Wednesday, 16 March 2016

ھُوَ الَّذِ یْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِی الْأَ رْضِ جَمِیْعًا

 ھُوَ الَّذِ یْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِی الْأَ رْضِ جَمِیْعًا : سا بقہ آیات میں انسان کی ذات سے متعلق انعامات واحسانات ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں جو انسان کی بقا اور اس کے آرام وراحت کے لئے ضروری ہے، یعنی تم کو پیدا کیا، جو کہ تمام نعمتوں کی اصل ہے، پھر تمہاری بقاء اور انتقاع کے لئے زمین میں ہر طرح کی چیزیں بکثرت پیدا فرمائیں، اس کے بعد متعدد آسمان بنائے، جن میں تمہارے لئے طرح طرح کے منافع ہیں۔
 اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا، ثُمَّ، کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے اور سورۃ النازعات میں جو یہ ارشاد ہیں : ''وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذَالِکَ دَحَاہَا'' یعنی زمین کو آسمان کے پیدا کرنے کے بعد بچھایا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین کی پیدائش آسمانوں کے بعد ہوئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی درستی اور اس سے پیداوار نکالنے کے تفصیلی کام آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوئے اگرچہ اصل زمین کے مادہ کی تخلیق آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی۔ (بحر محیط)
 آسمانوں کے ساتھ ہونے پر کلام : عام انسانوں کو تو آسمان ایک ہی نظر آتا ہے، قرآن کریم میں سات کا ذکر ہے جیسا کہ مذکورہ آیت میں سبع سمٰوٰت صراحت کے ساتھ موجود ہے، اور فلاسفہ نو آسمان ثابت کرتے ہیں علماء اسلام کے قدیم فلاسفہ نے آسمانوں کو سات کہا اور باقی دو عرش وکرسی سے ثابت کئے، سات آسمان بالکل حق ہیں اور طبقہ بطبقہ ہیں قرآن کوئی سائنس یا فلکیات کی کتاب نہیں کہ اس میں خواہ مخواہ سائنس کے جدید یا قدیم نظریات سے مطابقت کی کوشش کی جائے، قرآن کے نزول کا مقصد سائنس علوم کی تعلیم نہیں بلکہ انسانیت اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم دینا ہے، سائنس نظریات میں قرار نہیں ہے، جو چیز کل تک مسلم اور صدفی صددرست تسلیم کی جاتی تھی، وہ آج صدفی صدغلط اور غیر مسلم مانی جاتی ہے، ہزارہا سال سے یہی طریقہ رہا ہے، بعد کا نظریہ ہر سابقہ مسلم نظریہ کی تردید کرتا ہے، لہٰذا اس کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ سائنسی نظریات کو مسلم سمجھ کر ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی غالباً ان کا مقصد یہ رہا ہوگا کہ اس دور کے سائنسی مسلماے سے آسمانی کتابوں کو ہم آہنگ کرنے سے آسمانی کتابوں کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا مگر جب تحقیق جدید نے ان سائنسی نظریات کو غلط ثابت کردیا، جس کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں معرکہ برپا ہوگیا، ابتداء میں مذہبی طبقہ غالب رہا جس کے وجہ سے بڑے بڑے سائنس دانوں کو نظر آتش کردیا گیا، لیکن جب سائنس جدید کو فروغ حاصل ہوا اور ان ہی نظریات کو مسلم سمجھا جانے لگا، تو مذہب کو سائنس جدید کے مقابلہ میں پسپا ہونا پڑا اور اس معرکہ آرائی میں مذہب کو شکست فاش ہوئی جس کی وجہ سے یورپ لامذہب (دہریہ) ہوگیا۔
 علم و خیبر خالق کائنات کا علم قطعی اور بے ریب ہے اور مخلوق کا علم ظن و تخمین پر مبنی ہے جو ہر زمانہ میں بدلتا رہتا ہے اور آئندہ بھی یہی ہوتا رہے گا، قرآن سائنسی نظریات کے تابع نہیں ہے اگر سائنس کا کوئی نظریہ قرآن کے نظریہ کے مطابق ہوجائے، تو ہوجائے، مطابق کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ اس پر خوش ہونے کی ضرورت ہے۔ (تفسیر الجواھر، طنطاوی، حذف و اضافہ کے ساتھ)
 

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ   ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ   28؀
 ترجمہ : اے مکہ والو ! تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیوں اختیار کرتے ہو؟ حالانکہ تم پشتوں میں بے جان نطفے تھے، اس نے ماؤں کے رحموں میں اور دنیا میں تمہارے اندر روح پھونک کر تم کو زندگی بخشی، اور استفہام ان کے کفر پر اظہار تعجب کے لئے ہے اور توبیخ کے لئے ہے، قیام دلیل کے باوجود پھر وہ تم کو موت دے گا، تمہاری مدت حیات ختم ہونے کے وقت پھر تم کو وہی مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر زندہ ہونے کے بعد اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، سو وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا، چنانچہ جب انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر دلیل کے طور پر فرمایا، وہی تو ہے، جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا فرمائیں یعنی زمین اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ تم اس سے استفادہ کرو اور عبرت حاصل کرو پھر (یعنی) زمین پیدا کرنے کے بعد وہ آسمان کی جانب متوجہ ہوا اور سات آسمان استوار کئے، ھُنَّ، کی ضمیر اَلسَّمَاء کی طرف راجع ہے اس لئے کہ : اَلسَّماء ماَ یؤل کے اعتبار سے جمع کے معنی میں ہے (سَوّٰہُمَّ) معنیٰ میں صَیَّرَہَا، جیسا کہ دوسری آیت میں فَقَضٰہُنَّ سِبْعَ سَمٰوٰتٍ ہے اور وہ ہر چیز کا اجمالی اور تفصیلی علم رکھنے والا ہے کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ جو ذات ان (مذکورہ) چیزوں کے ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہے جو تم سے عظیم تر ہے تمہارے دوبارہ پیدا کرنے پر (بطریق اولیٰ) قادر ہے۔
 تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
 قولہ : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ یا اہل مکة، کَیْفَ، حرف استفہام ہے حالت سے سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر قرآن میں زیادہ تر اناکر اور جرأت پر اظہار تعجب کے لئے مستعمل ہے۔
 قولہ : وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا : واؤ حالیہ ہے اور کنتم اَمواتًا، تکفرون کی ضمیر سے حال ہے مفسر علام نے قَدْ کا اضافہ کرکے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے۔
 سوال : ماضی کا بغیر قد کے حال واقع ہونا صحیح نہیں ہے۔
 جواب : قد کا لفظوں میں ہونا ضروری نہیں ہے اگر قد مقدر ہو، تب بھی ماضی حال واقع ہو سکتی ہے، یہاں قد مقدر ہے جیسا کہ مفسر علام نے قد مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے۔
 دوسرا جواب : بغیر قد کی تقدیر کے بھی حال بننا درست ہے اس لئے کہ حال محض کنتم امواتاً ہی نہیں ہے بلکہ ما بعد، ترجعون، تک جملہ ہو کر حال ہے، کما جزم صاحب الکشاف، گویا کہ یوں کہا : کیفَ تکفرون؟ وقصتکم ھذہ۔
 قولہ : نُطَقًا فِی الْاَصْلَابِ، ای اصلاب الرجال، نُطَفْ نُطْفَة، کی جمع ہے صاف پانی، تھوڑا پانی، ٹپکنے والی چیز یہاں مرد کا نطفہ منی مراد ہے۔ قولہ : فَاَحْیَاکُمْ، یہ محذوف پر مرتب ہے تقدیری عبارت ہے : ''وَکُنْتُمْ عَلَقَةً فمضغةً فَاحْیَاکم'' اس تقدیر کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ نطفہ کے فوراً بعد حیات عطا نہیں ہوتی، بلکہ رحم مادر میں ١٢٠، ایام میں مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد حیات عطا ہوتی ہے۔
 قولہ : فی الأرحام، وفی الدنیا بنفخ الروح، ظرفیت کا تعلق صرف ارحام سے ہے، بنفخ الروح میں باء سببیہ ہے یعنی اعطاء حیات رحم مادر میں نفخ روح کے سبب سے ہوتی ہے غالباً دنیا کا ذکر حیات رحم اور حیات دنیا میں فرق کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے اس لئے کہ دونوں زندگیوں میں نوعیت کا فرق ہے۔ (ترویح الارواح)
 قولہ : وَالاستدہام للتعجب من کفرہم : یعنی اتنے سارے انعامات کے باوجود کفر و انکار پر جرأت کرنا باعث حیرت و تجب ہے، یا پھر استفہام توبیخ کے لئے ہے جیسا کہ مفسر رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد کیا ہے کہ معروف معنی میں تعجب مراد نہیں ہے، اس لئے کہ معروف معنی میں تعجب اسباب کے مخفی ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے اور یہ معنی خدا تعالیٰ کے لئے متصور نہیں ہیں، اس لئے کہ باری تعالیٰ سے کسی بھی شئی کے اسباب مخفی نہیں ہیں۔
 قولہ : لَاِنَّہَا فی معنی الجمع اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
 سوال : ثُمَّ اسْتَویٰ اِلَی السَّمَآئِ فَسَوَّاہُنَّ، میں ہُنَّ کی ضمیر اَلسَّماء کی طرف راجع ہے اور السّماء مفرد ہے اور ضمیر جمع ہے، لہٰذا مرجع اور ضمیر میں مطابقت نہیں ہے۔
 جواب : السَّماء مایؤل کے اعتبار سے جمع ہے اس لئے کہ استویٰ کے بعد سات آسمان ہونے والے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دَحْوِارض کے بعد سات آسمان بنائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ''فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ'' یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے کہ السّماء میں الف لام جنس کا ہے لہٰذا جمع پر اطالق درست ہے۔
 تفسیر و تشریح
 ربط آیات : گذشتہ آیات میں خدا کے وجود، توحید و رسالت کے دلائل واضحہ اور منکرین و مخالفین کے خیالات باطلہ کا رد مذکور تھا، ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر کرکے اس بات پر اظہار تعجب کیا ہے کہ اتنے احسانات کے ہوتے ہوئے یہ بظاہر کیسے کفر و انکار کی جرأت کرتا ہے؟ نیز اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ اگر دلائل میں غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا تو کم از کم محسن کا احسان ماننا اس کی تعظیم اور اطاعت کرنا تو ہر شریف انسان کا طبعی اور فطری تقاضہ ہے حتیٰ کہ ایک بے عقل جانور بھی اپنے محسن کا، احسان مند اور مشکور ہوتا ہے، مگر یہ انسان عقل و فہم کا مدعی ہونے کے باوجود اپنے محسن حقیقی کی احسان فراموشی کی جرأت کیسے کرتا ہے۔
 تخلیق انسان کی سرگزشت کے ادوار : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا (الآیة) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی سرگذشت بیان فرمائی ہے، اور فرمایا کہ ابتداء میں انسان عدم محض تھا، پھر موجود ہوا پھر معدوم ہوگا، پھر مکرر زندہ ہو کر خدا کے سامنے جوابدہی کرے گا، یہ ہے انسان کی پیدائش کی سرگذشت اور مبداء و منتہیٰ۔
 مذکورہ آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ ہے، پہلی موت سے مراد عدم مطلق ہے اور پہلی زندگی بطن مادر سے نکلنے کے بعد بعد موت سے ہم کنار ہونے کے وقت تک ہے دنیوی مدت حیات پوری ہونے کے بعد پھر موت آئے گی، اس کے بعد آخرت کی زندگی کا آغاز ہوگا، جس زندگی کا منکرین قیامت سے انکار کرتے ہیں وہ یہی ہے، شوکانی نے بعض علماء کی رائے ذکر کی ہے کہ قبر کی زندگی دنیوی زندگی ہی کا حصہ ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ برزخی زندگی حیات آخرت کا مقدمہ اور دنیوی زندگی کا تتمہ ہے، یعنی دونوں زندگیوں کے درمیان ایک واسطہ ہے، گو اس کا تعلق عالم آخرت کے مقابلہ میں عالم دنیا سے زیادہ ہے۔
 ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ: یعنی جس ذات نے پہلی مرتبہ تمہارے بے جان ذرات کو حیات بخشی وہ اس عالم میں تمہاری عمر کا وقت پورا ہونے کے بعد تمہاری اس حیات مستعار کو سلب کرلے گا، پھر ایک عرصہ کے بعد قیامت میں اسی طرح تمہارے جسم بے جان اور منتشر ذرات کو جمع کرکے تمہیں زندہ کرے گا اسی طرح ایک مدت یعنی حالت عدم ابتداء میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو حیات بخشی یعنی تم عدم سے وجود میں آئے، دوسری دنیوی زندگی پوری ہونے کے بعد تمہارے اوپر طاری ہوتی ہے، اور پھر دوسری زندگی قیامت کے روز عطا ہوگی۔ (معارف ملخصا)
 پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کئی فاصلہ نہیں تھا، اس لئے اس میں حرف فاء استعمال کیا گیا یعنی فَاحْیَاکُمْ، اور چونکہ دنیا کی موت و حیات کے درمیان اور اسی طرح اس موت اور بروز قیامت زندگی کے درمیان فاصلہ ہے، اس لئے لفظ ثم اختیار کیا گیا، یعنی ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ، اس لئے کہ لفظ ثُمَّ بعد مدت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
 سوال : اس آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے مگر عالم برزخ (عالم قبر) کی زندگی کا ذکر نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
 جواب : اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ برزخی زندگی نہ تو اس دنیوی زندگی کی طرح مستقل زندگی ہے اور نہ آخرت کی زندگی کے مانند مستقل زندگی ہے، بلکہ مشل خواب، موت و حیات کے مانند ایک درمیانی کیفیت ہے، اس کو دنیوی زندگی کا تکملہ اور آخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی کہا جاسکتا ہے یہ چونکہ کوئی مستقل زندگی نہیں کہ اس کا مستقل ذکر کیا جائے اسی وجہ سے اس آیت میں برزخی زندگی کا مستقل ذکر نہیں ہے۔
 عالم برزخ : لغت میں برزخ کے معنی ہیں دو چیزوں کے درمیان کی حد، روک، سورۃ الرحمن، آیت : ١٢٠، اور سورة الفرقان آیت ٥٢، میں شیریں اور شور دریاؤں کے درمیان کے حجاب کو برزخ کہا گیا ہے اور اصلاح شریعت میں موت سے حشر تک کی مدت کا نام ہے سورة المؤمنون آیت ١٠٠ میں برزخ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
 عالم برزخ کو عالم قبر اور قبر کی زندگی بھی کہتے ہیں، شریعت کی اصطلاح میں قبر صرف مٹی کے گڑھے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک عالم ہے، مرنے کے بعد ہر شخص اس عالم میں پہنچ جاتا ہے مرنے کے بعد اس عالم میں پہنچنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے، خواہ مرنے کے بعد قبر میں دفن کیا جائے، یا نہ کیا جائے، اس لئے کہ مر کر انسان ختم نہیں ہوجاتا بلکہ وہ انتقال مکانی کرتا ہے یعنی اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوجاتا ہے اور یہ انتقال مکانی روحانی طور پر ہوتا ہے جسم تو اسی دنیا میں گل سڑ کر ختم ہوجاتا ہے یا جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
 عالم برزخ میں مجازات : عالم برزخ کو اگر تمثیلاً گہری نیند سے تعبیر کردیا جائے تو نامناسب نہ ہوگا، نیند کو اخوالموت کہا جاتا ہے، جس طرح نیند، موت اور زندگی کے درمیان ایک واسطہ ہے، اسی طرح عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیان عالم برزخ بھی ایک واسطہ ہے۔ عالم دنیا اور عالم آخرت تو حقیقةً موجود فی الخارج ہے اور ان کی جزاء و سزا بھی حقیقی اور خارجی ہے، بخلاف عالم برزخ کے کہ وہ مثالی عالم ہے، جو موجود فی الخارج نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی جزاء و سزا بھی موجود فی الخارج نہیں ہوتی، بلکہ تمثیلی ہوتی ہے جیسا کہ سونے والا شخص خواب میں تکلیف دہ اور راحت رساں خیالی واقعات دیکھتا ہے اور ان واقعات سے رنج و راحت محسوس بھی کرتا ہے اور خواب میں پیش آنے والے واقعات کو واقعی اور حقیقی سمجھتا ہے، حالانکہ وہ واقعات نہ حقیقی ہوتے ہیں اور نہ واقعی اور نہ موجود فی الخارج خواب دیکھنے والا جب بیدار ہوتا ہے، تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو خواب تھا ورنہ تو وہ ان واقعات کو واقعی سمجھتا ہے۔
 برزخی زندگی اور خواب میں فرق : خواب اور برزخی زندگی میں فرق یہ ہے کہ خوابیدہ شخص جب بیدار ہوجاتا ہے، تو خواب میں پیش آنے والے واقعات سے رنج و راحت کا خیالی تصور جس کو وہ حقیقت اور موجود فی الخارج سمجھے ہوئے تھا، ختم ہوجاتا ہے، مگر عالم برزخ میں جن مثالی اور خیالی تکلیف دہ یا راحت رساں حالات میں مبتلا ہوگا وہ تاقیامت ختم نہ ہوں گے، اس لئے کہ برزخ میں کوئی شخص نفخہء ثانیہ سے پہلے بیدار ہونے والا نہیں ہے، نفخہ ثانیہ کے وقت مجرم : ''مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا'' (سورہ یٰسین) (ہم کو ہماری خوابگاہ سے کس نے اٹھایا؟) کہتا ہوا اٹھے گا، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں برزخیوں کی کیفیت مدت دراز تک (تاقیامت) سونیوالوں کی سی ہوگی، سو نیوالے کے خواب میں پیش آنے والے واقعات سے رنج و راحت کا تعلق سونے والے کی روح سے ہوتا ہے نہ کہ جسد خاکی سے، یہی وجہ ہے کہ سونے والے کو خواب میں جو رنج و راحت کے واقعات پیش آتے ہیں ان کا اثر
 عام طور پر جسم پر ظاہر نہیں ہوتا اور نہ پاس میں موجود لوگوں کو سونے والے کے رنج وراحت کا احساس ہوتا ہے۔
 حالت نوم میں روح کا تعلق جسم سے پوری طرض منقطع نہیں ہوتا : حالت نوم میں روح کا تعلق ہونے کے باوجود کسی نہ کسی درجہ میں باقی رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات خواب میں پیش آنے والے واقعات کا اثر سونے والے کے جسم پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے اگر کوئی شخص خواب میں کسی خوفناک چیز کو دیکھتا ہے تو ڈر کر چیخ مار کر بیدار ہوجاتا ہے اور گھبرایا ہوا ہوتا ہے، اس کے برخلاف اگر کوئی مسرور کن واقعہ خواب میں دیکھتا ہے تو اس کے چہرے پر ہنسی اور مسکراہٹ کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ چھوٹا بچہ سونے کی حالت میں ہنستا اور کبھی روتا محسوس ہوتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچہ ڈرانے یا ہنسانے والے خواب دیکھ رہا ہے۔
 اسی طرح مرنے کے بعد روح حیوانی (نسمہ) کا تدبیری تعلق بدن سے منقطع ہوجاتا ہے، مگر وہی یعنی خیالی تعلق باقی رہتا ہے، جیسے ایک ٹیلیفون کا بے شمار ٹیلیفونوں سے بیک وقت تعلق قائم رہتا ہے، مگر جب کسی نمبر کو ڈائل کرتے ہیں، تو اس نمبر سے حقیقی رابطہ قائم ہوجاتا ہے، اس محسوس مثال سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آگئی کہ اگر جسم و روح کے درمیان حقیقی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ خیالی رابطہ بھی منقطع ہوجائے۔ (رحمہ اللہ الواسعہ ملخصا)
 عالم برزخ میں روح کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا اثر جسم پر بعض اوقات ظاہر ہوجاتا ہے
 اسی طرح عالم برزخ میں جب مردہ کی روح کے ساتھ اچھایا برا معاملہ ہوتا ہے، تو بعض اوقات ان واقعات کا اثر مردہ کے جسد خاکی پر ظاہر ہوجاتا ہے، بعض روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے، ایک روایت میں یہ مضمون وارد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قبر میں مردے کو عذاب ہونے کی اطلاع دی اور آپ نے ہری ٹہنی اس قبر پر گاڑ دی جس سے مردے کے عذاب میں تخفیف ہوگئی، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ روح کا تعلق جسم سے بالکلیہ منقطع نہیں ہوتا۔
 عالم برزخ میں مجازات : عالم برزخ میں عذاب و ثواب کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ انسان دنیوی زندگی میں جو اچھے یا برے اعمال کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان اعمال ہی کو تکلیف دہ یا راحت رساں چیزوں کی مثالی شکل میں متشکل کردیتا ہے، جیسا کہ اچھے برے اعمال کا اچھی بری شکلوں میں متشکل ہونا روایات سے ثابت ہے چنانچہ ایک درندہ صفت ظالم شخص عالم برزخ میں دیکھتا ہے کہ اسے کوئی درندہ نوچ رہا ہے، اور بخیل آدمی جس نے مالی حقوق واجبہ ادا کرنے میں کوتاہی کی ہوگی تو وہ اپنے مال کو سانپ، بچھو کی شکل میں اپنے اوپر مسلط دیکھتا ہے۔
 عالم برزخ میں پوری جزاء یا سزا نہیں ہوگی : عالم برزخ چونکہ عبوری اور عارضی وقفہ ہے ابھی مقدمہ عدالت خداوندی میں فیصل نہیں ہوا، اس کو باقاعدہ مجرم، یا جرم سے بری قرار نہیں دیا گیا اس لئے سزا یا جزاء کا معاملہ ابھی نہیں کیا جاتا دنیاوی قانون کی اصطلاح میں اس کو حوالات کا زمانہ کہا جاتا ہے، مگر ابتدائی انٹرویو سے مقدمہ کا رخ متعین ہوجاتا ہے، یہ انٹرویو (قبر) عالم برزخ میں فکر و نکیر لیتے ہیں جس میں مختصر طور پر تین سوال ہوتے ہیں، (١) مَنْ رَّبُّکَ ؟ (٢) مَادِیْنُکَ ؟ (٣) مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ ؟ اگر مردہ ان سوالات کا جواب صحیح صحیح دیدیتا ہے، تو اس سے کہا جاتا ہے : ''نَمْ کَنَوْمَةِ العُروس'' تو دلہن کی طرح آرام سے سوجا اور اس کی طرف جنت کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے، جس کے ذریعہ جنت کی خوشبوئیں، ٹھنڈی ہوائیں اس تک پہنچتی رہتی ہیں، گویا کہ وہ اشارہ ہوتا ہے اس کی کامیابی کی طرف، اور اگر منکر و نکیر کے سوالوں کا جواب صحیح نہ دے گا بلکہ گھبراہٹ کے عالم میں اس کی زبان سے : ''ھَاء ہَاء لا ادری'' نکلا تو اسکی طرف جہنم کے دریچوں میں سے ایک دریچہ کھول دیا جاتا ہے، پوری سزا مقدمہ فیصل ہونے کے بعد ہوگی۔
 فائدہ : عالم برزخ میں منکر و نکیر کے سوالوں اور مردے کے جوابوں اور اس کے نتیجے سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔
 اول : یہ کہ برزخی زندگی سونے والے کی حالت کے مانند ہے، اس لئے کہ فرشتے انٹرویو میں کامیاب ہونے والے شخص سے کہیں گے : ''نَمْ کَنَوْمَةِ الْعُرُوْسِ'' تو دلہن کے مانند سوجا یعنی اب تجھ کو قیامت تک کوئی اٹھانے والا نہیں، اس حدیث میں برزخی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے اسی کی تائید روز قیامت اٹھائے جانے والے مجرم کے مقولہ : ''مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا'' سے ہوتی ہے۔
 دوم : دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عالم برزخ کا مل مجازات کی جگہ نہیں ہے اس لئے کہ حدیث شریف میں جنت کی یا دوزخ کی جانب سے دریچہ کھولنے کا ذکر ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالم برزخ کا آخرت سے بہت خفیف اور معمولی تعلق ہے، اس لئے کہ عالم برزخ کوئی مستقل عالم نہیں ہے بلکہ دو عالم کے درمیان حد فاصل ہے، جس طرح کہ دھوپ اور چھاؤں دو مستقل چیزیں ہیں اور جہاں دھوپ اور چھاؤں کا التقاء ہوتا ہے، وہ جگہ دونوں کے درمیان حد فاضل ہوتی ہے دونوں کے اثرات وہاں ظاہر ہوتے ہیں، مگر چونکہ عالم برزخ عالم دنیا کا تتمہ اور ضمیمہ ہے، اس لئے یہ عالم، عالم دنیا سے قریب ہوتا ہے اور برزخ میں عالم آخرت کے اثرات بہت خفیف ظاہر ہوتے ہیں، اسی کو حدیث شریف میں کھڑکی کھولنے سے تعبیر کیا گیا ہے، واللہ اعلم بالصواب (رحمة اللہ الواسعة شرح حجة اللہ البالغہ اول از حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالنپوری استاذ حدیث دار العلوم دیوبند)۔
 نوٹ : بنیادی فکر حجة اللہ البالغة سے ماخوذ ہے، الفاظ اور تعبیر مع اضافہ احقر کی طرف سے ہے۔
 

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ

 الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ: (الآیة) مفسرین نے عہد کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت جو اس نے اپنے اوامر بجالانے اور نواہی سے باز رکھنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ مخلوق کو کی ہے، دوسرا وہ عہد جو اہل کتاب سے تورات میں لیا گیا کہ نبی آخر الزمان کے آجانے کے بعد تمہارے لئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا، تیسرے وہ عہد الست جو صلب آدم سے نکالنے کے بعد تمام ذریت آدم سے لیا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے : ''وَاِذْ اخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَلِی آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِہِمْ'' نقص عہد کا مطلب عہد کی پرواہ نہ کرنا ہے۔ (ابن کثیر)
 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرامین جاری کرتا ہے، اسے عربی کے محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے، جس کی رو سے تمام نوع انسانی صرف اسی کی بندگی کرنے پر مامور ہے (من بعد میثاقہ) (یعنی مضبوط عہد باندھ لینے کے باوجود) سے اشارہ اس طرف ہے کہ : آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا۔
 وَیَقْطَعُوْنَ مَا اَمَرَ اللّٰہُ: یعنی جن روابط کے قیام اور استحکام پر انسان کی اجتماع و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جنہیں درست
 رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر لوگ تیشہ چلاتے ہیں اس مختصر سے جملہ میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدن و اخلاق کی پوری دنیا پر جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلقات تک پھیلی ہوئی ہے صرف یہی ایک جملہ حاوی ہوجاتا ہے روابط کو کاٹنے سے مراد محض تعلقات انسانی کا انقطاع نہیں ہے بلکہ تعلقات کی صحیح اور جائز صورتوں کے سوا جو صورتیں بھی اختیار کی جائیں گی وہ سب اسی ذیل میں آجائیں گی، کیونکہ تعلقات کی صحیح اور جائز صورتوں کء سوا جو صورتیں بھی اختیار کی جائیں گی وہ سب اسی ذیل میں آجائیں گی، کیونکہ ناجائز اور غلط روابط کا انجام وہی ہے جو انقطاع روابط کا ہے یعنی بین الانسان تعلقات کی خرابی اور نظام اخلاق و تمدن کی بربادی۔
 آیت کے وسعت مفہوم میں سارے حقوق اللہ اور حقوق العباد داخل ہیں یعنی وہ تمام فرائض جو ہر انسان پر خالق اور مخلوق دونوں سے متعلق عائد رہتے ہیں۔ (ابن جریر عن ابن عباس)
 وُولٰئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ: اس نقصان میں دنیا کا خسارہ اور آخرت کا خسارہ دونوں داخل ہیں، دنیا میں تو اس لئے کہ عدم ایمان سے دلوں سے سکون و اطمینان رخصت ہوجاتا ہے اور آخرت میں اس لئے کہ آخرت میں ہر نعمت سے محروم رہے گا مَغْبُونونَ بذھاب الدنیا والآخرة۔ (ابن عباس)

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْییْ:

 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْییْ: (الآیة) ممکن ہے کہ یہ لفظ خود معترضین نے استعمال کیا ہو کہ یہ کیسا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خدا ہے کہ جو ایسی حقیر چیزوں کی مثال پیش کرتے بھی نہیں شرماتا اور قرآن مجید نے مشاکلت کی رعایت سے اس لفظ کو دہرایا ہو۔
 یجوز اَنْ تَقَعَ ھذہ العبارة فی کلام الکفرة فقالوا أما یستحیی رب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان یَضْرِبَ مثلا بالذبابِ وَالْعَنْکَبُوْتِ فجاءت علی سبیل المقابلة واطباقِ الجواب علی السوال۔
 اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اعتراض کے دفعیہ کے طور پر خدا ہی کا کلام ہو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توضیح مدعا کے لئے بڑی اور عظیم مخلوق کا تذکرہ آیا ہے اور چھوٹی اور حقیر شئی کا بھی، قرآن مجید میں، جہاں ایک طرف ارض و سمائ، اور شمس و قمر کا تذکرہ ہے تو دوسری طرف مکھی، مچھر اور چیونٹی اور مکڑی کا ذکر ہے اس تمثیلی تذکرہ پر بعض کم فہموں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ کیسا خدائی کلام ہے؟ دعویٰ تو خدائی کا اور تذکرہ حقیر چیزوں کا حالانکہ، کلام الملوک ملوک الکلام کے قاعدے اس میں حقیر اور ذلیل چیزوں کا تذکرہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔
 تمثیل کا مقصد : تمثیل کا مقصد اور غرض و غایت ممثل لہ کی وضاحت اور اس کو ذہب نشین کرانا ہوتا ہے لہٰذا یہ مقصد جس مثال سے پورا ہو سکے اس کو بہتر کہا جائے گا مثال میں پیش کی جانے والی چیز خواہ کیسی ہی حقیر کیوں نہ ہو، مچھر بظاہر ایک بہت حقیر اور بے وقعت سی مخلوق ہے اب جہاں کسی شئی کی بے وقعتی بیان کرنی ہے وہاں ظاہر ہے کہ مناسب اور موذوں مثال مچھر ہی کی ہوگی، اس پر اعتراض سفاہت و حماقت کے سو اور کیا ہوسکتا ہے؟
 فَمَا فَوْقَھَا : یعنی مچھر سے بڑھ کر خواہ جسم و جثہ میں یا صغر و حقارت میں (دونوں معنوں کی گنجائش ہے) اللہ کی بیان کروہ مثالوں سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ اور اہل کفر کے کفر میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ سب اللہ کے قانون قدرت و مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے۔''فسق'' اطاعت الٰہی سے خروج کو کہتے ہیں، جس کا ارتکاب عارضی اور وقتی طور پر ایک مومن سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس آیت میں فسق سے مراد اطاعت سے کلی خروج ہے یعنی کفر، جیسا کہ آئندہ آیت سے واضح ہے۔

Thursday, 10 March 2016

حاملین علم کا مقام اور ذمہ داریاں

حاملین علم کا مقام اور ذمہ داریاں
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
از:(مفتی) حارث عبدالرحیم فاروقی، استاذِ اَدب، نورالعلوم بہرائچ
جہاں         جہاں        نظر       آئیں     تمہیں        لہو        کے           چراغ
مسا  فر  ا  ن   محبت   ہمیں    د عا    د ینا
ہرہوش مند مسلمان کو اس بات کا علم ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد سب سے اہم چیز ”علم دین“ ہے۔ کیونکہ جو چیزیں ایمان میں مطلوب ومقصود ہیں، کہ جن پر عمل کرنے سے ایمان میں کمال آتا ہے، اور جن پر دین کی اشاعت و حفاظت کا مدار ہے، وہ چزیں دین کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے کتاب الایمان کے معاً بعد، علم سے متعلق احادیث کو جمع فرمایا ہے، اور انہی کی پیروی کرتے ہوئے ”صاحب مشکوٰة“ علامہ بغوی نے بھی اپنی تالیف ”مشکوٰة“ شریف میں کتاب الایمان کے بعد ”کتاب العلم“ کو جگہ دی ہے۔
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک علم دین بہت ہی افضل شیٴ ہے لہٰذا ”صاحب علم“ کا بھی مخصوص ترین مقام ہے قرآن پاک میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”ہَلْ یَسْتوی الذینَ یَعْلَمُون والذین لا یعلمون“ یعنی جاہل آدمی خواہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہوجائے، کتنی ہی زیادہ عبادت و ریاضت کرلے؛ لیکن وہ صاحب علم کے مقام کو پالے یہ ناممکن اور محال بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عالم دین کی عزت و توقیر کے لئے نیز اس کے حق میں دعاء مغفرت کرنے کیلئے ساری کائنات کو لگارکھا ہے، اسی کے ساتھ میدان محشر میں اس کو ایسے انعامات سے سرفراز کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، جن کو سن کر فرشتے تک رشک کرتے ہیں؛ لیکن جس طرح اہل علم کا بلند و بالا مقام و مرتبہ ہے، اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی بہت نازک ہیں، جس طرح ان کے چھوٹے چھوٹے کاموں پر بے شمار بشارتیں ہیں۔ اسی طرح مفوضہ ذمہ دار سے کنارہ کشی کی صورت میں، ان کے لئے سخت ترین وعیدیں بھی ہیں، ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علماء کرام اس دنیا کے اندر قابل رشک بن کر رہتے، لیکن آج اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنے مقام و مرتبہ کو فراموش کرکے، اپنی فضیلتوں و عظمتوں کو نظر انداز کرکے، نیز کوتاہیوں کی صورت میں وارد شدہ وعیدوں اور دھمکیوں سے تغافل برت کر، ان کاموں میں لگا ہوا ہے جن سے پورے طبقہٴ علماء کی جگ ہنسائی ہورہی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے مصرف اور بے فیض چیز سمجھی جارہی ہے تو یہ اہل علم کی جماعت ہے، حالانکہ اس جماعت کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں لاجواب زندگی گزارنے کا، ایسا بہترین نسخہ بتایا تھا، جس پر یہ حضرات عمل کرتے تو ساری کائنات ان کے قدموں میں جھک جاتی، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو اہل دنیا کے سامنے کاسہ گدائی لیکر پھرنے والا راستہ نہیں بتایا تھا، بلکہ ان کو سرداروں اور سربراہوں کی طرح جینے کا سلیقہ عطاء فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زندگی گزاری، دنیا والوں نے ان کو اپنے سروں پر بٹھایا، اور آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی جولوگ استقامت کے ساتھ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں دنیا ان کے سامنے ذلیل ہوکر آرہی ہے۔ اور یہ دنیا کو اپنی ٹھوکروں سے مار رہے ہیں۔ زیر نظر مقالہ میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فرامین کو جمع کیاگیا ہے، مقصد یہ ہے کہ جو شخص بھی علم کی کسی طور پر بھی خدمت کررہا ہے اس کو اپنے مقام و مرتبہ اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور وہ آقا کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی ڈھال کر اپنا کھویا مقام حاصل کرسکے اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کو اپنا مقدّر بنالے۔
حصول علم میں مشغول رہنے والے کیلئے بشارت
طالب علم ہو، عالم دین ہو، یا ان کے علاوہ دینی مشغلہ رکھنے والا کوئی بھی شخص ہو، اگر وہ علم دین کے حصول اور اس کی اشاعت میں لگا ہوا ہے تواس کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار بشارتیں ہیں، ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”لَنْ یَشْبَعُ الْمُوٴمِنُ مِن خَیْرٍ سَمِعَہُ حَتّٰی یکونَ مُنْتَہَاہُ الجنَّةَ“ مومن کا پیٹ خیر کی بات سننے سے کبھی نہیں بھرتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی ساری زندگی طلب علم میں لگادی، اس کو جنت کی بشارت ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر بہت سے اولیاء کرام ساری زندگی طالب علم ہی بنے رہے، حدیث میں طلب علم کی کوئی خاص شکل متعین نہیں ہے؛ لہٰذا جو شخص بھی مرتے وقت تک کسی طرح کے بھی علمی کام میں مشغول ہے، وہ اس بشارت کا مستحق ہے۔
ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جو شخص طلب علم کیلئے نکلا تو وہ جب تک واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہد کی طرح ہے؛ کیونکہ جس طرح مجاہد، اللہ کے دین کو زندہ کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے، اسی طرح طالب علم بھی احیاء دین کے مقصد سے اپنا سب کچھ قربان کرتا ہے؛ لہٰذا فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق طالب علم گھر واپس آنے تک مجاہد کے مانند ہے، یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طلب علم کے بعد گھر لوٹنے سے طالب علم کے مرتبہ میں کمی نہیں آتی؛ بلکہ اس کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے؛ کیونکہ حصول علم کے بعد اب وہ عالم دین ہوگیا، اور عالم دین ہونے کی وجہ سے وہ انبیاء کا وارث بن گیا۔(۲) طلب علم کا اس قدر فائدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کفَّارَةً لِمَا قَضٰی“(۳) یعنی طلب علم کی وجہ سے ماضی میں کئے ہوئے گناہ معاف ہوجاتے ہیں گناہوں سے یا تو صغیرہ گناہ مراد ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ طلب علم کے ذریعہ سے توبہ کی توفیق ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سارے گناہ زائل ہوجاتے ہیں معلوم ہوا کہ طلب علم کے نتیجہ میں جنت کی بشارت بھی ہے، مجاہدوں جیسا ثواب بھی ہے اور ماضی میں کئے ہوئے گناہوں کی بخشش کا پروانہ بھی ہے۔
دین میں بصیرت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی سچائی اور راست گوئی کی دوست و دشمن ہر شخص نے تصدیق کی اور جن کی ہر بات کے واقع کے مطابق ہونے کا یقین ہر مسلمان کے عقیدہ کا جز ہے، انھوں نے فرمایا: ”مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْن“(۴) اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اس کو دین کی بصیرت عطا فرماتے ہیں، اس حدیث سے نہ صرف تفقہ فی الدین کی عظمت معلوم ہوئی؛ بلکہ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ یہ ایسا کمال ہے جو اللہ تعالیٰ ہر کس و ناکس کو نہیں عطا فرماتے، لہٰذا جس کو دین کی بصیرت حاصل ہوجائے اس کو اپنے آپ کو نہایت خوش نصیب سمجھنا چاہیے اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے رہنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کی بناء پر پورے اطمینان سے یہ بات کہی جاسکتی ہے، ایسے تو کوئی انسان یہ نہیں بتاسکتا کہ خدا وند قدوس کااس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا، لیکن فقیہ اس حدیث کے پیش نظر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ خیر کا ارادہ ہے کیونکہ ”تفقہ فی الدین“ عطاء ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ نے میرے لئے خیر کا ارادہ فرمارکھا ہے؛ لیکن اس بشارت کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت حسن بصری کی صراحت کے مطابق ”فقیہ“ وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کش ہوکر فکر آخرت میں لگا رہتا ہو، ہمیشہ دینی معاملات اس کے مدّنظر رہتے ہوں اور اپنے رب کی اطاعت میں مشغول رہتا ہو۔(۵) جب کوئی اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرلے اس کے بعد ہی اس کو اپنے آپ کو اس بشارت کا مستحق سمجھنے کا حق ہے۔
علم سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے
کون ایسا انسان ہوگا جس میں کوئی نہ کوئی خوبی اور اچھائی نہ ہو۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ اچھائیاں ضرور ہوتی ہیں۔ اگرکوئی شخص اپنی خوبیوں میں نکھار پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو علم دین حاصل کرنا چاہئے۔ علم دین سے خوبیوں میں جلا پیدا ہوتا ہے ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خِیارُہُمْ فِیْ الجاہِلِیّةِ خِیَارُہُمْ فی الاِسْلاَمِ اذَا فَقِہُوْا(۶) یعنی جولوگ حالت کفر میں معزز سمجھے جاتے تھے، اگر وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں بھی ان کو عزت و توقیر ملے تو ان کیلئے سب سے مفید نسخہ یہ ہے کہ وہ ”احکام شرعیہ“ کے عالم ہوجائیں، احکام شرعیہ کے علم سے زمانہ جاہلیت کی خوبیوں میں نکھار آجائے گا اوروہ کام کی بن جائیں گی۔ اِس حدیث میں ہر مسلمان کے لئے یہ درس ہے کہ ایک مسلمان کی عزت و عظمت اوراس کی سربلندی کا راز نہ مال و دولت میں ہے نہ حسب و نسب میں؛ بلکہ اس کی خیریت و عافیت اور اس کی ترقی کا انحصار احکام شرعیہ کے علم اوراس کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔
علم دین قابل رشک چیز ہے
علم دین بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس کے حاصل ہونے پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے ایک موقعہ پر سرورکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوطرح کے لوگ ہی رشک کے قابل ہیں ایک شخص تو وہ ہے جو مال پاکر اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور دوسرے شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا: ”وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الحِکْمَةَ فَہُوَ یَقْضِیَ بِہَا“(۷) دوسرا شخص وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم عطا فرمایا اور وہ اس علم کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اوراس علم کو لوگوں کو سکھاتا بھی ہو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دین عطا فرمایا اوراس نے دین کے سکھانے اوراس کے مطابق فیصلہ کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا تو یہ قابل رشک آدمی ہے لوگوں کو اس کے نصیب کی بلندی اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے مقام و مرتبہ کی رفعت پر جتنا رشک ہو کم ہے۔
علماء ہی بقائے علم کا سبب ہیں
یہ علماء ہی کا مقام و مرتبہ ہے کہ ان کے دم سے علم کا وجود ہے جب اللہ تعالیٰ اس دنیا سے علماء کو اٹھالیں گے تو علم بھی اٹھ جائے گا اور علم کے اٹھ جانے کے سبب ہر جانب تاریکی پھیل جائے گی کوئی صحیح راہ دکھانے والا نہ ہوگا ہر شخص گمراہی کے عمیق غار میں سرتاپیر غرق ہوگا، جہلاء علماء کی جگہ بیٹھ کر ایسی ایسی باتیں بتائیں گے؛ جن پر عمل کرکے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس لئے علماء کے وجود کو باعث خیر و برکت سمجھ کر ان سے حتی المقدور استفادہ کی ہر ایک کوشش کرنا چاہئے اور ان سے محبت رکھنے کو اپنے لئے سعادت خیال کرنا چاہئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ”اِنَّ اللّٰہَ لا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انتزاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ العِبَادِ وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعَلَمَاءَ“(۸) اللہ تعالیٰ دین کا علم اس طرح نہیں اٹھائیں گے کہ لوگوں کے اندر سے کھینچ لے؛ بلکہ علماء کو اٹھالینے کی صورت میں دین کا علم اٹھ جائے گا، یعنی علماء زندہ رہیں اور ان کے سینوں سے علم نکال لیاجائے یہ نہیں ہوگا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ حاملین علم کو اٹھالیں گے اور ان کی جگہ دوسرے علماء پیدا نہیں ہوں گے۔ اس طرح علم خود بخود ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا بقائے علم کے لئے ہر عالم کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے بعد کچھ علماء چھوڑے۔
عالم دین عابد سے افضل ہے
ایسا عالم دین جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہو، وہ عابد سے بہت زیادہ بلند مقام رکھتا ہے اس کے مقام و مرتبہ کے آگے راتوں کو جاگ کر اللہ اللہ کی ضربیں لگانے والے شب زندہ دار عابد کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ عالم دین نہ صرف اپنے آپ کو جہنم سے بچاتا ہے، بلکہ دوسرے بہت سے لوگوں کو بھی جہنم سے بچاکر جنت والے راستہ پر ڈال دیتا ہے، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ فَضْلَ العَالِم عَلَی العابدِ کَفَضْلِ القَمَرِ لَیْلَةَ البدرِ عَلیٰ سَائِرِ الکَوَاکِبِ“(۹) عالم کو عابد پر ایسی فضیلت ہے جیسے کہ چودھویں رات کے چاند کو تمام تاروں پر بڑائی اور برتری حاصل ہوتی ہے، دوسری جگہ عالم کو عابد پر ترجیح دیتے ہوئے فرمایا: ”فضل العالِمِ عَلَی العَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلَی اَدْنَاکمْ“(۱۰) عالم کو عابد پر ایسی ہی فضلیت ہے جیسے کہ مجھ کو تم میں سے ادنیٰ شخص پر حاصل ہے، اس ارشاد سے یہ بات سمجھ میں آئی، کہ جب عالم کوعابد پر اتنی فضیلت ہے تو عام لوگوں پر عالم کو جو فضیلت ہوگی اس کا اندازہ کرنا بہت دشوار بات ہے، لہٰذا عالم کے ساتھ بدکلامی کرنا اس کے بارے میں فاسد خیال رکھا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی توہین اور ان کے ارشاد کی پامالی ہے، عالم کو عابد پر اس قدر ترجیح دینے کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر کیاگیا کہ عالم کا فائدہ متعدّی ہوتا ہے جبکہ عابد کا فائدہ لازم ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عالم شیطان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہونے کی بناء پر اس کے دام میں آنے سے خود بھی محفوظ رہتا ہے اورامت کی بھی حفاظت کرتا ہے؛ جبکہ عابد شیطان کے دام میں الجھے رہنے کے باوجود اپنے آپ کو عبادت و ریاضت میں مشغول خیال کرتا ہے، اسی بنیاد پر آپ نے فرمایا: ”فقیہ واحِدٌ اَشدُّ عَلَی الشَیْطَانِ مِن الفِ عابدٍ“(۱۱) ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، لہٰذا عام لوگوں کو نیک عالم کا قرب اختیار کرنا چاہیے، تاکہ وہ عالم کی صحبت کی برکت سے شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہیں۔
علماء وارثین انبیاء ہیں
اگرکوئی عالم دین کی قدر و منزلت کا اندازہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس بات سے کرے، کہ علماء کرام انبیاء عظام کے وارث ہوتے ہیں انبیاء کے بعد علماء ہی کامرتبہ ہے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اِنَّ الْعُلَمَاءَ ورثَةُ الانبیاءِ وانَّ الانبیاءَ لَمْ یورِّثو دِیْنَارًا ولاَ دِرْہَمًا وانَّمَا وَرَّثُوالْعِلْمَ فَمَنْ اخَذَہُ اَخْذَ بحظٍ وَافِرٍ“(۱۲) علماء دین انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء دینار و درہم کے وارث نہیں بناتے ہیں وہ تو علم کا وارث بناتے ہیں جس نے دین کا علم حاصل کرلیا اس نے پورا حصہ پالیا۔
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ بازار سے گزر رہے تھے لوگوں نے دیکھا کہ وہ تجارت میں مشغول ہیں آپ نے فرمایا تم لوگ یہاں کاروبار میں مشغول ہو اور مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے لوگ فوراً مسجد کی طرف دوڑگئے، وہاں جاکر دیکھا کہ کچھ لوگ تلاوت میں مشغول ہیں، کچھ حدیث پڑھ رہے ہیں، کچھ دوسرے لوگ علمی مذاکرہ میں مصروف ہیں کچھ لوگ ذکر و اذکار اور تسبیح و مناجات میں لگے ہوئے ہیں۔ آنے والوں نے یہ دیکھ کر ابوہریرہ سے کہا آپ نے تو فرمایا تھا کہ مسجد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہورہی ہے، اور یہاں تو کچھ ایسا نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا جن چیزوں میں یہ لوگ مشغول ہیں، یہی چیزیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہیں۔ یاد رکھو! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث دنیا نہیں ہے۔“(۱۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فدک زمین اسی طرح دیگر انبیاء کرام کسی چھوڑی ہوئی دنیوی چیزوں کا مالک ان کی اولاد میں سے کوئی نہیں بنا، اور اُن چیزوں میں وراثت نہیں چلی؛ بلکہ وہ سب چیزیں تمام مسلمانوں کیلئے وقف ہوگئی تھیں۔(۱۴) علماء اور انبیاء کا اتنا قریبی تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ جاء ہُ المَوْتُ وہُوَ یَطْلبُ الْعِلْمَ لِیحْی بہ الاِسْلاَمَ فَبَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّبیینَ درَجَةٌ واحدةٌ فی الجنَّةِ“(۱۵) جس شخص کو موت ایسی حالت میں آئی، کہ وہ دین کا علم اسلام کو زندہ کرنے کی غرض سے حاصل کررہا تھا، تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا۔
عالم کے لیے ساری کائنات دعاء گو رہتی ہے
کائنات کی سب سے عزیز ترین اور محبوب ترین ہستی، دین کے طالب کی ہستی ہے، یہی وجہ ہے کہ دین کے طالب کیلئے کائنات کی ہر ہر شی مصروف دعا رہتی ہے؛ حتی کہ فرشتہ اس کے اعزاز میں پر بچھائے رہتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ سَلَکَ طَرِیقًا یَطْلبُ مِنْہُ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ بِہ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وانَّ المَلاَئِکَةَ لتَضَعُ اَجْنِحَتہَا رِضًی لِطَالِب العِلْمِ وانّ العالِمَ یستغفرلَہُ مَنْ فی السمٰواتِ وَمَن فِیْ الاَرْضِ والْحِیْتَان فی جَوْفِ المَاءِ“(۱۶) اس حدیث سے جہاں ایک طرف یہ بات معلوم ہوئی کہ علم دین کیلئے سفر کرنا نہایت مستحسن ومتبرک فعل ہے وہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ علم کیلئے سفر کرنا درحقیقت جنت کی راہ پر گامزن ہونا ہے، دین کا طالب اتنا معزز ہے کہ فرشتے اس کیلئے پر بچھاتے ہیں، پر بچھانے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے طالب علم کی نہایت عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آتے ہیں، یا پھر یہ مطلب ہے کہ وہ حقیقتاً پر بچھاتے ہیں لیکن ہم اپنی اِن کوتاہ آنکھوں سے اس کا نظارہ نہیں کرپاتے ہیں اور عالم کیلئے آسمان و زمین کی تمام مخلوق حتی کہ پانی میں مچھلیاں مغفرت کی دعا کرتی رہتی ہیں، لیکن یہ تمام عظمتیں و رفعتیں، اور ساری کی ساری سعادتیں و برکتیں اس وقت ہیں، جب علم کا طالب اپنے علم کی حق تلفی نہ کرے، حصول علم کے دوران اور اس کے بعد کی جو ذمہ داریاں ہیں ان سے پہلو تہی نہ کرے۔
علم کی راہ میں ا خلاص ضروری ہے
علم دین حاصل کرنے میں، لوگوں کو اس کے سکھانے میں،اس کے مطابق فیصلہ کرنے میں، غرضیکہ ہر وقت اور ہر قدم پر اخلاص لازمی شی ہے، علم دین اخلاص کے بغیر بجائے نفع کے نقصان کا سبب ہے،اگر کوئی طالب علم دکھاوے کیلئے علم کا جوئندہ بنتا ہے، یا کسی عالم نے دنیا داری کے لئے تعلیم و تعلّم کا پیشہ اختیار کررکھا ہے تو ایسے ریاکار لوگوں کے انجام کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پہلے فرمایا ہے ”رجُلٌ تعلَّمَ القرآن وعلَّمَہُ و قرالقُرآنَ فاُتِیَ بہ فعرّفَہُ نِعَمَہُ، فعرفَہَا، قَالَ فَمَا عَلِمْتَ فِیْہَا․ قَالَ تعلَّمتُ العِلْمَ، وعَلَّمْتُہُ وقراتُ القرآن فیک قَالَ کذبْتَ ولٰکِنَّکَ تعلّمتَ العلْمَ لیُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وقراتَ القرآنَ لِیُقَالَ اِنک قَارِیٌ، فَقَدْ قِیلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہ فسُحّبَ عَلیٰ وَجْہِہ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ“(۱۷) اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایک ایسا شخص لایا جائے گا جس نے دین کا علم حاصل کیاتھا، دوسروں کو اس کی تعلیم بھی دی تھی، قرآن پاک بھی پڑھا تھا، پہلے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں اپنی عطا کردہ نعمتوں کو یاد دلائے گا، وہ شخص ان نعمتوں کا اعتراف بھی کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائیں گے تم نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں میری رضا کے خاطر کون سے کام انجام دئیے، وہ شخص کہے گا میں نے دین کا علم حاصل کیا، دوسروں کو اس کی تعلیم دی اور تیری خوشنودگی کے لئے قرآن پاک پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تونے جھوٹ کہا، دراصل علم تونے اس غرض سے حاصل کیا تھا، کہ مخلوق کے درمیان تو عالم مشہور ہوجائے اور قرآن پڑھنے کی غرض یہ تھی، کہ لوگ تیرے بارے میں کہیں کہ قاری تو فلاں شخص ہی ہے، تو جو تونے چاہا وہ تجھ کو دنیا میں مل گیا، چہار دانگ عالم میں تمہاری شہرت کے خوب ڈنکے بجے، اب یہاں تم کو کچھ بھی نہیں ملے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں حکم دیں گے، کہ اس کو منھ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لیجاؤ اوراس کو منھ کے بل جہنم میں ڈال دو، یاد رکھنا چاہئے کہ اخلاص سے عاری، ریاکار عالم، قاری، اور عابد وغیرہ کے لئے ایسی ہولناک سزائیں ہیں جن کا اگر دل میں یقین جاگزیں ہوجائے، تو اِن میں سے کوئی ریا کے قریب سے بھی نہ گزرے، ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جبُّ الحزن“ سے یعنی رنج و غم کے کنویں سے اللہ کی پناہ مانگو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”جب الحزن“ کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں ایک کھائی ہے جس سے خود دوزخ ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کون ڈالا جائے گا، آپ نے فرمایا: ”القرّاءُ المرأونَ باَعْمَالِہِم“(۱۸) وہ قرآن پڑھنے والے جو اپنے عمل میں ریا کاری کرتے ہیں، شراح حدیث نے ذکر کیا ہے، اس حکم میں ریاکار عابد، عالم، قاری، سب داخل ہیں۔ یہیں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اخلاص کے فقدان کی وجہ سے قیامت کے دن نیک اعمال بھی وبال بن جائیں گے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں عظیم سے عظیم ترین کام اور بڑی سے بڑی قربانی بغیر اخلاص کے ایسی ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم اور خوشبو کے بغیر پھول ۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مجاہدین، علماء اور راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کی جو تعریف وارد ہوئی ہے اور ان کے لئے جن بلند درجات کا وعدہ فرمایاگیا ہے، وہ سب اس وقت ہیں جب یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں انتہائی اخلاص کے ساتھ انجام دیتے ہوں۔(۱۹)
اخلاص کا حاصل رضائے الٰہی
علماء اور طلباء کے لئے علم کی راہ میں اخلاص کو ضروری قرار دیاگیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ علم کی راہ میں جو بھی کوشش اور محنت کریں وہ صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں، حصول علم اور اشاعت علم کا مقصد حصولِ دنیا نہ ہو۔ اگر کوئی حصول دنیا کی غرض سے علم کی راہ میں لگا ہوا ہے، تو اس کے لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت وعیدیں ہیں۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”مَنْ تعلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُتْبغیٰ بِہ وَجہُ اللّٰہِ لا یتعَلّمہُ اِلاّ لِیُصِیبَ بِہ عرضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یجِدْ عَرَفَ الجَنَّةِ یَوْمَ القِیَامَةِ یعْنِی رِیحَہَا“(۲۰) جس شخص نے اللہ کی رضا حاصل کرنے والا علم دنیاوی سازوسامان حاصل کرنے کی غرض سے سیکھا اس کو قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی، علم کی غرض کسب دنیا نہ ہونا چاہئے، البتہ اگر اس کے ذریعہ سے بلا طلب دنیا مل رہی ہے، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کسب معاش کیلئے دنیوی علوم سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے؛ لیکن جن علوم کے سیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے مثلاً کہانت وغیرہ، ان کو کسب معاش کیلئے بھی سیکھنا درست نہیں ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ علم دین محض اللہ کی رضا کیلئے سیکھنا چاہئے اس میں کسی طرح کی ریاکاری، کوئی دنیوی غرض، اور کسی بھی طرح کا فخر وغرور شامل نہ ہونے دینا چاہئے۔ اوراگر کوئی علم کو اپنی بڑائی اور فوقیت قائم کرنے کیلئے سیکھتا ہے تو یہ بھی سخت جرم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مَنْ طَلَبَ العلْمَ لِیُجاری بِہ العُلَمَاءَ اَوْ لیُمَارِی بِہ السُّفَہَاءَ اَوْ یَصْرِفَ بہ وجُوہَ النَّاسِ اِلَیْہِ ادخَلَہُ اللّٰہُ النّارَ“(۲۱) جس شخص نے علم اس وجہ سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعہ سے علماء دین کا مقابلہ کرے یا بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے یا لوگوں کو اپنی شخصیت کی طرف متوجہ کرے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال دیں گے۔
عالم دین کی فرائض سے غفلت
عالم دین کا فرض منصبی ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت دے، کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اورانبیاء کرام کا اصل مشن بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانا تھا۔ لہٰذا علماء کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غافل لوگوں کے دلوں میں اس کی یاد پیدا کرنے کی کوشش کریں، اسلام کی اشاعت اور دین کی تبلیغ کیلئے بھرپور جدوجہد کریں، اگر کوئی عالم اپنے اس فریضہ کو فراموش کربیٹھا ہے، یا اس سے غفلت برت رہا ہے تو اس کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے حساب سے دین کو ڈھارہا ہے۔ حضرت زیاد ابن جدیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کو ڈھانے والی کیا چیز ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”یَہْدمُہُ زلة العَالِمِ“(۲۲) عالم کا پھسلنا اسلام کو ڈھادیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عالم اگر اپنے فرائض سے غافل ہوکر، خواہش نفس پر عمل کرنے لگے تو اس کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی احکامِ اسلام پر عمل ترک کردیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کی بنیادیں ہل جائیں گی اور اسلام منہدم ہوجائے گا۔
علم چھپانا سخت گناہ ہے
جو شخص دین کا عالم ہے اس کو چاہئے کہ وہ دوسروں کو سکھائے، اگر لوگ اس سے فیض نہیں حاصل کرپارہے ہیں، تو صاحب علم کو سمجھنا چاہئے کہ اس کا علم نفع بخش نہیں ہے، اگر کسی عالم سے کوئی دینی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود لوگوں کو مطلع نہیں کیا تو ایسے شخص کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ”مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہُ، ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ القِیَامَةِ بِلِجَامٍ مِن النَّارِ“(۲۳) جس شخص سے علم دین کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے جاننے کے باوجود چھپایا تو ایسے شخص کو قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی، قیامت کے دن اس کو اتنی سخت سزا اس وجہ سے دی جائے گی کہ اس نے علم کے مقصد نشرواشاعت کو زائل کردیا، اس نے معلوم شدہ بات میں سکوت اختیار کرکے دنیا میں اپنے منھ میں لگام ڈالی لہٰذا آخرت میں آگ کی لگام اس کے منھ میں ڈالی جائے گی، اسی وجہ سے ہر عام کو خوب متنبہ رہنا چاہئے، جو شخص بھی اس سے دین کی کوئی ضروری بات پوچھے تو اگر صحیح طور پر جانتا ہے تو اس کو بتانے سے ہرگز ہرگز دریغ نہ کرے؛ تاکہ اس وعید کا مستحق نہ بنے۔
علم کو صلاحیت کے مطابق سکھانا چاہئے
عالم دین کو خود علم کی وقعت اور عزت کرنا چاہئے علم کو سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھی بہتر سمجھنا چاہئے جس طرح ایک دنیا دار آدمی کبھی کتے اور خنزیر کی گردن میں ہیرے جواہرات کے زیور نہیں ڈالتا ہے؛ اسی طرح علماء دین کو بھی چاہئے کہ ناقدروں کو علم نہ سکھائیں، مسئلہ بتادینا یہ دوسری بات ہے؛ لیکن علم سکھانا اور علمی نکات بتانا یہ دوسری چیز ہے، مسئلہ تو جوبھی دریافت کرنے آئے اس کو اس کے فہم کے اعتبار سے بتادینا بہتر ہے؛ لیکن جہاں تک علم دین سکھانے کا تعلق ہے؛ تو وہ صرف قدردانوں تک ہی محدود رکھنا چاہئے۔ اسی طرح کسی شخص کی صلاحیت سے بڑھ کر، اس کو علم سکھانا بھی علم پر ظلم کرنا ہے؛ جو شخص معمولی باتیں نہ سمجھتا ہو اس کے سامنے تصوف کی باریکیاں بیان کرنا؛ یہ علم کے ساتھ مذاق کرنا ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غیر اَہْلِہ کمُقَلِّدِ الحَنَازِیْرِ الجوہَر والّلوْلُو والذہَب“(۲۴) نااہلوں کو علم سکھانے سے اس لئے منع فرمایا کہ وہ علمی باریکیوں کو سمجھ نہیں سکیں گے، اور بغیر سمجھے عمل شروع کرنے کے نتیجے میں شیطان کے دام میں پھنس کر گمراہ ہوجائیں گے۔ لہٰذا علماء دین کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ علم دین سکھاتے وقت طلباء و عوام کی صلاحیتوں کا خاص خیال رکھ کر ان کو مستفید کریں۔
علماء کرام کو اشاعت حدیث کا خاص خیال رکھنا چاہئے
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو یاد کرنا اور ان کو لوگوں تک پہنچانا بہت بڑی سعادت کی بات ہے اس امت کے سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اس سعادت کا اپنے آپ کو مستحق بنایا ہے اور ساری زندگی اللہ کے نبی کے فرامین کی خدمت میں گزار دی یہ اتنی بڑی سعادت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نَضَّر اللّٰہُ اِمْراءً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہُ“(۲۵) اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے مجھ سے کچھ سنا پھر جس طرح سے اس نے سنا تھا اسی طرح دوسرے تک پہنچادیا۔ اللہ کے نبی نے اپنے فرامین کی اشاعت کرنے والے کیلئے یہ دعاء کی ہے ۔ بعض محققین فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا فوراً قبول ہوگئی، یہی وجہ ہے کہ حدیث کی خدمت کرنے والوں کے چہروں پر نورانیت رہتی ہے۔ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا: ”مَنْ حَفِظَ عَلیٰ اُمَّتِی اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا فِیْ اَمْرِ دِیْنِہَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْہًا وکنْتُ لَہُ یَوْمَ القِیَامَةِ شَافعًا وشہیدًا“ جس شخص نے میری امت کے نفع کے لئے دینی امور سے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرلیں تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے اور میں اس کی شفاعت کرنے والا اور اس کی نیکیوں پر گواہی دینے والا ہوں گا۔ حفظ حدیث اور نشر حدیث کرنے والے کیلئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شفارش کی ذمہ داری لی ہے اور اس بات کی بشارت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو فقیہ بناکر اٹھائیں گے ان تمام بشارتوں کے باوجود اہل علم کا ایک بہت بڑا طبقہ علم حدیث سے تغافل برت رہا ہے۔ اس طبقہ نے صرف حدیث کا پڑھ لینا ہی کافی سمجھ لیا ہے۔ حدیث کے یاد کرنے اوراس کے پھیلانے کی طرف کوئی قابل ذکر توجہ نہیں ہے۔ اگرکسی شخص کی یہ خواہش ہے کہ قیامت کے روز اس کا شمار فقیہوں میں ہو تو اس کو اولین فرصت میں کم از کم چالیس اَحادیث یاد کرکے لوگوں تک پہنچانے کی تگ و دو کرنا چاہئے، لیکن اس کے ساتھ حدیث کے انتخاب اور اس کے یاد کرکے روایت کرنے میں پوری احتیاط برتنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ موضوع روایات یا منسوخ و متروک روایات یاد کرکے اس کو نشر کردے اور بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا پڑجائے اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط لازم ہے اسی وجہ سے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتَّقو الحَدِیْثَ اِلاَّ مَا علِمْتُمْ فَمن کذبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار“(۲۷) آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے حدیث روایت کرنے سے بچو۔ صرف وہی حدیث نقل کرو جس کے بارے میں تم کو یقین ہو کہ یہ میری حدیث ہے جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں ڈھونڈھنا چاہئے۔“ لہٰذا احادیث یاد کرنے اور ان کو نقل کرنے میں یا تو کسی حدیث کی معتبر کتاب کا انتخاب کرنا چاہئے یا پھر کسی ماہر عالم کی طرف رجوع کریں۔ اور عام علماء کو اگر کسی چیز میں تشویش ہو تو وہ راسخ فی الدین اور جید الاستعداد عالم سے اپنا مسئلہ دریافت کریں اپنی طرف سے کوئی بات نہ کہہ دینا چاہئے۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فَمَا عَلِمْتُمْ مِنہ فقُوْلوا وَمَا جعَلْتُم فکلوہُ اِلیٰ عالِمِہ “(۲۸) تم لوگ وہی بات کہو جو علماء کے ذریعہ سے تمہارے علم میں ہے اور جس بات سے تم ناواقف ہو اس کو علم رکھنے والوں کے سپرد کردو اپنی طرف سے دین میں دخل اندازی اور اپنے نفس سے حدیث کے بارے میں موشگافی نہ کرنا چاہئے۔
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد: 89 ‏،صفر‏، ربیع الاول 1426ہجری مطابق اپریل 2005ء

 

Copyright @ 2013 الاسلام.