اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْییْ: (الآیة) ممکن
ہے کہ یہ لفظ خود معترضین نے استعمال کیا ہو کہ یہ کیسا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کا خدا ہے کہ جو ایسی حقیر چیزوں کی مثال پیش کرتے بھی نہیں شرماتا اور قرآن
مجید نے مشاکلت کی رعایت سے اس لفظ کو دہرایا ہو۔
یجوز اَنْ
تَقَعَ ھذہ العبارة فی کلام الکفرة فقالوا أما یستحیی رب محمد (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم) ان یَضْرِبَ مثلا بالذبابِ وَالْعَنْکَبُوْتِ فجاءت علی سبیل المقابلة
واطباقِ الجواب علی السوال۔
اور یہ بھی
ہوسکتا ہے کہ اعتراض کے دفعیہ کے طور پر خدا ہی کا کلام ہو قرآن مجید میں متعدد
مقامات پر توضیح مدعا کے لئے بڑی اور عظیم مخلوق کا تذکرہ آیا ہے اور چھوٹی اور حقیر
شئی کا بھی، قرآن مجید میں، جہاں ایک طرف ارض و سمائ، اور شمس و قمر کا تذکرہ ہے
تو دوسری طرف مکھی، مچھر اور چیونٹی اور مکڑی کا ذکر ہے اس تمثیلی تذکرہ پر بعض کم
فہموں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ کیسا خدائی کلام ہے؟ دعویٰ تو خدائی کا اور تذکرہ
حقیر چیزوں کا حالانکہ، کلام الملوک ملوک الکلام کے قاعدے اس میں حقیر اور ذلیل چیزوں
کا تذکرہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔
تمثیل کا مقصد : تمثیل کا مقصد اور غرض و غایت ممثل
لہ کی وضاحت اور اس کو ذہب نشین کرانا ہوتا ہے لہٰذا یہ مقصد جس مثال سے پورا ہو
سکے اس کو بہتر کہا جائے گا مثال میں پیش کی جانے والی چیز خواہ کیسی ہی حقیر کیوں
نہ ہو، مچھر بظاہر ایک بہت حقیر اور بے وقعت سی مخلوق ہے اب جہاں کسی شئی کی بے
وقعتی بیان کرنی ہے وہاں ظاہر ہے کہ مناسب اور موذوں مثال مچھر ہی کی ہوگی، اس پر
اعتراض سفاہت و حماقت کے سو اور کیا ہوسکتا ہے؟
فَمَا فَوْقَھَا : یعنی مچھر سے بڑھ کر خواہ جسم و
جثہ میں یا صغر و حقارت میں (دونوں معنوں کی گنجائش ہے) اللہ کی بیان کروہ مثالوں
سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ اور اہل کفر کے کفر میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ سب اللہ
کے قانون قدرت و مشیئت کے تحت ہی ہوتا ہے۔''فسق'' اطاعت الٰہی سے خروج کو کہتے ہیں،
جس کا ارتکاب عارضی اور وقتی طور پر ایک مومن سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس آیت میں
فسق سے مراد اطاعت سے کلی خروج ہے یعنی کفر، جیسا کہ آئندہ آیت سے واضح ہے۔

0 comments:
Post a Comment