Saturday, 20 February 2016

تقلیدکی اہمیت

 اللہ جل شانہ نے ہمیں بہت پیارا دین عطا فرمایا ہے جس کا نام اسلام ہے۔اللہ تعالیٰ نے چونکہ اس دنیا کو دار الاسباب بنا دیا ہے۔اس لئے ہدایت کے دو اسباب ہمیں عطا فرمائے ہیں ۔ایک قرآن اور دوسرا سنت نبی۔اب جیسے اللہ تعالیٰ براہ راست بھی ہدایت دے سکتا ہے لیکن اس نے ہمیں ان دو ذریعوں کا پابند کیا ہے اس لئے ان دو ذریعوں تک پہنچنے کے جو ذرائع ہیں ان کا بھی ہمیں مکلف بنادیا ۔پس حضور ﷺ تک پہنچنے کا ذریعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بنایا اور قرآن کی تشریح بھی رائے سے کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ امت کے لئے مجمل ہے اور آپ ﷺ کے لئے مفصل۔آپ ﷺ سے جو تشریح صحابہ کرام ؓ نقل فرمائیں گے امت کے لئے وہی حجت ہے۔ پس جو صحابہ کے بغیر آپ ﷺ تک پہنچنے کا سوچیں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔انکار حدیث کا فتنہ اس لئے اصل میں مکمل دین سے فرار ہے کہ وہ قرآن کی جو من مانی تشریح کرنا چاہیں تو کرسکیں۔یہی وجہ ہے کہ منکرین حدیث نے جنت و دوزخ ، دو نمازوں ،فرشتوں شیطان اور آدم علیہ السلام کی وجود تک سے انکار کیا کیونکہ وہ آذاد ہیں۔لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ آزادی بہت مہنگی پڑتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا الدنیا سجن المؤمن و الجنۃ الکافر۔ دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔کافر کے لئے دنیا اگر چہ جنت ہے لیکن اس کا موت اس کو ہمیشہ جہنم تک پہنچا دے گا۔ پس مومن گو کہ یہاں کے مختصر وقت کے لیئے قید کے مشکلات برداشت کررہا ہے لیکن اس کا موت ان شاہ اللہ اس کو ہمیشہ کے لیئے جنتی بنادے گی گو اپنے گناہوں کی وجہ سے محدود مدت کے جہنم میں بھی چلا جائے۔پس منکرین حدیث آزاد لیکن تباہ حال ہیں اور سنت کا اتباع کرنے والے گو کہ دین کی مشقتیں جھیل رہے ہیں لیکن ان کو اس کا ہمیشہ کے لئے جنت کا مستحق بنا رہے ہیں۔جب حتمی بات صحابہ ؓ پر ٹھری تو اسباب کی اس دنیا میں اب دو باتیں ممکن ہیں ۔ایک یہ کہ کسی دین کی بات پر سارے صحابہ کرام متفق ہوں تو اس کو ہی دین سمجھا جائے گا۔اس میں دوسری بات ممکن نہیں ۔اس کو اجماع بھی کہتے ہیں دوسرا یہ کہ اس میں صحابہ کرام مختلف فیہ ہوں ۔اس میں کسی کے پیچے چلنا پڑتا ہے اور کسی کو چوکڑنا پڑتا ہے۔اب کس کو چویڑے اور کس کے پیچے چلے اس میں اجتھاد کی گنجائش ہے۔اس کو قیاس بھی کہتے ہیں۔اب اگر اجتھاد کوئی خود کرے تو وہ مجتھد ہوگا یا غیر مقلد۔مجتھد اس صورت میں جبکہ اجتھاد کی اہلیت اس میں پائی جاتی ہو اور اگر وہ اس میں نہ پائی جائے تو پھر غیر مقلد ہے۔وہ کہتے ہیں کوا چلا ہنس کی چال اپنا بھی بوتل گیا اس لئے بعض مجتھد بننے کی اہلیت کی غیر موجودگی میں جب اجتھاد کا دعویٰ کرتا ہے تو اپنے نفس کے تقلید کا شکار ہوجاتا ہے ایسے لوگوں کو قرآن پاک کی یہ آیت یاد رکھنی چاہیئے:فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ۔(النحل43) یعنی جاننے والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
تقلید کا ثبوت قرآن سے
صاحب روح المعانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں 
ترجمہ:- اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جس بات کا خود علم نہ ہو اس میں علماء کی جانب رجوع کرنا واجب ہے۔ 
(روح المعانی ص148،ج4)
حافظ ابوعمر ابن عبدالبر المتوفی 463 ھجری فرماتے ہیں 
ترجمہ:- علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عوام کے لئے اپنے علماء کی تقلید واجب ہے اور اللہ کے 
قول فاسئلو اھل الذکر ۔۔ الخ۔ سے یہی لوگ مراد ہیں۔اور سب کا اتفاق ہے کہ اندھے پر جب قبلہ مشتبہ ہوجائے تو جس شخص کی تمیز پر اسے بھروسہ ہے ،قبلہ کے سلسلہ میں اس کی بات ماننی لازم ہے اسی طرح وہ لوگ جو علم اور دینی بصیرت سے عاری ہیں ان کے لئے اپنے عالم کی تقلید لازم ہے۔
(
جامع بیان العلم و فضلہ ،ص989،،ج 2
ابوبکر احمد علی الخطیب بغدادی متوفی 462ھ کے حوالے سے بھی یہ بات گزر چکی ہے کہ اس آیت میں اھل الزکر سے "اہل علم" ہی مراد ہیں۔۔۔۔۔۔ حاصل یہ کہ اس آیت سے تقلید کا ثبوت نہایت وضاحت اور صراحت سے ہوتا ہے۔ 
دوسری آیت :- 
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ (النساء 83
ترجمہ:- اور جب انکے پاس امن یا خوف کا کوئی معاملہ آتا ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں۔ اگر پیغمبر خدا اور اپنے میں سے اولی الامر کے پاس اسے لے جاتے تو ان میں سے جو اہل استنباط (یعنی مجتہدین) ہیں اسے اچھی طرح جان لیتے اس آیت میں از خود عمل کرنے اور اہم معاملات کی تشہیر کرنے کو منع کرکے مجتہدین کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مسئلہ کی حقیقت کماحقہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ،نیز اس آیت میں معاملہ کو لوٹانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علماء مجتہدین کو شریک کرکے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رجوع کرنا محض حسن ظن اور اعتبار و اعتماد کی بنا پر ہے اسی طرح مجتہدین کی طرف رجوع کرنا محض حسن ظن اعتبار و اعتماد کے ساتھ ہونا چاہیئے ، گو اعتماد کی نوعیت میں دونوں جگہ بڑا فرق ہے۔ اسی چیز کو اصطلاح میں تقلید کہا جاتا ہے۔ 
امام رازی رحمۃ اللہ علیہ "تفسیر کبیر" میں اس آیت سے چند امور اخذ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ 
ترجمہ تو ثابت ہوا کہ استنباط حجت ہے اور قیاس یا تو استنباط ہے یا اس میں داخل ، تو وہ بھی ہوا۔ اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو ہم کہتے ہیں کہ آیت چند امور پر دلالت کرتی ہے۔(1) پیش آمدہ مسائل میں بعض ایسے امور ہیں،جو نص سے نہیں بلکہ استنباط سے جانے جاسکتے ہیں۔ (2) استنباط حجت ہے ۔ (3) عام آدمی کے لئے ان پیش آمدہ مسائل میں علماء کی تقلید واجب ہے ۔(تفسیر کبیر ،،ص،،273،،ج3
تیسری آیت:
- يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ (النساء 59
ترجمہ:- اے ایمان والو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے میں سے اولوالامر کی اطاعت کرو ۔ لفظ " اولی الامر " کی تفسیر مفسرین کرام نے حکام و سلاطین اور علمائے مجتہدین دونوں سے کی ہے۔ مگر یہاں علمائے مجتہدین مراد لینا زیادہ بہتر اور راجح ہے،کیونکہ حکام دنیوی، احکام دینیہ میں خود مختار مہیں ہیں ۔ بلکہ وہ علمائے شریعت کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ لہٰذا علمائے کرام حکام دنیاوی کے حاکم اور امیر ہوئے۔ 
صاحب تفسیر کبیر فرماتے ہیں 
ترجمہ:- بے شک امراء و سلاطین کے اعمال علماء کے فتاوٰی پر موقوف ہیں اور علماء درحقیقت سلاطین کے بھی امیر ہیں، تو لفظ "اولی الامر " کا ان پر محمول کرنا زیادہ بہتر ہے ۔(تفسیر کبیر،،ص،،344،،ج3
اسلاف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ ، حضرت عطاء رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ، حضرت مجاہد رحمہ اللہ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ ، حضرت ضحاک رحمہ اللہ علیہ ، حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے کہ " اولی الامر " سے علماء فقہاء اور مجتہدین مراد ہیں۔(تفسیر خازن ۔ مدارک وغیرہ
یہ بات ذہن میں رہے کہ " اولی الامر " کی تفسیر میں علماء اور فقہاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مجتہدین ہی مراد ہیں ۔ 
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں 
بے شک علماء سے مراد وہ حضرات ہیں جو احکام کا استنباط کرتے ہیںاور انہیں اخذ کرتے ہیں۔(روح المعانی ، ص ، 65 ، ج ، 5
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ شریعت میں اولی الامر سے مجتہدین مراد ہیں ، تو ان کی بھی اتباع واجب ہوئی اور اتباع وہی کرتا ہے جو متبوع کے درجے کو نہ پہنچے تو اس آیت سے صاف ثابت ہوا کہ وہ مسلمان جو خود مجتہد نہیں ہے اس کے لئے کسی مجتہد کی اطاعت اور اس کی تقلید واجب ہے ۔ اب رہی یہ بات کہ مجتہد کا اجتہاد محض حسن ظن کی بنیاد پر مان لیا جائے یا اس سے دلیل طلب کی جائے ۔ تو اس کا جواب خود آیت سے طلب کیا جائے، چنانچہ " اولی الامر " کو فعل اطاعت کے اعادہ کے بغیر "الرسول" پر عطف کیا گیا ہے۔ جو اشارہ ہے اس بات کی جانب کہ جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بغیر دلیل طلب کئے ہوئے محض حسن ظن کی بنیاد پر واجب ہے اسی طرح مجتہد کی اطاعت بھی مسائل اجتہادیہ میں حسن ظن کی بنیاد پر دلیل طلب کئے بغیر ہونی چاہیئے۔ اگرچہ حسن ظن کا منشاء دونوں جگہ الگ الگ ہے ۔ پہلی جگہ حسن ظن کا منشا ذات رسالت ہے جس کی اطاعت واجب قطعی ہے۔ دوسری جگہ حسن ظن کا منشاء مجتہد کا تقوٰی اور اس کا علم صحیح ہے جس کی اطاعت واجب ظنی ہے۔ اور کسی مجتہد کی ایسی اطاعت جس کی بنیاد حسن ظن ہو اسی کو تقلید کہتے ہیں۔ لہٰذا اس آیت سے ثبوت تقلید اظہر من الشمس ہوگیا ۔
احادیث مرفوعہ سے تقلید کا وجوب
عن ابی حزیفہ قا ل قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر ۔ترمزی ، ص507 ،ج2 
ترجمہ:- ان دونوں کی اقتداء اور پیروی کرو جو میرے بعد ہو یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ۔ اس حدیث میں شیخین کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ان سے دلیل طلب کرنے کا حکم نہیں فرمایا گیا، اسی کو تقلید کہتے ہیں ۔ عن العرباض ابن ساریہ یقول قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سترون من بعدی اختلافاً شدیداً فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔ ابن ماجہ، ص5، 
ترجمہ:- عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں خطبہ دیا (اور اسکے درمیان فرمایا) میرے بعد تم لوگ بہت سے اختلافات دیکوہ گے تو میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پابندی کرو ۔ 
اس حدیث سے علمائے کرام نے خلفائے راشدین کے عموم میں ائمہ مجتہدین کو بھی داخل کیا ہے۔ 
حضرت شاہ عبدالغنی صاحب رحمہ اللہ حاشیہ ابن ماجہ میں تحریر فرماتے ہیں 
ومن العلماء من کان علی سیرۃ علیہ السلام من العلماء والخلفاء کاالائمہ الاربعہ المتبوعین المجتھدین و الائمہ العادلین کعمر بن عبدلعزیز کلھم موارد لھد الحدیث۔ (انجاح الحاجۃ علی ابن ماجہ ص5
ترجمہ:- جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر ہوں ،جیسے چاروں ائمہ اور عادل حکام ، جیسے عمر بن عبدالعزیز سب اس حدیث کے مصداق ہیں ۔
علمائے کرام کے اقوال سے تقلید کا ثبوت
 چوتھی صدی ہجری کے بعد جتنے مستند اور معتبر علمائے کرام گزرے ہیں سب نے تقلید کی ہے اور تقلید کے وجوب کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ بہت سارے اہم ترین علمائے کرام کے اقوال گزشتہ مباحث میں بیان کئے جاچکے ہیں اگر ان تمام علمائے کرام کے اقوال کو جمع کیا جائے تو ایک دفتر بے پایاں ہوجائے۔ یہاں بطور اختصار مزید چند علماء کرام کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں ۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں 
ترجمہ:- عام لوگ اور وہ حضرات جو اجتہاد کے درجے کو نہ پہنچیں ان پر مذاہب مجتہدین میں سے کسی ایک معین کی تقلید واجب ہے ۔ 
(
شرح جمع الجومع بحوالہ خیر التنفید ،،ص،،175
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں 
ترجمہ:- اس میں شک نہیں کہ ان چاروں مذاہب کی اب تک تقلید کے جائز ہونے پر تمام امت کا یا جنکی بات کا اعتبار کیا جاسکتا ہے اجماع ہے اسلئے کہ یہ مدون ہوکر تحریری صورت میں موجود ہیں اور اس میں جو مصلحتیں ہیں وہ بھی مخفی نہیں ، خصوصاً اس زمانے میں جبکہ ہمتیں بہت ہی زیادہ پست ہوچکی ہیں اور ہر صاحب رائے اپنی ہی رائے پر نازاں ہے ۔ 
(حجۃ اللہ البالغہ،، ص،،154،،ج،،1،، طبع مصر
بحر العلوم مولانا عبدالعلی فرنگی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 
وعلیہ بنا ابن الصلاح منع التقلید غیر الائمہ الاربعہ ۔ 
ترجمہ:- اسی بناء پر ابن صلاح رحمہ اللہ نے ائمہ اربعہ کے سوا دوسروں کی تقلید سے ممانعت فرمائی ہے ۔ 
( فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت،،ص،،269
علامہ شیخ احمد المعروف بہ ملا جیون صاحب فرماتے ہیں۔ 
اس پر اجماع ہوگیا ہے کہ اتباع صرف اائمہ اربعہ ہی کی جائز ہے۔۔ ان حضرات کے بعد پیدہ ہونے والے ان کے مسلک کے مخالف مجتہد کی تقلید درست نہیں 
(
تفسیرات احمدیہ،،ص،،346
انشاء اللہ یہ مختصر مباحث مسئلہ تقلید کی حقیقت سمجھنے میں مفید ہوں گے۔ اللہ تعالٰی ہم سب لوگوں کو حق سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ 
آمین 
اب "آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے جو تقلید سے متعلق سوالوں کے جوابات دیئے ہیں ان کو نقل کیا جاتا ہے۔
کیا ائمہ اربعہ، پیغمبروں کے درجہ کے برابر ہیں؟
س…کیا پیغمبروں کے درجے کے برابر ہونے کے لئے کم سے کم امام (امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی وغیرہ) کے برابر ہونا ضروری ہے؟
ج… امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی تو امتی ہیں، اور کوئی امتی کسی نبی کی خاک پا کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
کیا کسی ایک فقہ کو ماننا ضروری ہے؟
س… کیا اسلام میں کسی ایک فقہ کو ماننا اور اس پر عمل کرنا لازمی ہے؟ یا اپنی عقل سے سوچ کر جس امام کی جو بات زیادہ مناسب لگے اس پر عمل کرنا جائز ہے؟
ج… ایک فقہ کی پابندی واجب ہے، ورنہ آدمی خودرائی و خودغرضی کا شکار ہوسکتا ہے۔
کسی ایک امام کی تقلید کیوں؟
س… جب چاروں امام، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل برحق ہیں تو پھر ہمیں کسی ایک کی تقلید کرنا کیوں ضروری ہے؟ ان چاروں سے پہلے لوگ کن کی تقلید کرتے تھے؟
ج… جب چاروں امام برحق ہیں تو کسی ایک کی تقلید حق ہی کی تقلید ہوگی، چونکہ بیک وقت سب کی تقلید ممکن نہیں لامحالہ ایک کی لازمی ہوگی۔
  دوم:…تقلید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گمراہ ہوکر اتباعِ ہویٰ کا شکار نہ ہوجائے جبکہ ائمہ عظام سے پہلے کا دور خیرالقرون کا دور تھا، وہاں لوگ اپنی مرضی چلانے کے بجائے صحابہ کرام سے پوچھ لیتے تھے۔
شرعاً جائز یا ناجائز کام میں ائمہ کا اختلاف کیوں؟
س…اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں کام فلاں امام کے نزدیک جائز ہے، لیکن فلاں کے نزدیک جائز نہیں۔ دینی اعتبار سے کوئی بھی کام ہو دو باتیں ہی ممکن ہیں جائز یا ناجائز، لیکن یہاں بات مہمل سی ہے، اصل بات بتائیں، میں نے پہلے بھی کئی ایک سے پوچھا مگر کسی نے مجھے مطمئن نہیں کیا۔
ج… بعض امور کے بارے میں تو قرآن کریم اور حدیث نبوی (صلی اللہ علیٰ صاحبہ وسلم) میں صاف صاف فیصلہ کردیا گیا ہے (اور یہ ہماری شریعت کا بیشتر حصہ ہے) ان امور کے جائز و ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف نہیں، اور بعض امور میں قرآن و سنت کی صراحت نہیں ہوتی، وہاں مجتہدین کو اجتہاد سے کام لے کر اس کے جواز یا عدمِ جواز کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ علم و فہم اور قوتِ اجتہاد میں فرق ایک طبعی اور فطری چیز ہے، اس لئے ان کے اجتہادی فیصلوں میں اختلاف بھی ہے، اور یہ ایک فطری چیز ہے، اس کو چھوٹی سی دو مثالوں سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
  ا:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک مہم پر روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ عصر کی نماز فلاں جگہ جاکر پڑھنا۔ نماز عصر کا وقت وہاں پہنچنے سے پہلے ختم ہونے لگا تو صحابہ کی دو جماعتیں ہوگئیں، ایک نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر نمازِ عصر پڑھنے کا حکم فرمایا ہے، اس لئے خواہ نماز قضا ہوجائے مگر وہاں پہنچ کر ہی پڑھیں گے، دوسرے فریق نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشائے مبارک تو یہ تھا کہ ہم غروب سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جائیں، جب نہیں پہنچ سکے تو نماز قضا کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
  بعد میں یہ قصہ بارگاہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا تو آپ نے دونوں کی تصویب فرمائی اور کسی پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔ دونوں نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق منشائے نبوی کی تعمیل کی (صلی اللہ علیہ وسلم)، اگرچہ ان کے درمیان جواز و عدمِ جواز کا اختلاف بھی ہوا۔ اسی طرح تمام مجتہدین اپنی اجتہادی صلاحیتوں کے مطابق منشائے شریعت ہی کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے درمیان اختلاف بھی رونما ہوجاتا ہے، اور اس اختلاف کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ برداشت فرمایا، بلکہ اس کو رحمت فرمایا، اور اس ناکارہ کو اس اختلاف کا رحمت ہونا اس طرح کھلی آنکھوں نظر آتا ہے جیسے آفتاب۔
  دوسری مثال:…ہمیں روز مرہ پیش آتی ہے کہ ایک ملزم کی گرفتاری کو ایک عدالت جائز قرار دیتی ہے اور دوسری ناجائز، قانون کی کتاب دونوں کے سامنے ایک ہی ہے، مگر اس خاص واقعہ پر قانون کے انطباق میں اختلاف ہوتا ہے، اور آج تک کسی نے اس اختلاف کو “مہمل بات” قرار نہیں دیا۔ چاروں ائمہ اجتہاد ہمارے دین کے ہائی کورٹ ہیں، جب کوئی متنازعہ فیہ مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوتا ہے تو کتاب و سنت کے دلائل پر غور کرنے کے بعد وہ اس کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ ایک کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ جائز ہے، دوسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ ناجائز ہے، اور تیسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ مکروہ ہے، اور چونکہ سب کا فیصلہ اس امر کے قانونی نظائر اور کتاب و سنت کے دلائل پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے سب کا فیصلہ لائق احترام ہے، گو عمل کے لئے ایک ہی جانب کو اختیار کرنا پڑے گا۔ یہ چند حروف قلم روک کر لکھے ہیں، زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں، ورنہ یہ مستقل مقالے کا موضوع ہے۔
کسی ایک فقہ کی پابندی عام آدمی کے لئے ضروری ہےمجتہد کے لئے نہیں.
س… کیا ہم پر ایک فقہ کی پابندی واجب ہے؟ کیا فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ مالکی، فقہ حنبلی یہ سب اسلام ہیں؟ حق تو صرف ایک ہوتا ہے؟
  کیا آپ کے ائمہ نے فقہ کو واجب قرار دیا ہے؟ امام شافعی نے امام ابوحنیفہ کے فقہ کی پابندی کیوں نہیں کی؟ ایک واجب چھوڑ کر گناہ گار ہوئے اور یہی نہیں بلکہ ایک نئی فقہ پیش کردی (نعوذ باللہ)۔
ج… ایک مسلمان کے لئے خدا و رسول کے احکام کی پابندی لازم ہے۔ جو قرآن کریم اور حدیثِ نبوی سے معلوم ہوں گے، اور علم احکام کے لئے اجتہاد کی ضرورت ہوگی، اور صلاحیتِ اجتہاد کے لحاظ سے اہل علم کی دو قسمیں ہیں: مجتہد اور غیرمجتہد۔ مجتہد کو اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرنا لازم ہے اور غیرمجتہد کے لئے کسی مجتہد کی طرف رجوع کرنا ہے۔
  لقولہ تعالیٰ: “فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔”                                    (النحل:۴۳)
  ولقولہ علیہ السلام: “الا سألوا اذ لم یعلموا فانما شفاء العي السوٴال۔”             (ابوداوٴد ج:۱ ص:۴۹)
  ائمہ اربعہ مجتہد تھے، عوام الناس قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے لئے ان مجتہدین سے رجوع کرتے ہیں، اور جو حضرات خود مجتہد ہوں ان کو کسی مجتہد سے رجوع کرنا نہ صرف غیرضروری بلکہ جائز بھی نہیں۔ اور کسی معین مجتہد سے رجوع اس لئے لازم ہے تاکہ قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے بجائے خواہش نفس کی پیروی نہ شروع ہوجائے کہ جو مسئلہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھا وہ لے لیا۔ آنجناب اگر خود اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں تو اپنے اجتہاد پر عمل فرمائیں، میں نے جو لکھا وہ غیرمجتہد لوگوں کے بارے میں لکھا ہے۔
کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے؟
س… علماء کرام سے سنتے آئے ہیں کہ تیسری صدی کے بعد سے اجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اس کے بعد پیش آنے والے مسائل کے حل کی کیا صورت ہے؟
ج… چوتھی صدی کے بعد اجتہادِ مطلق کا دروازہ بند ہوا ہے، یعنی اس کے بعد کوئی مجتہدِ مطلق پیدا نہیں ہوا، جہاں تک نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کا تعلق ہے ان پر ائمہ مجتہدین کے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں غور کیا جائے گا اور اس کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔
  اجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کا یہ مطلب نہیں کہ چوتھی صدی کے بعد اجتہاد ممنوع قرار دے دیا گیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ اجتہادِ مطلق کے لئے جس علم و فہم، جس بصیرت و ادراک اور جس ورع و تقویٰ کی ضرورت ہے وہ معیار ختم ہوگیا اب اس درجہ کا کوئی آدمی نہیں ہوا جو اجتہادِ مطلق کی مسند پر قدم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، شاید اس کی حکمت یہ تھی کہ اجتہاد سے جو کچھ مقصود تھا، یعنی قرآن و سنت سے شرعی مسائل کا استنباط وہ اصولاً و فروعاً مکمل ہوچکا تھا، اس لئے اب اس کی ضرورت باقی نہ تھی، ادھر اگر یہ دروازہ ہمیشہ کو کھلا رہتا تو امت کی اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، والله اعلم!
چاروں اماموں کی بیک وقت تقلید
س…عصر حاضر کے ایک مشہور واعظ ․․․․․․․․․․․․․․ فرماتے ہیں کہ وہ کسی ایک فقہ کے مقلد نہیں، بلکہ وہ پانچ ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری) کی پیروی کرتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بیک وقت ایک سے زائد فقہوں کی پیروی کی جاسکتی ہے؟ انسان حسبِ منشا کسی بھی فقہ کے فیصلہ کو اپناسکتا ہے؟ کیا یہ عمل کلی مقصد شریعت کے منافی نہیں؟
ج… مسائل کی دو قسمیں ہیں: ایک تو وہ مسائل جو تمام فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہیں، ان میں تو ظاہر ہے کہ کسی ایک مسلک کی پیروی کا سوال ہی نہیں۔ دوسری قسم ان مسائل کی ہے جن میں فقہاء کا اجتہادی اختلاف ہے، ان میں بیک وقت سب کی پیروی تو ہو نہیں سکتی، ایک ہی کی پیروی ہوسکتی ہے، اور جس فقیہ کی پیروی کی جائے اس مسلک کے تمام شروط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ تمام مسائل میں ایک ہی فقہ کی پیروی کی جائے، اس میں سہولت بھی ہے، یکسوئی بھی ہے اور نفس کی بے قیدی سے امن بھی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک مسئلہ میں ایک فقیہ کی پیروی کرلی اور دوسرے مسئلہ میں دوسرے فقیہ کی، اس میں چند خطرات ہیں، ایک یہ کہ بعض اوقات ایسی صورت پیدا ہوجائے گی کہ اس کا عمل تمام فقہاء کے نزدیک غلط ہوگا، مثلاً: کوئی شخص یہ خیال کرے کہ چونکہ گاوٴں میں امام شافعی کے نزدیک جمعہ جائز ہے، اس لئے میں ان کے مسلک پر جمعہ پڑھتا ہوں، حالانکہ امام شافعی کے مسلک پر نماز صحیح ہونے کے لئے بعض شرائط ایسی ہیں جن کا اس کو علم نہیں، نہ اس نے ان شرائط کو ملحوظ رکھا، تو اس کا جمعہ نہ تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہوا اور نہ امام شافعی کے نزدیک ہوا۔
  دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اس صورت میں نفس بے قید ہوجائے گا، جس مسلک کا جو مسئلہ اس کی پسند اور خواہش کے موافق ہوگا اس کو اختیار کرلیا کرے گا، یہ اتباعِ ہویٰ و نفس ہے۔
  تیسرا خطرہ یہ کہ بعض اوقات اس کو دو مسلکوں میں سے ایک کے اختیار کرنے میں تردد پیدا ہوجائے گا اور چونکہ خود علم نہیں رکھتا اس لئے کسی ایک مسلک کو ترجیح دینا مشکل ہوجائے گا، اس لئے ہم جیسے عامیوں کے لئے سلامتی اسی میں ہے کہ وہ ایک مسلک کو اختیار کریں اور یہ اعتقاد رکھیں کہ یہ تمام فقہی مسلک دریائے شریعت سے نکلی ہوئی نہریں ہیں۔
قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے چاروں فقہوں خصوصاً حنفی فقہ پر زور کیوں؟
س… کوئی شخص فقہ حنفی سے تعلق رکھتا ہے لیکن اپنا مسئلہ فقہ مالکی سے حل کرانا چاہتا ہے، تو آپ اس کو روک دیتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ تو یہ ہو کہ فقہ حنفی میں ہوتے ہوئے فقہ مالکی کی طرف اس لئے رجوع کر رہا ہو کہ اس میں نرمی ہو، تو اسی دائرہ (فقہ حنفی) میں رہتے ہوئے اسے ناجائز کہہ سکتے ہیں۔ لیکن قطع نظر ان ساری باتوں کے میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر ان ائمہ اربعہ کی فقہ کو مذہب کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے کہ اس وقت چاروں اماموں کے ماننے والوں کے مابین اس قدر دوری ہے جبکہ ایک اچھے مسلمان کو ہر وہ بات جو کتاب و سنت کے نزدیک حقیقت ہو ماننی چاہئے اور فقہ کی اہمیت بہت زیادہ کردی گئی حالانکہ اللہ اور رسول کی اطاعت ضروری ہے، اس واضح حکم کے بعد آپ بتائیں کہ کسی امام، مجدد، ظلی یا بروزی، نبی کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟
ج… محترم و مکرم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
  مجھے جناب کے گرامی نامہ سے خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنی تمام الجھنیں بے کم و کاست پوری بے تکلفی سے بیان کردیں، تفصیل سے لکھنے کی افسوس ہے کہ فرصت نہیں، اگر جناب سے ملاقات ہوجاتی تو زبانی معروضات پیش کرنا زیادہ آسان ہوتا، بہرحال چند امور عرض کرتا ہوں:
  ۱:…دینِ اسلام کے بہت سے امور تو ایسے ہیں جن میں نہ کسی کا اختلاف ہے نہ اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن بہت سے امور ایسے ہیں کہ ان کا حکم صاف قرآن کریم یا حدیث نبوی میں مذکور نہیں، ایسے امور کا شرعی حکم دریافت کرنے کے لئے گہرے علم، وسیع نظر اور اعلیٰ درجہ کی دیانت و امانت درکار ہے۔ یہ چاروں بزرگ ان اوصاف میں پوری امت کے نزدیک معروف و مسلّم تھے، اس لئے ان کے فیصلوں کو بحیثیت شارحِ قانون کے تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ عدالتِ عالیہ کی تشریح قانون مستند ہوتی ہے، اس لئے یہ تصور صحیح نہیں کہ لوگ اللہ و رسول کی اطاعت کے بجائے ان بزرگوں کی اطاعت کرتے ہیں، صحیح تعبیر یہ ہے کہ اللہ و رسول کے فرمودات کی جو تشریح ان بزرگوں نے فرمائی اس کو مستند سمجھتے ہیں، قانون کی تشریح کو کوئی عاقل قانون سے انحراف نہیں سمجھا کرتا، اس لئے چاروں فقہ قرآن و سنت ہی سے مأخوذ ہیں، اور ان کی پیروی قرآن و سنت کی پیروی ہے۔
  ۲:…رہا یہ کہ جب چاروں تشریحات مستند ہیں تو صرف فقہ حنفی ہی کو کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری فقہوں کی پوری تفصیلات ہمارے سامنے نہیں، نہ ساری کتابیں موجود ہیں، اس لئے دوسری فقہ کے ماہرین سے رجوع کا مشورہ تو دیا جاسکتا ہے مگر خود ایسی جرأت خلافِ احتیاط ہے۔
  دوم:… یہ کہ یہاں اکثر لوگ فقہ حنفی سے وابستہ ہیں، پس اگر کوئی شخص دوسری فقہ سے رجوع کرے گا تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ سہولت پسندی کی خاطر ایسا کرے گا، نہ کہ خدا اور رسول کی اطاعت کے لئے۔
ایک دوسرے کے مسلک پر عمل کرنا
س … اگر کوئی شخص اپنے مسلک کے علاوہ کسی مسلک کی پیروی ایک یا ایک سے زائد مسائل میں کرے تو کیا اس کی اجازت ہے؟ یعنی اگر کوئی شافعی، امام ابوحنیفہ کے مسئلہ پر عمل کرے تو کیا اس کی اجازت ہے؟
ج… اپنے امام کے مسلک کو چھوڑ کر دوسرے مسلک پر عمل کرنا دو شرطوں کے ساتھ صحیح ہے: ایک یہ ہے کہ اس کا منشا ہوائے نفس نہ ہو بلکہ دوسرا مسلک دلیل سے اقویٰ (زیادہ قوی) اور احوط (زیادہ احتیاط والا) نظر آئے۔ دوم یہ کہ دو مسلکوں کو گڈمڈ نہ کرے، جس کو فقہاء کی اصطلاح میں “تلفیق” کہا جاتا ہے، بلکہ جس مسلک پر عمل کرے اس مسلک کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھے۔

Thursday, 18 February 2016

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا ۔۔تا۔۔وھم فیھا خلدون

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا ۔۔تا۔۔وھم فیھا خلدون
 فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین۔ اور اگر تم تنہا اس کے مثل لانے پر قادر نہیں تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم سوائے خدا تعالیٰ کے اپنے تمام اعوان وانصار کو بلا لو اگر تم اپنے اس اعتقاد میں سچے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں تاکہ وہ تمہاری اس کام میں مدد کرسکیں اور اس مشکل کو حل کرسکیں اور سب مل کر قرآن کے ہم پلہ کلام لاسکیں۔ پس اگر تم سب مل کر بھی ایسا نہ کرسکو۔ یعنی اس کے مثل کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی نہ لاسکو اور ہم پیشینگوئی کیے دیتے ہیں کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے۔ قرآن کا ایک اعجاز تو یہ تھا کہ کوئی اس کے مثل نہیں لاسکتا۔ دوسرا اعجاز یہ ہے کہ پہلے ہی پیشینگوئی کردی گئی اور غیب کی خبر دے دی گئی کہ قیامت تک کوئی شخص اس کے مثل نہ لاسکے گا۔ بحمد اللہ ساڑھے تیرہ سو برس گزر گئے اور کوئی شخص اس کے مثل نہ لا سکا۔ بالفرض اگر کوئی شخص قرآن کا معارضہ کرتا تو ضرور نقل ہوتا اس لیے کہ ہر زمانہ میں قرآن کے مخالفوں کا عدد ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔ اگر کسی نے قرآن کریم کا معارضہ کیا ہوتا تو اس کا مخفی رہنا ناممکن تھا۔
 خلاصہ یہ کہ اگر تم اس کا مثل نہ لا سکو اور ہرگز نہ لا سکو گے تو پھر میری نبوت کی تصدیق کرو۔ اور اسکو کلام ربانی اور وحی رحمانی سمجھو۔ تم ذرا تو غور کرو کہ ایک یتیم بیکس اور امی جس کا سارا عرب مخالف اور دشمن ہو وہ ایسا عظیم الشان دعویٰ بغیر تائید الٰہی کیسے کرسکتا ہے کہ تمام جن اور انس بھی اس کا مثل نہیں لا سکتے اور اگر تم اس کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر اس آگ سے ڈرو جسکا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ اس جگہ پتھر سے یا تو عام پتھر مراد ہیں یا گندک کے پتھر مراد ہیں یا وہ بت مراد ہیں جن کو کافر پوجتے تھے۔ کما قال تعالیٰ۔ انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم "یعنی تم اور وہ بت جن کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہیں " جو دراصل خاص کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ البتہ گناہوں کا میل کچیل صاف کرنے کے لیے گنہگار مسلمانوں کو چند روز کے لیے جہنم میں رکھا جائیگا۔ پھر جو اصل ذات ہی سے نجاست اور گندگی ہیں وہ تو دوزخ میں رہ جائیں گے اور جو اصل سے پاک ہیں یعنی مومن ہیں اور گناہوں کی عارضی نجاست ان پر لگ گئی (کما فی حدیث البخاری ان ال مومن لا ینجسوہ پاک صاف ہونے کے بعد نکال لیے جائیں گے۔
 ف : اس آیت سے اور آئندہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوزخ ابھی موجود ہے جو لوگ اس کے قائل ہوئے کہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں بلکہ قیامت کے دن موجود ہوگی۔ صریح غلطی پر ہیں اور یہ قول سراسر آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ علامہ زبیدی اتحاف شرح احیاء ص 221 ج 2 میں فرماتے ہیں کہ اسی پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم (رح) حاوی الارواح الی بلاد الافراح میں فرماتے ہیں۔ جنت تیار کی جا چکی ہے مگر اس میں کچھ خالی میدان ہیں جن میں بندوں کے اعمال صالحہ سے باغات اور محل تیار ہوتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنا کرے اس کے لیے جنت میں ایک محل تیار ہوجاتا ہے یا جو شخص ایک مرتبہ سبحان اللہ ایک مرتبہ الحمدللہ، ایک مرتبہ اللہ اکبر یا ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے۔ تفصیل کسی اور موقعہ پر کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو رسول اللہ کی رسالت میں شک ہے اور ہماری وحی کو انسانی کلام جانتے ہو تو اٹھو اور میدان معارضہ میں آجاؤ۔ مگر ہم پہلے ہی پیشینگوئی کیے دیتے ہیں کہ تم سب مل کر بھی اس کا معارضہ نہیں کرسکتے پس اگر تم معارضہ نہ کرسکو اور تم پر اپنا عجز اور قصور واضح ہوجائے تو بہتر یہی ہے کہ ایمان لے آؤ ورنہ سخت عذاب میں گرفتار ہوگے۔
 ذکر معاد یعنی قیامت کا بیان
 بشارت و مومنین صالحین
 قال تعالیٰ وبشر الذین امنوا۔۔۔ الی۔۔۔ وھم فیھا خلدون
 ربط : حق تعالیٰ شانہ کی یہ سنت ہے کہ جب کبھی ترغیب اور اوعدہ اور بشارت کا ذکر فرماتے ہیں تو اس کے ساتھ ترہیب اور وعید اور انذار کو بھی ذکر فرماتے ہیں تاکہ خوف اور جاء سے مل کر ایمان میں ایک اعتدالی کیفیت پیدا ہوجائے اسی سنت کے مطابق حق تعالیٰ نے ان آیات میں جب انذار اور کافروں کی وعید کو ذکر فرمایا تو آئندہ آیات یعنی وبشر الذین آمنوا الایۃ میں مومنین صالحین کے لیے بشارت کا ذکر فرمایا۔ نیز وہ انذار اور تہدید اگرچہ دشمنوں کو ان کی تسلی اور دل تھامنے کے لیے بشارت ذکر فرمائی۔ تاکہ بشارت کی مسرت اور مخاطبت کی لذت سے وہ پریشانی، مبدل بہ شادمانی ہوجائے چنانچہ فرماتے ہیں اور خوشخبری دیدیجئے آپ ان لوگوں کو جو اس کتاب پر ایمان لائے اور اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کی اور اس کتاب کی ہدایت کے مطابق نیک عمل کیے کہ ان کے لیے عجیب قسم کے باغات ہیں۔ ہر ایک کا باغ اس کے ایمان اور عمل صالح کے مطابق ہوگا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی عثمان غنی فرماتے ہیں کہ عمل صالح اس عمل کو کہتے ہیں جو خالص اللہ کے لیے ہو اور ریاء سے بالکلیہ پاک ہو کما قال تعالیٰ فلیعمل عملاً صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا۔ معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ عمل صالح وہ عمل ہے جس میں چار چیزیں جمع ہوں۔
 (1)۔ علم۔ (2) نیت (3) صبر (4) اخلاص (معالم التنزیل) ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بشارت کا پورا استحقاق جب ہے کہ جب ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی ہوں۔ اس آیت میں متعلقات ایمان اور اعمال صالحہ کی تفصیل نہیں فرمائی صرف بالاجمال اتنا کہدیا کہ جو لوگ ایمان دار اور نیک کردار ہوں گے ہم انہیں ان کے وہم وخیال سے بڑھ کر انعام دیں گے۔
 جنت لغۃ میں باغ کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح شریعت میں ایک خاص مکان کا نام ہے جو نشاۃ آخرت میں ہمیشہ کے لیے ابرار ومتقین کو عنایت ہوگا۔ جیسا کہ جہنم اس مخصوص مکان کا نام ہے جس میں کفار کو ہمیشہ کے لیے اور گنہگار مسلمانوں کو چند روز کے لیے رکھا جائیگا۔ جنت اور جہنم پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں اور اس کی حقیقت کی تحقیق کے درپے نہیں۔ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ نے جس قدر جنت اور جہنم کے احوال واوصاف بیان کیے ہیں ان پر ان سے ایک حرف بھی زیادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ عالم غیب میں قیاس نہیں چلتا۔
 تجری من تحتہا الانہر : جن کے نیچے سے نہریں نہایت تیزی سے بہتی ہیں۔
 کلما رزقوا منہا من ثمرۃ رزقا قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل واتوا بہ متشابہا جب کبھی دئیے جائیں گے ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کے لیے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہم پہلے دئیے گئے اور دئیے جائیں گے وہ ایسا پھل کہ جو محض دیکھنے میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ہمرنگ ہوگا۔ مگر ذائقہ میں مختلف ہوگا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) اور عبداللہ بن عباس اور دیگر حضرات صحابہ (رض) سے منقول ہے کہ یہ تشابہ اور تماثل محض لون اور صورت کے اعتبار سے ہوگا۔ مزہ اور لذت میں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہوگا۔ یہ اس لیے ہوگا کہ ہر مرتبہ جدید مسرت اور نئی خوشی حاصل ہو۔ خلاصہ یہ کہ جنت کے میوے شکل اور صورت میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے مگر مزے میں جدا اور مختلف ہونگے۔ اہل جنت جب کسی پھل کو دیکھیں گے تو یہ کہیں گے کہ یہ وہ پہلا ہی پھل ہے۔ مگر جب چکھیں گے تو مزہ اور ہی پائیں گے۔
 ولھم فیہا ازواج مطہرہ اور ان کے لیے وہاں ایسی عورتیں ہونگی جو ہر قسم کی ظاہری اور باطنی گندگی سے پاک ہوں گی۔
 وھم فیھا خالدون۔ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی یہ نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان کو زوال اور فنا نہیں۔ نعمت کتنی ہی عظیم الشان کیوں نہ ہو مگر زوال اور فنا کا اندیشہ اس کو مکدر کردیتا ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے۔
 مرا در منزل جاناں چہ من وعیش چوں ہر دم جرس فریاد می دارد کہ بربندید محملہا
 اس لیے ارشاد ہوا کہ تم مطمئن رہو۔ ہمشہ تم انہیں نعمتوں میں رہو گے تنعم اور لذائذ کا مدار تین چیزوں پر ہے۔ 1۔ عمدہ مکان۔ 2۔ لذیذ کھانے۔ 3۔ حسین وجمیل عورتیں اس لیے حق تعالیٰ شانہ نے جنات تجری من تحتہا الانہار میں عمدہ مکان کا اور کلما رزقوا الخ میں لذیذ کھانوں کا اور ولھم فیہا ازواج مطہرۃ میں حسین وجمیل ازواج کا ذکر فرمایا۔
 ف : انسان کے لیے تین چیزوں کا جاننا ضروری ہے 1۔ کہاں سے آیا ہے۔2۔ اور کہاں رہتا ہے۔ 3۔ اور کہاں جانا ہے۔ الذی خلقکم میں اس طرف اشارہ ہے کہ تم عدم سے آئے ہو اور الذی جعل لکم الارض فراشا الخ۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ چند روز زمین میں قیام ہے اور فاتقوا النار سے اس طرف اشارہ ہے کہ عالم آخرت کو جانا ہے عذاب الٰہی سے بچنے کی کوشش کرو۔

 

Copyright @ 2013 الاسلام.