آیت نمبر 35 تا 39
ربط : پچھلے
سبق میں آپ نے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا امتحان لیا
اس علمی امتحان میں آدم (علیہ السلام) کامیاب ہوگئے اور فرشتے کامیاب نہ ہوسکے۔ تو
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے بغیر
کسی قبل وقال کے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اور ابلیس لعین نے سجدہ کرنے سے
انکار کردیا اور کہا کہ میں اپنے سے گھٹیا اور پسماندہ کو سجدہ کیوں کروں ؟ میں اس
سے بہتر ہوں۔
سلطان محمود غزنوی (رح) کا سبق آموز واقعہ :
مولانا
روم (رح) ایک حکایت بیان کرکے فرماتے ہیں کہ کاش ! ابلیس سلطان محمود غزنوی (رح)
کے غلام ایاز سے ہی سبق سیکھ لیتا۔ مولاناروم (رح) بڑے عجیب قسم کے بزرگ تھے انہوں
نے مثنوی شریف میں کہانیوں کی شکل میں توحید وسنت اخلاص تصوف بہت سمجھایا ہے اور
سلطان محمود غزنوی (رح) خلفائے راشدین (رض) کے زمرہ میں تو نہیں آتا جس طرح سلطان
صلاح الدین ایوبی ، سلطان بایزید یلدرم (ترکی) اور سلطان الپ ارسلان سلجوقی (رح)
خلفائے راشدین (رض) میں سے نہیں تھے مگر بڑے نیک اور مجاہد قسم کے بادشاہ گزرے ہیں۔
سلطان صلاح الدین ایوبی (رح) نے اپنے دور میں یورپ والوں کو لگام ڈال رکھی تھی۔
سلطان
محمود غزنوی (رح) کے دور حکومت میں ایک نوعمر لڑکا جس کا نام ایاز تھا اور یہ بہت
ذہن اور سمجھ دار تھا کو مجلس میں اپنے ساتھ بٹھاتے تھے ۔ اور وزیروں کو مشیروں کو
یہ بات ناگوار گزرتی تھی انہوں نے کہا کہ حضرت یہ چھوٹا سا بچہ آپ کے پاس بیٹھا
رہتا ہے۔ کسی بڑے آدمی کو اپنے پاس بیٹھایا کریں اس وقت تو غزنوی (رح) خاموش رہے۔
مگر
جب انہوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور سومنات کا مندر گرایا اور ہندوستان کے قیمتی
ہیرے اور جواہرات أفغانستان پہنچے ان میں ایک بڑا قیمتی ہیرا تھا اپنے غلام کو
حکم دیا کہ ایک پتھر اور ہتھوڑا لاکر میرے سامنے رکھ دو ۔ غلام نے پتھر اور ہتھوڑا
لاکر رکھ دیا جب مجلس جم گئی تو سلطان محمود غزنوی (رح) نے جیب سے وہ قیمتی ہیرا
نکالا اور ایک وزیر کو کہا کہ اس کو پتھر پر رکھ کر توڑدو اس نے کہا بہت قیمتی ہیرا
ہے اس کو نہیں توڑنا چاہیے ۔ اور نہ توڑا۔ دوسرے وزیر کو کہا اس نے بھی نہ توڑا۔ تیسرے
کو کہا اس نے بھی نہ توڑا۔ الغرض ! وزیروں ، مشیروں میں سے جب کسی نے ہیرے کو نہ
توڑا تو سلطان محمود غزنوی (رح) نے ایاز کو کہا لو بیٹے تم اس ہیرے کو توڑ دو ایاز
نے ہیرے کو پتھر پر رکھ کر ہتھوڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
سلطان
محمود غزنوی (رح) نے ایاز کو کہا بیٹا یہ بڑا قیمتی ہیرا تھا سب مشیروں ، وزیروں
نے توڑنے سے انکار کردیا اور تو نے اس کو کیون توڑدیا ہے ؟ ایاز نے کہا بیشک ہیرا
قیمتی تھا مگر میرے آقا کا حکم اس سے زیادہ قیمتی تھا۔
مولانا
روم (رح) یہ واقعہ نقل کرکے فرماتے ہیں کہ کاش ! کہ ابلیس ایاز سے ہی سبق سیکھ لیتا
ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ تو بہتر ہے۔ اگرچہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ
آگ سے خاک بہتر ہے مگر یہ تو دیکھتا کہ تجھے حکم کون دے رہا ہے مگر یہ ساری باتیں
سمجھ سے تعلق رکھتی ہیں ۔
وقلنا
یٰۤادم اسکن انت اور کہا ہم نے اے آدم ! رہ تو وزوجک الجنۃ اور تیری بیوی (حواعلیہ
السلام ) جنت میں ۔
جنت سے مراد : جنت سے مراد اصل جنت ہی ہے نہ کہ ملک
اردن کا باغ جیسا کہ بعض ملحدوں نے کہا ہے کہ اردن میں ایک باغ تھا اس میں ان کو
بھیج دیا یہ سب خرافات ہیں بلکہ وہی جنت ہے جس میں حساب کے بعد مومنوں نے داخل
ہونا ہے۔ اور وہ آسمانوں کی طرف ہے جس کے مقابلہ میں دوزخ ہے۔ جس میں کافروں اور
مشرکوں نے داخل ہونا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے
یہی سمجھی ہے۔
وکلا
منھا رغدًا اور کھاؤ تم دونوں اس جنت سے وسعت اور کشادگی سے حیث شئتما جس جگہ سے
چاہو۔ اور جو چاہو کھاؤ، پیو کوئی پابندی نہیں ہے مگر ولاتقربا ھٰذا الشجرۃ اور قریب
نہ جانا اس درخت کے۔ کیونکہ اگر تم نے اس درخت کا پھل کھایا تو ۔
شجر ممنوعہ کون سا تھا ؟ فتکونا من الظمین پس ہوجاؤگے ناانصافوں میں سے۔ یہ کس چیز کا درخت
تھا تفسیروں میں مختلف اقوال منقول ہیں ۔
1 ۔
انگور اور کھجور کا ذکر بھی ہے۔
2 ۔
بادام اور املوک کا ذکر بھی ہے۔
3 ۔ لیکن
اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ گندم کا درخت تھا۔
اب
سوال یہ ہے کہ گندم کا تودرخت نہیں ہوتا بلکہ پودہ ہوتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ جنت
کا معاملہ الگ ہے۔ دنیا میں جو پودے ہیں وہ جنت میں درخت ہوں گے ان کو اس درخت سے
کھانے پر ابلیس نے اسایا تھا ۔ قرآن کریم میں ہے۔۔۔
وقاسمھما
انی لکما لمن الناصحین ابلیس لعین نے دونوں کے سامنے قسم اٹھائی کہ میں تمہارا بڑا
خیر خواہ ہوں اور تمہاری بھلائی کی بات تم سے کر رہاہوں۔ وہ یہ کہ اس درخت سے تمہیں
اللہ تعالیٰ نے اس لئے منع فرمایا ہے اگر مت اس درخت سے کھالو گے تو ہمیشہ ہمیشہ
جنت میں رہو گے الٹی گنگا چلائی۔
حضرت
آدم (علیہ السلام) نے خیال فرمایا کہ ہے تو ابلیس مگر رب تعالیٰ کی قسم اٹھا کر تو
جھوٹ نہیں بولتا ہوگا۔ پھر حضرت حوا (علیہ السلام) نے بھی اکسایا۔ بخاری شریف میں
حدیث آتی ہے کہ ” اگر حوا (علیہ السلام) خیانت نہ کرتیں تو کوئی عورت خیانت نہ
کرتی “۔ بہرحال دنیا میں آنا مقدر تھا۔
فلما
ذاقا الشجرۃ پس جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو چکھا بدت لھما سواتھما کھل گے ستران
کے وطفقا یخصفٰن علیھما من ورق الجنۃ (اعراف) وہ لگے اپنے اوپر جوڑ نے بہشت کے پتے
کھانا تو دور کی بات ہے دونوں نے چکھا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا
کہ ان دونوں کے کپڑے اتاردو۔ دونوں ننگ دھڑنگ ہوگئے اللہ تعالیٰ کی شان کہ درخت بھی
بگڑ گئے ستر پوشی کے لئے پتے پتے کے لئے جس درخت کے قریب جاتے اس کی ٹہنیاں اوپر
ہوجاتیں ۔ بالاۤخر انجیر کے درخت نے قربانی دی کہ پتے توڑدیئے ۔ اب انہوں نے پتوں
کے ساتھ پتے جوڑ کر آگے پیچھے رکھ کر ستر ڈھانپا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا
حضرت آدم (علیہ السلام) کا اعتراف وتوبہ : الم انھکما عن تلکما الشجرۃ میں نے تمہیں اس درخت
کے قریب جانے سے منع نہیں کیا تھا واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبین اور تمہیں
کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے رب
تعالیٰ کے سامنے کوئی حجت بازی نہیں کی۔ حالانکہ اگر منطق لڑاتے تو کہہ سکتے تھے
کہ اے پروردگار ! ابلیس سے پوچھو اس نے جھوٹی قسمیں کھا کر کیوں دھوکہ دیا ہے ؟
اصل مجرم تو وہ ہے اور بھی بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر آدم (علیہ السلام) نے سوچا کہ
تمام چکر کاٹنے کے بعد بھی عاجزی کا اقرار کرنا ہے۔ تو شروع سے ہی تسلیم کرو۔ قیل
وقال کی کیا ضرورت ہے ؟ اس سے انسان کی شرافت کا پتہ چلتا ہے۔۔۔
قالا
ربنا ظمناانفسنا وان لم تغفرلنا وتر حمنا لنکونن من الخٰسرین دونوں نے کہ اے ہمارے
پروردگار ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ تو ہمیں معاف کردے تو اگر ہمیں معاف
نہیں کرے گا تو ہم کس سے معافی معانگیں گے تو اگر ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم
خسارے میں ہوں گے یہی انسان کی شرافت ہے کہ رب تعالیٰ کے حکم کے سامنے اکڑتا نہیں
ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آدم (علیہ السلام) سے یہ خطاء کیوں ہوئی کہ اس درخت کا پھل
کھالیا ؟۔
1 ۔ امام بغویرحمۃ اللہ علیہ بڑے مفسر ہیں وہ
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا لاتقرباھٰذہ الشجرۃ اس درخت کے قریب نہ
جانا تو جس درخت کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا انہوں نے وہ مخصوص
درخت سمجھا اور اس کے قریب نہیں گئے ۔ اس نوع کے دوسرے درخت سے کھالیا یہ غلطی
ہوگئی۔
2 ۔ دوسری وجہیہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ
السلام) نے اس نہی کو نہی تحریمی نہیں سمجھا بلکہ تنز یہی سمجھا اور نہی تنز یہی
کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بچنا بہتر ہے اگر لو تو گناہ نہیں ہے۔
3 ۔ تیسری وجہیہ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان کی قسم
سے مغالطہ ہوا کہ یہ جو قسم اٹھا کر کہہ رہا ہے کہ تم کھالو۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ
نے پہلا حکم اٹھالیا ہے اور ابلس کو اس حکم کے منسوخ ہونے کا علم ہوگیا ہے۔ بہرحال
کچھ بھی ہوا ہو یہ مقدر تھا کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) نے زمین
پر اترنا تھا ۔ سواتاردیئے گئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔
فازلھما
الشیطٰن عنھا پس پھسلایا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت سے۔ نتیجہ یہ نکلا فاخر
جھما پس نکالا ان دونوں کو مما
کانا فیہ ان خوشیوں سے جن میں وہ تھے وقلنا اھبطوا
اور کہا ہم نے اتر جاؤ تم بعضکم لبعض عدو بعض تمہارے دوسرے بعض کے لئے دشمن ہوں گے۔
یعنی تمہاری نسل میں ایک دوسرے کی دشمنی چلے گی۔ یہ بات سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
آج دنیا میں انسان ایک دوسرے کی کتنی گردنیں کاٹ رہے ہیں شمار سے باہر ہیں ۔
حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) کے اترنے کی جگہیں :
کہتے
ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو سری لنکا کے جزیرہ سر اندیپ میں اتارا گیا اور حوا علیہماالسلام
کو سرزمین عرب میں دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ عرفات کے میدان میں
دونوں کی ملاقات ہوگئی۔
” عرفات “ کا معنی :” عرفات “ کو عرفات اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ عرفات کا معنی ہے ” شناخت کی جگہ “۔ حضرت
آدم اور حوا (علیہما السلام) نے ایک دوسرے کی اس جگہ شناخت کی تھی۔ فرمایا۔۔۔
ولکم
فی الارض مستقر اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہے ومتاع الیٰ
حین اور فائدہ اٹھانا ہے ایک مدت تک ۔ ایک عرصہ تک زمین میں رہو۔ پھر دنیا سے جانا
ہے۔
فتلقی
اٰدم من ربہ کلمٰت پس حاصل کئے آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند کلمات۔ وہ
کلمات یہ ہیں ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وتر حمنا لنکونن من الخٰسرین یہ
آٹھویں پارے میں موجود ہیں ۔
فتاب
علیہ پس اللہ تعالیٰ نے رجوع کیا ان پر ۔ یعنی ان کی توبہ قبول فرمائی۔ انہ ھو
التواب الرحیم بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔ قلنا اھبطوا منھا جمیعا
کہا تم نے اتروتم یہاں سے سارے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) حوا علیہماالسلام اور ان
کے ضمن میں جو ان کی اولاد ہے وہ تمام کے تمام سب کو خطاب ہے۔
فاما یاتینکم
منی ھدی پس اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت ۔ امااصل میں ان ما ” ان “ شرطیہ ہے اگر
ہدایت آئے ۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر بھیجنے اور کتابیں نازل
کرنے پر مجبور نہیں تھا۔ اگر نہ بھیجتا تو اس سے کون پوچھ سکتا ہے اگر ضرورت ہوتی
تو تمہاری طرف پیغمبروں اور کتابوں کی شکل میں ہدایت بھیجوں گا۔۔۔
خوف/حزن میں فرق : فمن تبع ھدای پس جس نے پیروی کی
میری ہدایت کی فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون پس ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غم کریں
گے۔ آئندہ کسی شئ کا خدشہ ہو تو اس کو خوف کہتے ہیں۔ اور گزشتہ کسی چیزپر افسوس ہو
تو اس کو غم کہتے ہیں۔ جب میں داخل ہونے کے بعد نہ تو آئندہ کسی قسم کا خوف ہوگا
اور نہ گزشتہ زندگی پر کسی قسم کی پریشانی ہوگی کیونکہ نیکیاں کرکے گئے ہوں گے۔
سوال : یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت
والے دن تو اتنا ہولناک منظر ہوگا کہ سب کے طوطے اڑے ہوں گے ۔ یہاں تک کہ انبیاء
کرام (علیہم السلام) بھی رب سلم رب سلم کہہ رہے ہوں گے۔ اے رب سلامتی فرما، اے رب
سلامتی فرما۔ تو پھر ولا خوف کا مطلب کیا ہوگا ؟
جواب : اس کے
جواب میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رح) فرماتے ہیں کہ خوف دوطرح کا ہوتا
ہے۔۔۔
1 ۔
کبھی تو خوف کا باعث ڈرنے والے میں پایا جاتا ہے جیسے مجرم بادشاہی جو بادشاہ سے
ڈرتا ہے۔ اس خوف کا سبب مجرم
ہے جو مجرم کی طرف رجوع کرتا ہے۔
2 ۔
اور کبھی خوف کا سبب مخوف عنہ یعنی جس سے ڈرتے ہیں اس میں کوئی امر ہوتا ہے مثلاً
کوئی شخص صاحب جاہ جلال بادشاہ کے سامنے ہو تو اس کے خوف زدہ ہونے کی وجہ نہیں کہ
اس نے بادشاہ کا کوئی جرم کیا ہے بلکہ اس کا قہروجلال سلطانی اوعر ہیبت خوف کا سبب
ہے۔
آیت
کریمہ میں پہلی قسم کی فنی ہوتی ہے جو خوف کسی جرم کی وجہ سے ہو۔ یہ خوف ان پر نہیں
ہوگا اور نیک لوگوں پر جو خوف ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کا ہوگا۔ لایحزنھم
الفزع الالبر اور لوگوں پر اعمال کی وجہ سے جو گھبراہٹ ہوگی نیک لوگوں پر وہ نہیں
ہوگی۔
والذین
کفروا اور جنہوں نے کفر کیا وکذبواباٰیتناۤ اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو اولئک اصحٰب
النار وہ دوزخ والے ہیں ھم فیھا خٰلدون اس دوزخ میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے۔ اور جلیں
گے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
