Thursday, 14 January 2016

پینے کے آداب(پہلاادب)


(پہلاادب)


حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺپینے کی چیزکوخواہ وہ پانی ہویاشربت ہو۔اس کوتین سانس میں پیاکرتے تھے،پھرسانس لینے کی وضاحت آگے گردی کہ پینے کے دوران برتن منہ سے ہٹاکرسانس لیاکرتے تھے،(مسلم،کتاب الاشربہ،باب کراہۃ التنفس فی  نفس الاناء)

دوسری حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ عنہماسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے ارشادفرمایا،پینے کی کسی بھی چیزکواونٹ کی طرح ایک ہی مرتبہ نہ پیاکرو،یعنی ایک سانس میں ایک ہی مرتبہ آدمی غٹ غٹ کرکے پوراگلاس حلق میں انڈیل دے،یہ صحیح نہیں۔اوراس عمل کوآپ نے اونٹ کے پینے سے تشبیہ دی،اس لئے کہ اونٹ کی عادت یہ ہے کہ وہ ایک ہی مرتبہ میں ساراپانی پی جاتاہے۔تم اس کی طرح مت پیو،بلکہ تم جب پانی پیوتویادوسانس میں پیو،یاتین سانس میں پیو،اورجب پانی پیناشروع کروتواللہ کانام لے کراوربسم اللہ پڑھ کرشروع کرو،یہ نہیں کہ محض غٹ غٹ کرپانی حلق سے اتارلیا۔(ترمذی،کتاب الاشربہ، باب کراہۃ التنفس فی نفس الاناء)

مولانامحمدشفیع رحمۃ اللہ علیہ کاایک چھوٹاسارسالہ  ہے جس کانام ہے’’بسم  اللہ کے فضائل ومسائل‘‘اس چھوٹے سے رسالے میں حقائق ومعارف کادریابندہےاگراس کوپڑھے توانسان کی آنکھیں کھل جائیں۔اس میں وہ بیان فرماتاہے کہ یہ پانی جس کوتم نے ایک لمحے کے اندرحلق سے نیچے اتارلیا،اس کے بارے میں ذرایہ سوچوکہ یہ پانی کہاں تھا؟اورتم تک کیسے پہنچا؟

اللہ تعالی نے پانی کاساراذخیرہ سمندرمیں جمع کررکھاہے،اوراس سمندرکے پانی کوکھارابنایا،اس لئے کہ اگراس پانی کومیٹھابناتےتوکچھ عرصہ کے بعدیہ پانی سڑکرخراب ہوجاتا،اس لئے اللہ تعالی نے اس پانی کے اندرایسے نمکیات رکھے کہ روزانہ لاکھوں جانوراس میں مرجاتے ہیں۔اس کے باوجوداس میں کوکوئی خرابی اورکوئی تغیرپیدانہیں ہوتا۔اس کاذائقہ نہیں بدلتا۔پھراگرتم سے یہ کہاجاتاکہ جب پانی کی ضرورت ہوتوسمندرسے حاصل کرو۔اوراس کوپی لو۔تویہ انسان کے لئے کتنادشوارہوجاتا،اس لئے کہ اول توہرشخص کاسمندرتک پہنچنامشکل ہے،اوردوسری طرف وہ پانی اتناکھارہے کہ ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے اتارنامشکل ہے۔اس لئے اللہ تعالی نے یہ انتظام فرمایاکہ اس سمندرسے مون سون کے بادل اٹھائے،اورپھرعجیب قدرت کاکرشمہ ہے کہ اس بادل کے اندرایسی آٹومیٹک مشین لگی ہوئی ہے کہ جب وہ بادل سمندرسے اٹھتاہے تواس پانی کی ساری نمکیات نیچے رہ جاتی ہیں،اورصرف میٹھاپانی اٹھ کرچلاجاتاہے،اورپھراللہ تعالی نے ایسانہیں کیاکہ سال میں ایک مرتبہ بادلوں کے ذریعہ ساراپانی برسادیتے ،اوریہ فرماتے کہ کہ تم یہ پانی اپنے پاس جمع کرلو۔اورذخیرہ کرلو،ہم صرف ایک مرتبہ بارش برسادیں گے تواس صورت وہ  برتن اورٹینکیاں کہاں سے لاتے،جن کے اندرتم اتناپانی جمع کرلیتے جوتمہارے سال بھر کے لئے کافی ہوجاتا۔بلکہ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشادفرماتے ہیں کہ: فاسکنہ فی الارض(سورۃ مؤمنون ۱۸)یعنی ہم نے پہلے آسمان سے پانی برسایااورپھراس کوزمین کے اندربٹھادیا۔اورجمع کردیا۔اس کواس طرح بٹھادیاکہ پہلے پہاڑوں پربرسایا،اورپھراس کوبرف کی شکل میں وہاں جمادیا،اورتمہارے لئے وہاں ایک قدرتی فریزربنادیا۔اب پہاڑکی چوٹی پرتمہارے لئے پانی محفوظ ہے اورضرورت کے وقت وہ پانی پگھل پگھل کردریاؤں کے ذریعہ زمین میں مختلف خطوں میں پہنچ رہاہے،اورپھردریاؤں سے نہریں اورندیاں نکالیں۔اوردوسری طرف زمین کی رگوں کے ذریعہ کنوؤں تک پانی پہنچادیا۔لہذااب پہاڑوں کی چوٹیوں پرذخیرہ موجودہے،اورسپلائی لائن بھی موجودہے،اوراس سپلائی لائن کے ذریعہ ایک ایک آدمی تک پانی پہنچ رہاہے۔اب اگرساری دنیاکے سائنس دان اورانجنیئرمل کربھی اس طرح سپلائی کاانتظام کرناچاہے توانتظام نہیں کرسکتے،لہذاجب پانی پیوتوذراغورکرلیاکروکہ اللہ تعالی نے کس طرح اپنی قدرت کاملہ اورحکمت بالغہ کے ذریعہ یہ پانی کاگلاس تم تک پہنچادیا۔اوراسی بات کی طرف یاددھانی کے لئےکہاجارہاہے کہ جب پانی پیوتوبسم اللہ کرکے پانی پیو۔

Unknown

''الاسلام''بلاگ میں آپ اپنے اصلاح کے لیے(اردو،پشتومیں) اسلامی اصلاحی بیانات سنے اور اسلامی معلوماتی مضامین پڑھیں نیکیاں کمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں اوراس کے علاوہ (اردو،پشتو)میں حمدباری تعالی اور نعت رسول مقبولﷺ بھی سماعت فرمائیں ،نیزمختلف قراء حضرات کی تلاوت بھی سن سکتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

 

Copyright @ 2013 الاسلام.