Wednesday, 17 August 2016

آیت نمبر 35 تا 39

 آیت نمبر 35 تا 39
ربط :  پچھلے سبق میں آپ نے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا امتحان لیا اس علمی امتحان میں آدم (علیہ السلام) کامیاب ہوگئے اور فرشتے کامیاب نہ ہوسکے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ فرشتوں نے بغیر کسی قبل وقال کے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا اور ابلیس لعین نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں اپنے سے گھٹیا اور پسماندہ کو سجدہ کیوں کروں ؟ میں اس سے بہتر ہوں۔

سلطان محمود غزنوی (رح) کا سبق آموز واقعہ :

       مولانا روم (رح) ایک حکایت بیان کرکے فرماتے ہیں کہ کاش ! ابلیس سلطان محمود غزنوی (رح) کے غلام ایاز سے ہی سبق سیکھ لیتا۔ مولاناروم (رح) بڑے عجیب قسم کے بزرگ تھے انہوں نے مثنوی شریف میں کہانیوں کی شکل میں توحید وسنت اخلاص تصوف بہت سمجھایا ہے اور سلطان محمود غزنوی (رح) خلفائے راشدین (رض) کے زمرہ میں تو نہیں آتا جس طرح سلطان صلاح الدین ایوبی ، سلطان بایزید یلدرم (ترکی) اور سلطان الپ ارسلان سلجوقی (رح) خلفائے راشدین (رض) میں سے نہیں تھے مگر بڑے نیک اور مجاہد قسم کے بادشاہ گزرے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی (رح) نے اپنے دور میں یورپ والوں کو لگام ڈال رکھی تھی۔

       سلطان محمود غزنوی (رح) کے دور حکومت میں ایک نوعمر لڑکا جس کا نام ایاز تھا اور یہ بہت ذہن اور سمجھ دار تھا کو مجلس میں اپنے ساتھ بٹھاتے تھے ۔ اور وزیروں کو مشیروں کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی انہوں نے کہا کہ حضرت یہ چھوٹا سا بچہ آپ کے پاس بیٹھا رہتا ہے۔ کسی بڑے آدمی کو اپنے پاس بیٹھایا کریں اس وقت تو غزنوی (رح) خاموش رہے۔

       مگر جب انہوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور سومنات کا مندر گرایا اور ہندوستان کے قیمتی ہیرے اور جواہرات أفغانستان پہنچے ان میں ایک بڑا قیمتی ہیرا تھا اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک پتھر اور ہتھوڑا لاکر میرے سامنے رکھ دو ۔ غلام نے پتھر اور ہتھوڑا لاکر رکھ دیا جب مجلس جم گئی تو سلطان محمود غزنوی (رح) نے جیب سے وہ قیمتی ہیرا نکالا اور ایک وزیر کو کہا کہ اس کو پتھر پر رکھ کر توڑدو اس نے کہا بہت قیمتی ہیرا ہے اس کو نہیں توڑنا چاہیے ۔ اور نہ توڑا۔ دوسرے وزیر کو کہا اس نے بھی نہ توڑا۔ تیسرے کو کہا اس نے بھی نہ توڑا۔ الغرض ! وزیروں ، مشیروں میں سے جب کسی نے ہیرے کو نہ توڑا تو سلطان محمود غزنوی (رح) نے ایاز کو کہا لو بیٹے تم اس ہیرے کو توڑ دو ایاز نے ہیرے کو پتھر پر رکھ کر ہتھوڑے سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

       سلطان محمود غزنوی (رح) نے ایاز کو کہا بیٹا یہ بڑا قیمتی ہیرا تھا سب مشیروں ، وزیروں نے توڑنے سے انکار کردیا اور تو نے اس کو کیون توڑدیا ہے ؟ ایاز نے کہا بیشک ہیرا قیمتی تھا مگر میرے آقا کا حکم اس سے زیادہ قیمتی تھا۔

       مولانا روم (رح) یہ واقعہ نقل کرکے فرماتے ہیں کہ کاش ! کہ ابلیس ایاز سے ہی سبق سیکھ لیتا ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ تو بہتر ہے۔ اگرچہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ آگ سے خاک بہتر ہے مگر یہ تو دیکھتا کہ تجھے حکم کون دے رہا ہے مگر یہ ساری باتیں سمجھ سے تعلق رکھتی ہیں ۔

       وقلنا یٰۤادم اسکن انت اور کہا ہم نے اے آدم ! رہ تو وزوجک الجنۃ اور تیری بیوی (حواعلیہ السلام ) جنت میں ۔

جنت سے مراد : جنت سے مراد اصل جنت ہی ہے نہ کہ ملک اردن کا باغ جیسا کہ بعض ملحدوں نے کہا ہے کہ اردن میں ایک باغ تھا اس میں ان کو بھیج دیا یہ سب خرافات ہیں بلکہ وہی جنت ہے جس میں حساب کے بعد مومنوں نے داخل ہونا ہے۔ اور وہ آسمانوں کی طرف ہے جس کے مقابلہ میں دوزخ ہے۔ جس میں کافروں اور مشرکوں نے داخل ہونا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے یہی سمجھی ہے۔

       وکلا منھا رغدًا اور کھاؤ تم دونوں اس جنت سے وسعت اور کشادگی سے حیث شئتما جس جگہ سے چاہو۔ اور جو چاہو کھاؤ، پیو کوئی پابندی نہیں ہے مگر ولاتقربا ھٰذا الشجرۃ اور قریب نہ جانا اس درخت کے۔ کیونکہ اگر تم نے اس درخت کا پھل کھایا تو ۔

شجر ممنوعہ کون سا تھا ؟   فتکونا من الظمین پس ہوجاؤگے ناانصافوں میں سے۔ یہ کس چیز کا درخت تھا تفسیروں میں مختلف اقوال منقول ہیں ۔

       1 ۔ انگور اور کھجور کا ذکر بھی ہے۔

       2 ۔ بادام اور املوک کا ذکر بھی ہے۔

       3 ۔ لیکن اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ گندم کا درخت تھا۔

       اب سوال یہ ہے کہ گندم کا تودرخت نہیں ہوتا بلکہ پودہ ہوتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ جنت کا معاملہ الگ ہے۔ دنیا میں جو پودے ہیں وہ جنت میں درخت ہوں گے ان کو اس درخت سے کھانے پر ابلیس نے اسایا تھا ۔ قرآن کریم میں ہے۔۔۔

       وقاسمھما انی لکما لمن الناصحین ابلیس لعین نے دونوں کے سامنے قسم اٹھائی کہ میں تمہارا بڑا خیر خواہ ہوں اور تمہاری بھلائی کی بات تم سے کر رہاہوں۔ وہ یہ کہ اس درخت سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے منع فرمایا ہے اگر مت اس درخت سے کھالو گے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہو گے الٹی گنگا چلائی۔

       حضرت آدم (علیہ السلام) نے خیال فرمایا کہ ہے تو ابلیس مگر رب تعالیٰ کی قسم اٹھا کر تو جھوٹ نہیں بولتا ہوگا۔ پھر حضرت حوا (علیہ السلام) نے بھی اکسایا۔ بخاری شریف میں حدیث آتی ہے کہ اگر حوا (علیہ السلام) خیانت نہ کرتیں تو کوئی عورت خیانت نہ کرتی ۔ بہرحال دنیا میں آنا مقدر تھا۔

       فلما ذاقا الشجرۃ پس جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو چکھا بدت لھما سواتھما کھل گے ستران کے وطفقا یخصفٰن علیھما من ورق الجنۃ (اعراف) وہ لگے اپنے اوپر جوڑ نے بہشت کے پتے کھانا تو دور کی بات ہے دونوں نے چکھا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان دونوں کے کپڑے اتاردو۔ دونوں ننگ دھڑنگ ہوگئے اللہ تعالیٰ کی شان کہ درخت بھی بگڑ گئے ستر پوشی کے لئے پتے پتے کے لئے جس درخت کے قریب جاتے اس کی ٹہنیاں اوپر ہوجاتیں ۔ بالاۤخر انجیر کے درخت نے قربانی دی کہ پتے توڑدیئے ۔ اب انہوں نے پتوں کے ساتھ پتے جوڑ کر آگے پیچھے رکھ کر ستر ڈھانپا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا

حضرت آدم (علیہ السلام) کا اعتراف وتوبہ : الم انھکما عن تلکما الشجرۃ میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے منع نہیں کیا تھا واقل لکما ان الشیطٰن لکما عدو مبین اور تمہیں کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے رب تعالیٰ کے سامنے کوئی حجت بازی نہیں کی۔ حالانکہ اگر منطق لڑاتے تو کہہ سکتے تھے کہ اے پروردگار ! ابلیس سے پوچھو اس نے جھوٹی قسمیں کھا کر کیوں دھوکہ دیا ہے ؟ اصل مجرم تو وہ ہے اور بھی بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر آدم (علیہ السلام) نے سوچا کہ تمام چکر کاٹنے کے بعد بھی عاجزی کا اقرار کرنا ہے۔ تو شروع سے ہی تسلیم کرو۔ قیل وقال کی کیا ضرورت ہے ؟ اس سے انسان کی شرافت کا پتہ چلتا ہے۔۔۔

       قالا ربنا ظمناانفسنا وان لم تغفرلنا وتر حمنا لنکونن من الخٰسرین دونوں نے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ تو ہمیں معاف کردے تو اگر ہمیں معاف نہیں کرے گا تو ہم کس سے معافی معانگیں گے تو اگر ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم خسارے میں ہوں گے یہی انسان کی شرافت ہے کہ رب تعالیٰ کے حکم کے سامنے اکڑتا نہیں ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آدم (علیہ السلام) سے یہ خطاء کیوں ہوئی کہ اس درخت کا پھل کھالیا ؟۔

1 ۔ امام بغویرحمۃ اللہ علیہ بڑے مفسر ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا لاتقرباھٰذہ الشجرۃ اس درخت کے قریب نہ جانا تو جس درخت کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا انہوں نے وہ مخصوص درخت سمجھا اور اس کے قریب نہیں گئے ۔ اس نوع کے دوسرے درخت سے کھالیا یہ غلطی ہوگئی۔

2 ۔ دوسری وجہیہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس نہی کو نہی تحریمی نہیں سمجھا بلکہ تنز یہی سمجھا اور نہی تنز یہی کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بچنا بہتر ہے اگر لو تو گناہ نہیں ہے۔

3 ۔ تیسری وجہیہ بیان فرماتے ہیں کہ شیطان کی قسم سے مغالطہ ہوا کہ یہ جو قسم اٹھا کر کہہ رہا ہے کہ تم کھالو۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ نے پہلا حکم اٹھالیا ہے اور ابلس کو اس حکم کے منسوخ ہونے کا علم ہوگیا ہے۔ بہرحال کچھ بھی ہوا ہو یہ مقدر تھا کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) نے زمین پر اترنا تھا ۔ سواتاردیئے گئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔۔۔

       فازلھما الشیطٰن عنھا پس پھسلایا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت سے۔ نتیجہ یہ نکلا فاخر جھما پس نکالا ان دونوں کو مما

کانا فیہ ان خوشیوں سے جن میں وہ تھے وقلنا اھبطوا اور کہا ہم نے اتر جاؤ تم بعضکم لبعض عدو بعض تمہارے دوسرے بعض کے لئے دشمن ہوں گے۔ یعنی تمہاری نسل میں ایک دوسرے کی دشمنی چلے گی۔ یہ بات سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج دنیا میں انسان ایک دوسرے کی کتنی گردنیں کاٹ رہے ہیں شمار سے باہر ہیں ۔

حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) کے اترنے کی جگہیں :

       کہتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو سری لنکا کے جزیرہ سر اندیپ میں اتارا گیا اور حوا علیہماالسلام کو سرزمین عرب میں دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ عرفات کے میدان میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔

عرفات کا معنی :عرفات کو عرفات اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ عرفات کا معنی ہے شناخت کی جگہ ۔ حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) نے ایک دوسرے کی اس جگہ شناخت کی تھی۔ فرمایا۔۔۔

       ولکم فی الارض مستقر اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہے ومتاع الیٰ حین اور فائدہ اٹھانا ہے ایک مدت تک ۔ ایک عرصہ تک زمین میں رہو۔ پھر دنیا سے جانا ہے۔

       فتلقی اٰدم من ربہ کلمٰت پس حاصل کئے آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند کلمات۔ وہ کلمات یہ ہیں ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وتر حمنا لنکونن من الخٰسرین یہ آٹھویں پارے میں موجود ہیں ۔

       فتاب علیہ پس اللہ تعالیٰ نے رجوع کیا ان پر ۔ یعنی ان کی توبہ قبول فرمائی۔ انہ ھو التواب الرحیم بیشک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔ قلنا اھبطوا منھا جمیعا کہا تم نے اتروتم یہاں سے سارے۔ یعنی آدم (علیہ السلام) حوا علیہماالسلام اور ان کے ضمن میں جو ان کی اولاد ہے وہ تمام کے تمام سب کو خطاب ہے۔

       فاما یاتینکم منی ھدی پس اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت ۔ امااصل میں ان ما ان شرطیہ ہے اگر ہدایت آئے ۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر مجبور نہیں تھا۔ اگر نہ بھیجتا تو اس سے کون پوچھ سکتا ہے اگر ضرورت ہوتی تو تمہاری طرف پیغمبروں اور کتابوں کی شکل میں ہدایت بھیجوں گا۔۔۔

خوف/حزن میں فرق : فمن تبع ھدای پس جس نے پیروی کی میری ہدایت کی فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون پس ان پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غم کریں گے۔ آئندہ کسی شئ کا خدشہ ہو تو اس کو خوف کہتے ہیں۔ اور گزشتہ کسی چیزپر افسوس ہو تو اس کو غم کہتے ہیں۔ جب میں داخل ہونے کے بعد نہ تو آئندہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ گزشتہ زندگی پر کسی قسم کی پریشانی ہوگی کیونکہ نیکیاں کرکے گئے ہوں گے۔

سوال : یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامت والے دن تو اتنا ہولناک منظر ہوگا کہ سب کے طوطے اڑے ہوں گے ۔ یہاں تک کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) بھی رب سلم رب سلم کہہ رہے ہوں گے۔ اے رب سلامتی فرما، اے رب سلامتی فرما۔ تو پھر ولا خوف کا مطلب کیا ہوگا ؟

جواب : اس کے جواب میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن (رح) فرماتے ہیں کہ خوف دوطرح کا ہوتا ہے۔۔۔

       1 ۔ کبھی تو خوف کا باعث ڈرنے والے میں پایا جاتا ہے جیسے مجرم بادشاہی جو بادشاہ سے ڈرتا ہے۔ اس خوف کا سبب مجرم

ہے جو مجرم کی طرف رجوع کرتا ہے۔

       2 ۔ اور کبھی خوف کا سبب مخوف عنہ یعنی جس سے ڈرتے ہیں اس میں کوئی امر ہوتا ہے مثلاً کوئی شخص صاحب جاہ جلال بادشاہ کے سامنے ہو تو اس کے خوف زدہ ہونے کی وجہ نہیں کہ اس نے بادشاہ کا کوئی جرم کیا ہے بلکہ اس کا قہروجلال سلطانی اوعر ہیبت خوف کا سبب ہے۔

       آیت کریمہ میں پہلی قسم کی فنی ہوتی ہے جو خوف کسی جرم کی وجہ سے ہو۔ یہ خوف ان پر نہیں ہوگا اور نیک لوگوں پر جو خوف ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کا ہوگا۔ لایحزنھم الفزع الالبر اور لوگوں پر اعمال کی وجہ سے جو گھبراہٹ ہوگی نیک لوگوں پر وہ نہیں ہوگی۔

       والذین کفروا اور جنہوں نے کفر کیا وکذبواباٰیتناۤ اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو اولئک اصحٰب النار وہ دوزخ والے ہیں ھم فیھا خٰلدون اس دوزخ میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے۔ اور جلیں گے نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۭ۔۔۔تا۔۔۔ۭ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ ڭ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ 34؀

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۭ۔۔۔تا۔۔۔ۭ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ ڭ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ 34؀ آیت نمبر 30 تا 34 ربط : ان آیات کا پچھلی آیات کے ساتھ کیا ربط ہے ؟ اس کے متعلق علماء کرام فرماتے ہیں کہ نعمتیں دو قسم کی ہیں ۔۔ 1 ۔ ایک ظاہر ی اور حسی کہ نظر آتی ہیں اور محسوس ہوتی ہیں ۔ جیسے آسمان ، زمین ، انسان کا وجود، خوراک اور لباس ہے کہ یہ نظر بھی آتی ہیں اور محسوس بھی ہوتی ہیں ۔ 2 ۔ دوسری نعمتیں باطنی اور معنوی ہیں جو نہ تو نظر آتی ہیں اور نہ محسوس ہوتی ہیں جیسے علم، اخلاق حسنہ وغیرہ ہیں۔ کہ جو نہ تو نظر آتے ہیں اور نہ محسوس ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اخلاق حسنہ کا پتہ تو معاملہ کرنے کے بعدچلے گا۔ ویسے نہیں معلوم ہوسکتا۔ خلافت ارضی : تو پہلے ظاہری اور حسی نعمتوں کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا، آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا اور اب باطنی اور معنوی نعمتوں کا ذکر ہے کہ اے انسانو ! تم اس بزرگ کی نسل سے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا جس کی بدولت وہ فرشتوں سے آگے نکل گیا اور مسجود الملائکہ بنا۔ اور انسانوں کی توجہ اس طرف بھی کرائی ہے کہ تم شیطان قدم پر چلتے ہو اس نے جو تمہارے ساتھ کیا تھا وہ بھی سن لو۔ اور اس کے نقش قدم پر چلنا چھوڑدو اور اپنی اصل کو نہ بھولو۔ واذقال ربک اور جب فرمایا تیرے رب نے للملئکۃ فرشتوں کو ۔ ملئکۃ، الوکۃ سے مشتق ہے۔ اور الوکۃ کا معنی ہے پیغام پہنچانا۔ اور فرشتوں کے ذمہ بھی مختلف ڈیوٹیاں لگی ہوئی ہیں ۔ کوئی وحی لاتا ہے کوئی رحمت کا پیغام پہنچاتا ہے ۔ کوئی نیکوں کے لئے رحمت کی دعائیں کررہا ہے۔ اس لئے ان کو ملائکہ کہا جاتا ہے۔ اور فرشتوں کی تخلیق نور سے ہوئی ہے۔ فرشتوں کے ” نور “ سے مراد : چنانچہ مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خلقت الملئکۃ من نور فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن یہ نوروہ نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اللہ نور السمٰوٰت والارض اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام نور بھی ہے یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اس سے کوئی چیز نہیں نکلی فرشتے جس نور سے پیدا کئے گئے ہیں وہ مخلوق ہے جس طرح مٹی مخلوق ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ آگ مخلوق ہے جو جنات کی اصل ہے۔ اسی طرح نور بھی مخلوق ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا ہے ۔ وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ۔ اور نہ ان میں جنسی خواہشات ہیں وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان کی اعلیٰ ترین عبادت ہے سبحان اللہ وبحمدہ تو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔۔۔ انی جاعل فی الارض خلیفۃ بیشک میں بنانے والا ہوں۔ زمین میں نائب خلیفہ کا معنی ہے نائب ۔ اللہ تعالیٰ کی نیابت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اللہ تعالیٰ سے وصول کرکے اس کی مخلوق پر نافذ کرے۔ مخلوق کو پہنچائے تاکہ وہ اس پر عمل کریں۔ فرشتوں کا اشکال : قالواۤ کہا فرشتوں نے اتجل فیھا کیا تو نباتا ہے اس زمین میں من یفسدفیھا اس کو جو فساد مچائے گا زمین میں ویسفک الدماۤء اور بہائے گا خون ونحن نسبح بحمدک اور ہم فرشتے تیری پاکی بیان کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ سبحان اللہ والحمدللہ پڑھتے رہتے ہیں ۔ ونقدس لک اور ہم تیری پاکیزگی کا اقرار کرتے ہیں ۔ کہ تو تمام عیبوں اور کمزوریوں سے پاک اور صاف ہے۔ اس سے فرشتوں کا مدعا یہ تھا کہ اے پروردگار ! کسی اور مخلوق کو جو خلیفہ بنانا چاہتا ہے ہمیں بنادے ہم ہر وقت تیری تسبیح اور تقدیس میں لگے ہوئے ہیں ۔ انسان کی فضیلت : قال انی اعلم فرمایا اللہ تعالیٰ نے بیشک میں جانتا ہوں مالاتعلمون جو تم نہیں جانتے ۔ تمہارے ذہن میں صرف فرمانبرداری اور اطاعت ہے کہ جس کو تو نے پیدا کرنا ہے اس نے بھی تیری فرمانبرداری اور اطاعت کرنی ہے۔ اور وہ ہم کررہے ہیں لہذا اس کو بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ٹھیک ہے تم فرمانبردار اور رہوگے کیونکہ تمہارے خمیر میں خواہشات نہیں ہیں۔ میں ایک ایسی مخلوق بنانا چاہتا ہوں جس میں ہر طرح کی خواہشات بھی ہوں گی لیکن اس میں ایسی قابلیت اور صلاحیت ہوگی کہ وہ ان تمام کو اہشات کر دبا کر میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے فرمانبردار رہے گا۔ اس بات کو تم نہیں جانتے میں جانتا ہوں ۔ اور اس وجہ سے انسان کو فرشتوں پر فضیلت حاصل ہے کہ فرشتے لمبی راتوں میں بھی ساری رات سبحان اللہ وبحمدہ پڑھتے رہتے ہیں ۔ کوئی قیام میں پڑھ رہا ہے، کوئی رکوع میں اور کوئی سجدے میں ۔ نہ ان کو وضو کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا وضو ٹوٹتا ہی نہیں ہے۔ نہ ان کو نیند کی حاجت ہے اور انسان کے ساتھ یہ ساری حاجتیں اور ضرورتیں لگی ہوئی ہیں۔ پھر وہ فرمانبردار ہے۔ اس لئے اس کی عبادت کا درجہ فرشتوں کی عبادت سے زیادہ ہے۔ مسلم شریف میں حدیث ہے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی اور پھر فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو یوں سمجھو کہ اس نے ساری رات عبادت میں گزاری ہے۔ یعنی عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر سوگیا اور صبح کو اٹھ کر فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی۔ تو اس کا سونا بھی عبادت شمار ہوگا۔ کیونکہ یہ گرمی ، سردی کی پرواہ کئے بغیر اٹھتا ہے، وضو کرتا ہے پھر چل کرمسجد میں جاتا ہے۔ اور فرشتوں کو نہ گرمی کی تکلیف اور نہ سردی کا احساس ، نہ چلنے سے تھکاوٹ اس لئے انسان کی پانچ منٹ کی عبادت فرشتوں کی ساری رات کی عبادت سے افضل ہے۔ اگرچہ مقدار میں تھوڑی ہے۔ اور فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ یہ زمین میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا۔ فرشتوں کی اشکال کی وجہ ؟ توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس چیز کا فرشتوں کو کس طرح پتہ چل گیا۔ غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ تو انہوں نے قبل از وقت یہ بات کس طرح کردی ؟ اس سلسلے میں مفسرین کرام (رح) نے بہت ساری باتیں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک بات یہ بھی فرمائی ہے کہ ۔۔۔۔ 1 ۔ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے زمین میں جنات کی حکومت تھی اور وہ قتل وغارت اور فساد وغیرہ سب کچھ کرتے تھے تو ان پر قیاس کرتے ہوئے کہ جوان کی جگہ آرہے ہیں وہ بھی وہی کچھ کریں گے گویا کہ فرشتوں نے ایک نوع کا دوسری نوع پر قیاس کیا قاس احد النوعین علی الاٰخر انہوں نے ایک نوع کا دوسری نوع پر قیاس کیا۔ 2 ۔ اور اس کے جواب میں دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ لفظ خلیفہ سے انہوں نے یہ سمجھا کہ حاکم اور خلیفہ کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں جھگڑا ہو فتنہ فساد ہو اور جہاں جھگڑا، فساد نہ ہو وہاں خلیفے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ چناچہ ساری جنت میں ایک بھی تھانیدار نہیں ہوگا۔ 3 ۔ اور تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ فرشتوں نے لوح محفوظ میں دیکھا تھا کیونکہ جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لکھ دیا ہے کہ فلاں یہ کرے گا ، فلاں یہ کرے گا، فلاں یہ کرے گا۔ تو اس کے ذریعے فرشتوں کو معلوم ہوا کہ آنے والی مخلوق یہ کچھ کرے گی۔ ملائکہ المقربین نے لوح محفوظ کو دیکھا تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے لکھا تھا اور فرشتوں نے پڑھا تھا۔ وہ سب کچھ ہورہا ہے۔ اس وقت فتنے عروج پر ہیں اور جوں جوں قیامت قریب آئے گی فتنے زیادہ ہوں گے ۔ کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیش گوئی ہے کہ جوں جوں قیامت قریب آئے گی فتنے زیادہ ہوں گے لوگ اتنے پریشان ہوجائیں گے کہ آدمی قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش ! یہ میری قبر ہوتی۔ یعنی میں مرچکا ہوتا۔ اور فتنوں سے محفوظ ہوجاتا۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے جو لفظ نکلا ہے وہ کبھی خطا نہیں جاسکتا۔ جوں جوں قیامت قریب ہوگی دن بدن فتنوں میں اضافہ ہوگا۔ کمی کی توقع نہیں ہے۔ کمی تب ہوگی جب امام مہدی (علیہ السلام) تشریف لائیں گے اور ان کی کٹائی کریں گے بدمعاش ختم ہوں گے اور اللہ والے گوشوں سے باہر نکل آئیں گے۔ تو فرشتوں نے کہا اے پروردگار ! تو ایسے کو بنانا چاہتا ہے جو زمین میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ بیشک ان میں ایسے بھی ہوں گے۔ مگر بیشمار ان میں نیک بھی ہوں گے۔ انقلاب روس اور استقامت دین : پہلے زمانے تو خبر کے تھے ہر طرف نیک لوگ تھے مگر اس زمانے میں بھی زمین کے ہر کونے میں نیک لوگ موجود ہیں ۔ اور انہوں نے مظالم کو برداشت کرکے بھی ایمان بچایا ہے اور اسلام کا تحفظ کیا ہے۔ روسی انقلاب کو ہی دیکھ لو کہ انہوں نے اسلام پر پابندی لگا دی ستر سال تک روسی مظالم نے لوگوں کے ذہن مسخ کئے حکومت سے منظوری لئے بغیر نومولود بچے کا نام کوئی نہیں رکھ سکتا تھا۔ کہ کوئی مسلمانوں والا نام نہ رکھ دے کہ بڑا ہو کر اس کو معلوم ہوجائے کہ ہم مسلمان ہیں اس حد تک پابندیاں تھیں ۔ اس کے باوجود وہاں لوگوں نے تہہ خانوں میں چھپ کر اپنے بچوں وک دین سکھایا اور ایمان کا تحفظ کیا۔ الحمدللہ ! اس وقت بھی ان علاقوں میں مسلمان موجود ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا امتحان : وعلم ادم الاسماۤء کلھا اور تعلم دی آدم (علیہ السلام ) کو سب ناموں کی ثم عرضھم علی الملئکۃ پھر ان کو پیش کیا فرشتوں پر فقال انبؤنی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دو باسماۤء ھٰؤلاء ان چیزوں کے ناموں کی ان کنتم صٰدقین اگر تم سچے ہو کہ ہم خلافت کے حقدار ہیں ۔ قالوا سبحٰنک کہا فرشتوں نے تیری ذات پاک ہے لاعلم لناۤ ہمیں کوئی علم نہیں ہے الا ماعلمننا مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا ہے انک انت العلیم الحکیم بیشک تو ہی ہے علم والا اور حکمت والا ۔ قال یۤادم انبئھم فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے آدم خبر دے ان کو باسماۤئھم ان چیزوں کے ناموں کی فلما انبئھم پس جب خبر دی آدم (علیہ السلام ) نے ان کو باسماۤئھم ان چیزوں کے ناموں کی قال الم اقل لکم فرمایا اللہ تعالیٰ نے کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا انی اعلم بیشک میں جانتا ہوں غیب السمٰوٰت والارض آسمانوں اور زمین کے غیبوں کو لایعزب عنہ مثال ذرۃ ا س سے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اوعلم اور میں جانتا ہوں ماتبدون اس چیز ک وجس کو تم ظاہر کرتے ہو وما کنتم تکتمون اور اس چیز کو جس کو تم چھپاتے ہو ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ اے پروردگار ! ہم تیری تسبیح پڑھتے ہیں، تیری پاکیزگی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور چھپاتے تھے کہ ہمیں خلاف ملنی چاہیے ۔ آدم (علیہ السلام) کی برتری کی وجہ بمعہ امثلہ : اب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ نے تعلیم تو دی آدم (علیہ السلام) کو اور امتحان میں فرشتے بھی مبتلا کئے گئے ۔ بظاہر یہ بات انصاف کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ یا تو فرشتوں کو بھی تعلیم دی جاتی پھر امتحان لیا جاتا۔ 1 ۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے بیان القرآن میں اس کا بٖڑا مختصر جواب دیا ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی موجودگی میں آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کے نام بتائے۔ مثلاً آدم (علیہ السلام) کو سمجھایا کہ یہ دہی ہے، یہ ہانڈی ہے، اس کو چمچہ کہتے ہیں ۔ یہ نمک ہے اور کو ہلدی کہتے ہیں ، یہ مرچ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ تو جب آدم (علیہ السلام) کو نام بتائے فرشتے وہاں موجود تھے مگر وہ سمجھ نہ سکے ۔ کیونکہ یہ چیزیں ان کی ضرورت کی نہیں تھیں ۔ اور آدم (علیہ السلام) سمجھ گئے کیونکہ یہ چیزیں ان کی ضرورت کی تھیں ۔ 2 ۔ پھر حضرت تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو اس طرح سمجھو کہ جیسے کوئی استاد اقلیدس (جیومیڑی) پڑھائے اور کہے کہ ایک زاویہ قائمہ ہوتا ہے اور ایک زاویہ کا دہ ہوتا ہے، ایک شکل خماسی ہوتی ہے اور ایک مربع ہوتی ہے، ایک مثلث ہوتی ہے اور ایک مسدس ہوتی ہے۔ یہ وہی سمجھیں گے جن کو اس سے کچھ نسبت ہوگی ۔ وہاں بیٹھے ہوئے عوام بےچارے کیا سمجھیں گے کہ زاویہ کیا ہوتا ہے ؟ اور مثلث کیا ہوتی ہے ؟ اور مربع کیا ہوتا ہے ؟ اسی طرح فرشتے بھی نہ سمجھ سکے ، کیونکہ ان کا ان چیزوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ 3 ۔ یا اشس طرح سمجھو کہ جس آدمی کو پشتو کے ساتھ تعلق نہ ہو وہ عبدالرحمن بابا کے شعر کو نہیں سمجھ سکتا۔ صوبہ سرحد میں ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں عبدالرحمن بابا۔ یہ بڑے اونچے درجے کے اشعار بولتے تھے۔ ان کا دیوان بھی پشتوزبان میں بڑا مشہور ہے۔ وہ فرماتے ہیں ؎ مارچہ سورے لہ ورشی ھلہ سم شی تو پگور ڈڈے تہ سم شولے رحمانا ھہ اب جن کو پشتو کے ساتھ تعلق ہے اور پشتو جانتے ہیں وہ تو سمجھ گئے ہوں گے اور جن کو تعلق نہیں سمجھ سکے۔ باباجی فرماتے ہیں کہ سانپ جب بل میں داخل ہوتا ہے تو بالکل سیدھا ہوکر داخل ہوتا ہے۔ اے عبدالرحمن تو مرنے کے قریب ہوگیا ہے ، قبر کے قریب ہوگیا ہے اور تیرے بل نہیں نکلے جو دنیا سے عشق اور محبت کے بل تیرے بدن میں ہیں ۔ تو انہوں نے تصوف کی بہت بلند بات فرمائی ہے اور یاد رکھنا جو صحیح تصوف ہے اس کے بغیر بھی مسلمان کو چارہ نہیں ہے۔ نفس کا تزکیہ کرنا اخلاق حسنہ کو اخذ کرنا بڑی چیز ہے ۔ مگر آج کے دور میں اس کو سمجھنا خاصا مشکل ہے۔ فرشتوں کو سجدہ کا حکم : واذقلنا للملٰئکۃ اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو اسجدوالادم سجدہ کرو تم آدم (علیہ السلام) کو فسجدوا پس انہوں نے سجدہ کیا الا ابلیس مگر ابلیس نے ابی واستکبر اس نے انکار کردیا وکان من الکفرین اور تھا وہ کافروں میں سے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم تو فرشتوں کو دیا تھا۔ اور ابلیس تو جنات میں سے تھا کان من الجن تو اس کے متعلق کیوں فرمایا کہ اس نے انکار کردیا۔ اور تکبر کیا تو جب اس کو حکم ہی نہیں تھا تو اس نے انکار کس طرح کیا تو یاد رکھنا ! قرآن کریم میں ایک جگہ اجمال ہوتا ہے اور دوسری جگہ اس کی تفصیل ہوتی ہے۔ یہاں تو صرف فرشتوں کو سجدے کا حکم ہے اور سورة اعراف کے دوسرے رکوع میں آیا ہے کہ ۔۔۔ ابلیس کا انکار وتکبر : یا ابلیس مامنعک ان لاتسجد اذا مرتک اے ابلیس ! تجھے کس نے منع کیا سجدہ کرنے سے جب میں نے تجھے حکم دیا تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ابلیس کو بھی سجدہ کرنے کا حکم تھا۔ مگر اس نے انکار کردیا اور فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کیا ۔ اور ۔۔۔ فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون پس تمام فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا جس طرح جماعت میں امام کے پیچھے سارے مقتدی اکٹھے رکوع سجود کرتے ہیں ۔ کیونکہ اجمعون کا لفظ ہے جو کہ یہ بتارہا ہے کہ سب نے اکٹھا سجدہ کیا اور کیا بھی تمام فرشتوں نے ایسا نہیں ہے کہ بعضوں نے کیا ہو اور بعضوں نے نہ کیا ہو۔ کیونکہ کلھم کا لفظ بتارہا ہے کہ کوئی فرشتہ اس حکم سے خارج نہیں ہے۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اور ابلیس نے نہ کیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے کہا تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ تو کہنے لگا کہ۔۔۔ 1 ۔ اناخیرمنہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے آگ میں شعلہ اور بلندی ہے۔ اور اس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے جو پاؤں کے نیچے کچلی جاتی ہے اس کو میں کیوں سجدہ کروں۔ اور دوسرے مقام پر ہے کہنے لگا۔۔۔ 2 ۔ ء اسجد لمن خلقت طینا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سب سے پہلے بشر کو حقیر سمجھنے والا ابلیس ہے۔ پندرہویں پارے میں ہے، کہنے لگا۔۔۔ 3 ۔ ارئیتک ھٰذا الذی کر مت یہ وہ ہے جس کو تونے میرے اوپر فضیلت دی ہے۔ رب تعالیٰ کے ساتھ طعن نازی کی ہے۔ جیسے عورتیں لڑتی ہیں تو طعنے دیتی ہیں۔ اور بشر کی تعریف اور تعظیم سب سے پہلے فرشتوں نے کی ہے۔ بشر کا مقام بہت بلند ہے، لہذا اے انسانو ! تم مسجود الملائکہ کی نسل سے ہو۔ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں پر جو فضیلت حاصل ہوئی تو علم کی وجہ سے ہوئی ۔ تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں معنوی اور روحانی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس کو یادرکھو اور اعمال صالحہ کرو۔ واللہ الموفق۔

 

Copyright @ 2013 الاسلام.