، جسے تم پریشانی کے وقت پڑھا کرو: : الله ربي لا أشرك به شيئًا» [رواه أبو داود وهو حديث صحيح]. اللہ میرا رب
ہے ، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوں۔
کس چیز نے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ کی تاریکی
میں سکون واطمینان عطا کیا: {لَّا
إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ} [الانبياء: 87]، ترجمہ:تیرے سوا کوئی معبود
نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں۔«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ».ذی النون کی دعا جب انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں
دعا کی: {لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي
كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ}
آپ ﷺ کا ارشاد ہے: کوئی مسلمان آدمی کسی بھی
سلسلے میں اس دعا کو کرے گا اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائیں گے۔[رواه الترمذي وهو
حديث صحيح].ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَمَن
يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ}
[التغابن: 11] ترجمہ: اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا
ہے۔
لوگوں میں اہل ایمان دلوں کے
اعتبار سے سب سے زیادہ پرسکون ہوا کرتے ہیں، اور پریشانیوں اور حالات میں سب سے
زیادہ ثابت قدم رہتے ہیں۔
''بے چینی کو چھوڑیئے اور زندگی کا
آغاز کیجئے '' یہ ایک مشہور کتا ب ہے ، اس کتاب کے مصنف کی کتابوں اور مقالات
سے آج سینکڑوں انسان لطف اٹھارہے ہیں لیکن اس کتاب کا مصنف خود ،
خودکشی کی موت مرا۔
مشرک آسودہ حال نہیں رہ سکتا، وہ ہمہ وقت
پریشانیوں میں گھرا نظر آئے گا۔
اللہ کے بندو! ہمارا اپنے رب پر اعتماد، اور
حسن ظن،اس کی جانب رجوع، اور اس کی ذات پر بھروسہ وتوکل ہم سے بے چینی اور اضطراب
کو دور کردیتے ہیں۔ابن قیم ؒ کہتے ہیں: جس نے اپنے دل کو اپنے رب کی یاد سے آباد
کیا، وہ سکون وراحت پاتا ہے، اور جس نے اپنے دل کو لوگوں کی آماجگاہ بنادیا، بے
چینی، اضطراب اور قلق اسے گھیر لیتے ہیں، جس دل میں دنیا کی محبت ہوتی ہے ، اللہ
تعالیٰ کی محبت ایسے دل میں اس وقت تک نہیں اترسکتی جب تک کہ اونٹ سوئی کے سوراخ
میں داخل نہ ہوجائے۔(الفوائد)
دل کی توانائی، اور دل کا بے چین نہ ہونا ، یہ
حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے ، جب دل ایمان کی دولت ، اللہ تعالیٰ پر اعتماد
اور اس کی ذات پر بھروسہ سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور
تقدیر پر ایمان بے چینی اور اضطراب کو زائل کرنے کا باعث ہے نیز مومن کے لئے
یہ عقیدہ امید کی ایک کرن ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور تقدیر پر ایمان ، ایمان کے
ارکان میں سے ایک رکن ہے۔
اے مسلمان ، اے اللہ کے بندے اللہ کے اس قول پر
غوروفکر کر۔ {مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ
وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا إِنَّ
ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ}
[الحديد: 22]. ترجمہ: کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے
کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (اور) یہ (کام) خدا کو آسان
ہے۔
تقدیر انسان کی پیدائش سے قبل ہی لکھی جاچکی
ہے، بھلا آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تقدیر لکھنے کی کیا
ضرورت تھی، بلکہ اگر تقدیر انسان کی پیدائش ہوتی ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ لکھ
دیتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {لِكَيْلَا
تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ}
[الحديد: 23]. تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو۔
تقدیر ایک عرصے سے لکھی ہوئی ہے، تو پھر غم کس
بات کا؟ تقدیر کے لکھنے سے تو اللہ تعالیٰ فارغ ہوچکا ہے؟ تو پھر رنجیدگی کس
بات کی؟{لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا
تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ}
[الحديد: 23]. تاکہ جو (مطلب) تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم
کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔
جب بھی کوئی مصیبت، وفات، نقصان، ملازمت
کے چلے جانے اور بیماری جیسے حادثے پیش آتے ہیں تو یہ سب اللہ تعالیٰ نے
پہلے ہی لکھ دیا تھا، اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے مطابق ہوئے، قلم
سک گئے،اور صحیفے لپیٹ لیئے گئے، قلم نے روز قیامت تک جو جو ہونے والا ہے لکھ کر
فارغ ہوگیا، اب اگر کسی کو رزق کے سلسلے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، تو اسے جاننا
چاہئے کہ اللہ تعالیٰ رزاق ہے ، اور رزق اسی کے پاس ہے{فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ} [العنكبوت: 17] ترجمہ:پس خدا ہی کے ہاں سے
رزق طلب کرو۔
اس کے علاوہ کسی کے پاس رزق نہیں
ہے، اور اللہ تعالیٰ کے رزق کو کسی حریص کی حرص چھین نہیں سکتی، اور کسی بری نیت
والے کی نیت اسے روک نہیں سکتی، لیکن اللہ تعالیٰ کا رزق شرعی اسباب کے ذریعے حاصل
کیا جاتا ہے، اور تمام مخلوق کی تقدیر لکھ دی جاچکی ہے: {وَفِي السَّمَاء رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ} [الذريات:22]، ترجمہ:اور تمہارا رزق اور جس
چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے {وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا} [هود: 6]. ترجمہ:اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے
والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔
شیطان فقر وفاقہ کے خوف کو بطور ہتھیار استعمال
کرتا ہے اور اس کےذریعے بندۂ مومن کو ڈراتا ہے: {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ} [البقرة: 268]، شیطان بخل کی تعلیم دیتا
ہے،{وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاء}{وَاللّهُ
يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً}{وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 268].
ترجمہ:(اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا
وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم
سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ
جاننے والا ہے۔
کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی ساری
فکر دنیا ہی ہو،اور آج مالی بحران کے سبب لوگوں میں جو بے چینی دیکھی جارہی ہے،
یہ ایک حقیقی، فطری اور متوقع نتیجہ ہے دنیا کے انسانی دل میں پیوست ہونے کا، اسی
لئے فرمایا: اے اللہ تو دنیا کو ہماری سب سے اہم فکر نہ بنا نا، اگر دنیا کی فکر
اہم نہ ہو تو یقین ہے کہ بے چینی ختم ہوجائے گی، بے خوابی جاتی رہے گی، یہی وجہ ہے
کہ جب بندہ صبح کرتا ہے یا شام کرتا ہے اور اسے صرف اور صرف فکر ہوتی
ہے تو وہ اپنے اللہ کی (یعنی اللہ سے ملاقات کی ، اس پر یقین کی، اس کے وعدہ
کی) تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی تمام ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لیتے ہیں، اور جو بندہ
کی صرف اور صرف دنیا ہی کے بارے میں فکر ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے
آنکھوں کے سامنے فقروفاقہ کو لاتے ہیں، اور پھر وہ فکروغم کا شکار ہوجاتا
ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی کے حوالے کردیتے ہیں۔{وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ
الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ} [الزخرف: 36].
اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے
(یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا
ہے۔
جو گذرا فوت ہوگیا، اور جس کی امید کی گئی وہ
غیب کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔
اے آدم کی اولاد! تیرا معاملہ تو صرف
تین دن کا ہے، کل تو گذر چکا، اور آئندہ کل ابھی تک آیا ہی نہیں، اور آج کا دن
ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ سے خوف کھا اور تقوی اختیار کردے، حادثات اور احوال کے
بہاؤ میں نہ آنا ، بلکہ ایسی زندگی بسر کر کے تجھے اللہ کی مدد حاصل ہوجائے۔
سهرتْ أعيـنٌ ونامتْ عيـونُ *** في شؤونٍ تكونُ
أو لا تكونُ
إن رباً كفاك بالأمسِ ما كانَ *** سيكفيـك في
غـدٍ ما يكونُ
چند آنکھیں ان فکروں میں جاگی کہ
یہ ہوگا یا نہ ہوگا اور چند آنکھوں نے اس فکر میں نیند کے مزے اڑایا کہ یہ ہوگا
یا نہ ہوگا۔ بیشک تیرا رب تیرے کل کے لئے تجھے کافی تھا، تو وہی آئندہ کل کے لئے
بھی تیرے لئے کافی ہوگا۔
بعض لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی
غوروفکر کی وجہ سے بے خوابی اور بے چینی واضطراب کے شکار رہتے ہیں، وہ سوچتے
ہیں کہ کل کیا ہوگا، کیا میری ملازمت چلی جائے گی، اور کیا ہوگا ، اور وہ
ہوگا یا نہیں ، اور اخیر میں حال ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس غم وفکر کے نتیجہ
میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
بندۂ مومن کو اپنے رب تعالیٰ پر ضرور بھروسہ
کرنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ بندے کو کبھی ضائع نہیں فرماتے،«أَيُّهَا النَّاسُ
اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى
تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا»
اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بہتر طریقے سے
(اپنا رزق) تلاش کرو، کوئی جان بھی اس وقت تک نہیں مرے گی یہانتک کہ وہ اپنا
رزق پالے۔
اور قناعت قابل تعریف عمل اور کامیابی کی
کنجی ہے: «قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ
اللَّهُ بِمَا آتَاهُ» یقینا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اسلام لایا، بقدرضرورت
روزی روٹی دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی پر قناعت کیا۔
اگر آپ بے خوابی کے شکار ہوجائیں تو کیا
کریں؟
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: جو نیند سے بیدار ہوا، اور (یہ دعا) پڑھی: لا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى
كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ،(پھر یہ
دعا ) پڑھی: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي یا کوئی دعا کی، قبول کردی جاتی ہے، پھر اگر
اس نے وضو کیا، اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کردی جاتی ہے۔
ایک بار پھر توحید کے بارے میں ، مومن توحید
باری تعالیٰ سے ہمہ وقت لیس ہوتا ہے، اطباء کی نصیحتوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے، لسان
الدین ابن خطیب ایک ماہر طبیب تھے، اور انھوں نے کئی فصلوں اور ابواب پر
مشتمل حفظان صحت پر مشہور کتاب تالیف کی، وہ رقم طراز ہیں: مجھ پراس کتاب کی تالیف
کے باوجود تعجب ہونا چاہئے، میں نے علم طب میں ایسی کتاب تالیف کی جس کی مثال نہیں
ملتی ، لیکن اس کے باوجود میں اپنی ذات کو لاحق بے خوابی کے مرض کا
علاج نہیں کرسکا۔
لسان الدین الخطیب کو ذو العمرین کہا جاتا ہے،
اس کی وجہ یہ تھی کہ بستی کے تمام لوگ رات میں میٹھی نیند کے مزے لیتے تھے اور
لسان الدین الخطیب جاگ کر رات گذارتے تھے، نیز انہوں نے اپنی اکثر تالیفات رات میں
ہی تالیف کی ہے۔
بندۂ مومن اپنی ضرورتوں کے وقت ربِ تعالیٰ کی
جانب متوجہ ہوتا ہے اور اسی کی ذات سے اپنی حاجت کو پوری کرتا ہے، وہ ربِ تعالیٰ
کو یاد کرتا ہے اور اپنے دل کو سکون وراحت پہنچاتا ہے۔{الَّذِينَ آمَنُواْ
وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ} [الرعد: 28]
(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ
خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔
{وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ
مَعِيشَةً ضَنكاً} [طـه: 124].
اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی
تنگ ہوجائے گی۔
وفي المقابل: {فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن
يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ
صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء} [الأنعام: 125].
ترجمہ: تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول
دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے
گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔
خطبۂ ثانیہ
حمد وصلوۃ کے بعد:
اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے:
{أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} [الرعد: 28]، ترجمہ:اور سن رکھو
کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔
ذکر الہٰی مسلمان کا شعار ہے، مزے اڑانے والے
اللہ کے ذکر کے مزے کی طرح لذت حاصل نہیں کرسکے، اس شخص پر بڑا تعجب ہے جو
غم میں مبتلا ہو اور کلمہ: لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من
الظالمين". کو بھو ل گیا ہو۔
بے چینی واضطراب کا شکار وہ بندہ کیسے ہوسکتا
ہے جو ایمان لائے اور سونے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہو«الْحَمْدُ لِلَّهِ
الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ
لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ» [رواه مسلم]
یقینا ہر انسان وحشت، بے چینی،اضطراب اور بے
خوابی کا شکار ہوتا ہے،(لیکن دین اسلام نے انسان کی ہر پہلو سے بہترین
انداز میں نمائندگی کی ہے) حضرت ولید بن ولید نے نبی کریم سے دریافت کیا : اے اللہ
کے رسول ﷺ! میں وحشت اور ڈر کا شکار ہوں، آپ نے ارشاد فرمایا: ''جب تم اپنے بستر
پر جاؤ تو یہ (کلمات کہو) : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ
غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ
يَحْضُرُونِ» [رواه أحمد وهو حديث صحيح].
اگر کوئی کہے کہ یہ دعا میں یاد نہیں کرسکتا،
تو معوذتین کافی ہے۔
{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ* مِن شَرِّ
مَا خَلَقَ} [الفلق: 1-2] کا عمومی طور پر ورد کرتے رہئے، نیز خصوصی خطرات اور
راستوں میں خوف وغیرہ امور میں : {وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ} [الفلق: 3]،
کا ورد کرنا چاہئے، اور جادو اور اس کے شر سے حفاظت کے لئے {وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ
فِي الْعُقَدِ} [الفلق: 4]، کا ورد کرنا،حسد اور نظر بد سے حفاظت کے لئے
{وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ} [الفلق: 5]. کا ورد کرتے رہئے۔
(ترجمہ سورۂ فلق)کہو کہ میں صبح کے پروردگار
کی پناہ مانگتا ہوں، ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی، اور شب تاریکی کی برائی
سے جب اس کااندھیرا چھا جائے، اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی
سے، اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے۔
اسی طرح سانپ، بچھو اور دیگر شرور سے
حفاظت کے لئے سورۂ ناس {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ* مَلِكِ النَّاسِ* إِلَهِ
النَّاسِ* مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ* الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ
النَّاسِ* مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ} [الناس: 1-6]. کا ورد کیجئے۔
(ترجمہ سورۂ ناس)کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار
کی پناہ مانگتا ہوں، (یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی، لوگوں کے معبود برحق کی،
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے، جو
لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے۔
تاہم تمام شرور سے حفاظت کے لئے سورۂ
اخلاص کے بعد سورۂ فلق زیادہ افضل ہے۔ اسی طرح سونے سے قبل پڑھی جانے والی دعاؤں
کے معانی ومطالب پر غورکیجئے، ان دعاؤں میں آرام ، سکون وراحت اور طمانینت وغیرہ
کی نعمتوں کا ذکر ہے۔اگر معانی ومطالب کو ذہن نشین رکھ کر پڑھا جائے تو یہ
دعائیں نفس انسانی پر عظیم اثرات چھوڑیں گی۔
«اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ
وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ -استندت أويت إلى ركن
شديد- وألجئت رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ
إِلَّا إِلَيْكَ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ
الَّذِي أَرْسَلْتَ» [رواه البخاري].
یہی وہ توکل اور خودسپردگی کی صفت ہے جس سے دل
کو سکون وقرار اور خوشی حاصل ہوتی ہے اور اس وضو سے ذہنی ونفسیاتی کشیدگی دور
ہوجاتی ہے اور بندہ اپنے داہنے پہلو لیٹ کر یہ دعا پڑھتا ہے «بِاسْمِكَ رَبِّ
وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ
أَرْسَلْتَهَا -وبقيت حيًا بعد قيامي من النوم- فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ
عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ». الہٰی تیرے نام سے میں سوتا اور جاگتا ہوں، اگر تو نے
میری جان قبض کرلیا تو اس پر رحم فرما، اور اگر مجھے دوبارہ زندہ اٹھایا تو میری
حفاظت فرما جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرمایا کرتا ہے۔
اس دعا کے اندر عبرت ہے، اپنے موت کی تیاری کے
لئے یاد دہانی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ آدمی اگر اپنے موت کو یاد کرنے لگ جائے تو
زندگی کی ساری تکلیف آسان ہوجائے۔
نفسي التي تملك الأشياء ذاهبة *** فكيـف آسى
على شـيء إذا ذهـبَ
ترجمہ: میری جان جو فانی چیزوں کی مالک
ہے ، ایک دن فنا کے گھاٹ اترنے والی ہے، پھر میں کسی جانے والی چیز کے جانے پر
افسوس کیوں کروں۔
{ثُمَّ أَنَزلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى
رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [التوبة: 26].
ترجمہ: پھر خدا نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں
پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔
{هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي
قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ} [الفتح: 4].
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی
نازل فرمائی۔
{فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ
فَتْحاً قَرِيباً} [الفتح: 18
ترجمہ: تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں
جلد فتح عنایت کی ۔
یہی وہ سکون ہے جو بندے کے غم کو ہلکا کرتا ہے،
یہی سکون ہے جو راہ جہاد میں لڑنے والوں کو اطمینان بخشتا ہے ، روز جزا کے لئے یہی
سکون زاد راہ ہوگا، اس سے نفسیاتی اور اعصابی اضطراب اور پریشانی سے نجات ملتی ہے
، نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ گھبراہٹ میں نماز کے ذریعے مدد طلب کرتے تھے۔
اگرکوئی آدمی گھبراہٹ محسوس کرتا ہے اور اس کے بعد نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ،
اپنے رب کے حضور کھڑا ہوکر مناجات اور سرگوشی میں مصروف ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ
اپنے بندہ کے روبرو ہوتا ہے بشرط یہ کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے اور اسے اس بات کا
پورا یقین بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں ہے جب بھی وہ اس
کی طرف رجوع کرے۔
انسان ایک طبیعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت
کریمہ میں بیان فرمایا ہے۔''{إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً* إِذَا مَسَّهُ
الشَّرُّ جَزُوعاً* وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعاً} [المعارج: 19-21].
ترجمہ: کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے، اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔
ترجمہ: کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے، اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔
آج اہل مغرب کی صورتحال یہ ہے کہ وہ خیمے میں
قیام پذیر ہیں، کیونکہ بینک کے ساہوکاروں نے مالی بحران کی وجہ سے ان کے مکانات
اپنے قبضے میں کرلیا ہے، رفاہی وفلاحی اداروں کے دروازوں پر وہ ڈیرہ ڈال چکے ہیں،
بے روزگاروں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، ملازمین کی تعداد میں تخفیف کا عمل
جاری ہے۔{إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعاً* إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً*
وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعاً* إِلَّا الْمُصَلِّينَ* الَّذِينَ هُمْ عَلَى
صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ* وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ*
لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ* وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ*
وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ* إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ
غَيْرُ مَأْمُونٍ* وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ* إِلَّا عَلَى
أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ*
فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ* وَالَّذِينَ هُمْ
لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ* وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ
قَائِمُونَ* وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ} [المعارج: 19-34].
(ترجمہ)کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا
ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے، اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل
بن جاتا ہے۔مگر نماز گزار، جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلاناغہ پڑھتے) ہیں، اور
جن کے مال میں حصہ مقرر ہے، (یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا،
اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں، اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں،
بےشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے، اور جو اپنی
شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے
پر) انہیں کچھ ملامت نہیں، اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل
جانے والے ہیں، اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں، اور جو اپنی
شہادتوں پر قائم رہتے ہیں، اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں۔
صدقہ وخیرات باعث نجات ہے:
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص جو کینسر کے مرض
میں مبتلا تھا، ڈاکٹر حضرات اس کی شفایابی سے مایوس ہوگئے اور آخر کار اسے مشورہ
دیدیا کہ جاؤ اور زندگی کے باقی ایام اپنے اہل وعیال کے ساتھ گذارو، اس اثنا
ء میں دیکھا یہ گیا کہ وہ شخص ایک گوشت کی دکان سے گزررہا تھا اور وہاں ایک بوڑھی
عورت ٹکٹکی باندھ کر گوشت والے کو دیکھ رہی تھی لوگ گوشت خرید کر واپس چلے جاتے تو
قصاب ہڈیاں اور ان سے ملے ہوئے کچھ ٹکڑے اسے دیدیتا، اس بیمار شخص نے گوشت فروش سے
کہا: اس بوڑھی عورت کو روزانہ دو کیلو گوشت دیدیا گرو، حساب میں دونگا، ابھی چند
دن گذرے تھے کہ وہ شخص صحت یاب ہوگیا جس سے ڈاکٹر حضرات حیران رہ گئے۔
اللہ کے بندو! اختلاج قلبی (دل کی دھڑکن)
ہاتھوں کا ارتعاش ، سینے کا درد، اعضاء وجوارح کا ٹھنڈا پڑجانا، معدہ کی خرابی اور
پریشان کن وسوسہ ، بے خوابی، فکرواندیشے کی زیادتی ، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی تناؤ
کی زیادتی یہ تمام وہ مشکلات ہیں جن کا علاج صرف دو ا سے ممکن نہیں ہے، دوائیں
وقتی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے نقصان دہ بھی ہوسکتی
ہیں۔
لہٰذا سب سے بہتر اور پائیدار علاج وہی ہے جسے
شریعت اسلامی نے متعارف کرایا ہے، آپ ﷺ نے بعض کھانوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ».
تلبینہ سے بیمار کے دل کو تسکین ہوتی ہے اس کا
غم کسی قدر کم ہوتا ہے۔(تلبینہ،یہ آٹے کے ساتھ گوشت کا ایک سوپ ہوتا ہے)
نیز حضرت عائشہ ؓ مریض اور غمگین کو دو تلبینہ
لینے کا حکم دیتی تھیں۔[بخاری]
سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلام على
المرسلين، والحمد لله رب العالمين.
0 comments:
Post a Comment