Thursday, 28 January 2016

سورۃ بقرہ کی تفسیر

 سورۃ بقرہ کی تفسیر
 اس سورت کو سورۃ بقرہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ذبح بقرہ کا واقعہ مذکور ہے جو حق جل وعلا کی الوہیت اور کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے اس لیے کہ ایک مقتول کا محض ایک مذبوحہ گائے کا ایک ٹکڑا لگادینے سے زندہ ہوجانا فقط اس فعال لما یرید کے ارادہ اور مشیت کا ایک ادنی کرشمہ تھا کسی مادہ اور طبیعت کے اقتضاء کو اس میں اصلا دخل نہ تھا۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ منکرین حشر اجساد کے لیے ایک عظیم الشان حجت ہے کہ وہ اس واقعہ سے عبرت پکڑیں اور خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی مردوں کو اسی طرح زندہ فرمائے گا۔ جس طرح اس مقتول کو زندہ فرمایا۔ نیز یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعتبار سے ایک معجزہ تھا جو ان کی نبوت اور رسالت کی تصدیق کے لیے من جانب اللہ ظاہر کیا گیا تھا۔ غرض یہ کہ بقرہ کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت ورسالت اور احیاء موتی اور قیام قیامت، تینوں کی دلیل ہے اور یہی تین امور قرآن کریم کے اعظم مقاصد ہیں۔ نیز اس واقعہ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ صراط مستقیم *1 کا اقتضاء یہی ہے کہ بغیر تفتیش اور تفحص کے انبیاء کرام کی اطاعت کی جائے جس چیز کا حضرات انبیاء حکم دیں اس کو بے چون وچرا قبول کیا جائے۔ حضرات انبیاء کے حکم کے بعد تفتیش میں پڑنا شک اور نفاق کی علامت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے پیغمبر پر اطمینان ہوتا تو اس تفتیش کے خلجان میں نہ پڑتا اور حضرات انبیاء کی اطاعت سے انحراف ضلال مبین (کھلی گمراہی) ہے۔ اور ان حضرات سے حجتیں کرنا موجب غضب اور لعنت ہے اعاذنا اللہ تعالیٰ من ذلک آمین۔ نیز دنیا کی محبت ہی تمام فتنہ اور فساد کی جڑ ہے۔۔ جب دنیا کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے تو اعزہ اور اقارب کی محبت بھی دل سے نکل جاتی ہے اللہ جل جلالہ۔*2 کی ہدایت اور انبیاء کرام کی نصیحت جب ہی نفع دیتی ہے کہ دل میں خدا کا خوف اور کچھ ڈر ہو۔ جب خدا کا خوف دل میں ہوتا ہے تب ہی صراط مستقیم اور راہ حق کی تلاش اور خداوند ذوالجلال کے غضب اور لعنت سے بچنے کی فکر ہوتی ہے ورنہ جس شقی اور بدبخت کا دل خدا کے خوف سے خالی ہے اس کے حق میں انبیاء کا ڈرانا اور نہ ڈرانا سب برابر ہے۔ نیز سورۃ فاتحہ میں ہدایت اور صراط مستقیم کا ذکر تھا اور سورۃ بقرہ میں شروع ہی سے ہدایت اور صراط مستقیم کا ذکر فرما۔ ھدی للمتقین الذین یؤمنون بالغیب۔ ابتدا ہی میں ہدایت کا ذکر فرمایا اور پھر یہ بتلایا کہ صراط مستقیم کیا ہے۔ وہ ایمان اور تقویٰ اور اعمال صالحہ کی راہ ہے پھر یہ بتلا یاکہ یہ ہدایت کی نعمت کس کو نصیب ہوئی۔ اور کون اس دولت وسعادت سے محروم رہا۔ حدی سے اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون۔ تک اس فریق کا ذکر فرمایا جس کو ہدایت نصیب ہوئی اور ظاہراً اور باطناً اللہ کی ہدایت اور صراط مستقیم پر چلنے والے تھے۔ اور پھر اہل غضب اور اہل ضلال کے دو فرقوں کا ذکر فرمایا ایک کافرین مجاہرین جو ظاہراً اور باطناً صراط مستقیم سے ہٹے ہوئے تھے۔ دوم منافقین جو ظاہراً صراط مستقیم پر تھے اور باطناً غضب اور ضلال کی راہ پر تھے۔ اور چوتھی قسم یعنی جو ظاہراً تو غضب اور ضلال کی راہ پر ہو اور معنیً صراط مستقیم پر ہو یہ قسم عقلا اور شرعاً باطل ہے اس لیے اس قسم کو ذکر نہیں فرمایا۔ نیز سورۃ فاتحہ میں حق تعالیٰ شانہ کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت کا ذکر تھا اس لیے سورۃ بقرہ کے شروع ہی میں صحیفہ*3 ہدایت کا ذکر فرمایا کہ جس سے بڑھ کر کوئی تربیت اور رحمت نہیں پھ رکیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا واحیاکم الخ میں اس ظاہری ربوبیت اور رحمت کا ذکر فرمایا جس کا تمام نوع انسانی سے تعلق ہے اور یاایہا الناس اعبدوا میں تمام لوگوں کو اپنی عبادت اور بندگی کا خطاب عام فرمایا۔ بعد ازاں اس خاص ربوبیت اور اس خاص رحمت کا ذکر فرمایا کہ جو دو خاص فرقوں سے متعلق تھی۔ ایک فرقہ بنی اسرائیل دو فرقہ بنی اسماعیل پھر مسئلہ ملت اسلام اور قبلہ اسلام کا ذکر فرمایا اور یہ بتلا دیا کہ ملت ابراہیمی اور قبلہ ابراہیمی کا اتباع ہی صڑاط مستقیم ہے اور اس راہ سے اعراض سراسر سفاہت اور حماقت ہے اور آیت۔ لیس البر ان توالوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ والکتاب۔ میں جو ٹھیک سورۃ بقرہ کے نصف پر ہے صراط مستقیم کی تفصیل فرمائی کہ صراط مستقیم اللہ اور یوم آخرت اور ملائکہ اور انبیاء پر ایمان لانا ہے گویا کہ یہ آیت الذین یؤمنون بالغیب کی تفسیر ہے کہ غیب سے یہ چیزیں مراد ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں بعد ازاں اخیر سورت تک احکام کا سلسلہ چلا گیا۔ اخیر سورت میں۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ وال مومن ون کل امن باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسولہ الایۃ میں پھر صراط مستقیم کی حقیقت اور ایمان بالغیب کی کیفیت کو واضح فرمایا اور مغفرت اور رحمت اور نصرت کی دعا پر سورت کو ختم فرمایا خلاصۂ کلام یہ کہ سورۃ بقرہ کے شروع میں بھی ہدایت اور صراط مستقیم اور رحمت اور ربوبیت کا ذکر فرمایا اور درمیان میں بھی اور اخیر میں بھی گویا کہ یہ تمام سورت سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور تشریح ہے۔
 (*1۔ سورۃ بقرہ اور سورۃ فاتحہ کے باہمی ربط کی طرف اشارہ ہے فافھم ذلک واستقم 12 منہ عفا اللہ عنہ
 *2. اس میں بھی ربط کی طرف اشارہ ہے کہ ھدی للمتقین اور سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم کو مغضوب علیھم اور ضالین کے ساتھ کیا ربط ہے 12 منہ عفا اللہ عنہ۔
 *1۔ یعنی ذلک الکتاب لا ریب فیہ 12 منہ)
 * اس قسم کے حروف جو سورتوں کے ابتداء میں ذکر کیے جاتے ہیں ان کو "حروف مقطعات" کہتے ہیں اس لیے کہ یہ کلمات حروف تہجی کی طرح جدا جدا پڑھے جاتے ہیں اس لیے مقطعات (جدا جدا) کہلاتے ہیں ان کے بارے میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔
 1۔ خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ (رض) اور تابعین رحمہم اللہ کے نزدیک یہ حروف متشابہات میں سے ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ان کی مراد معلوم نہیں۔ کما قال تعالیٰ۔
 وما یعلم تاویلہ الا اللہ : ان متشابہات کی حقیقت سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں
 2۔ بعض سلف اور جمہور متکلمین اور خلیل اور سیبویہ کے نزدیک حروف مقطعات ان سورتوں کے نام ہیں جن کے شروع میں یہ مذکور ہیں جو مضامین اس سورت میں بالتفصیل مذکور ہیں یہ حروف مقطعات اس تفصیل کا اجمال ہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری کا نام (الجامع الصحیح المسند من احادیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ) کتاب موصوف کے تمام مفصل مضامین کا اجمال ہے جس طرح مرکبات کلامیہ کا مفید معنی ہونا ان کے اجزاء یعنی کلمات مفردہ کے مفید معنی ہونے پر موقوف ہے اسی طرح کلمات مفردہ کا مفید معنی ہونا حروف ہجائیہ کے مفید معنی ہونے پر موقوف ہے جس درجہ کلام میں ترکیب ہوگی اسی درجہ معنی میں بھی ترکیب ہوگی یہی وجہ ہے کہ مرکبات اضافیہ اور مرکبات توصیفیہ کے معنی میں اتنی ترکیب نہیں جتنی کہ مرکبات تامہ خبریہ کے معنی میں ترکیب ہے ترکیب لفظی کے انحطاط سے ترکیب معنوی میں بھی انحطاط آگیا۔
 مرکبات اضافیہ اگرچہ فی حد ذاتہا مرکبات ہیں مگر مرکبات تامہ خبریہ کے لحاظ سے فی الجملہ بسیط ہیں اور اسی نسبت سے ان کے معنی میں بھی بساطت اور اجمال ہے مگر حروف ہجائی مادہ کلمات ہونے کی وجہ سے انتہا درجہ کے بسیط ہیں پس اسی نسبت سے ان کے معنی میں بھی انتہا درجہ کی بساطت اور غایت درجہ کا اجمال ہوگا جن کا بغیر تفہیم الٰہی اور بدون تائید غیبی کے سمجھنا ناممکن اور محال ہے۔
 حضرت شاہ والی اللہ قدس سرہ نے "فوز الکبیر" میں اسی مسلک کو اختیار فرمایا ہے۔ علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات کے اسرار ورموز رسول اللہ ﷺ کے بعد انہی حضرات پر منکشف ہوتے ہیں جو من جانب اللہ خاص طور پر علوم نبوت کے وارث بنائے گئے بلکہ کسی وقت حروف مقطعات خود بخود ان وارثین علوم نبوت کے سامنے اپنے اندروانی اسرار وغوامض بولنے لگتے ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر سنگریزے تسبیح پڑھتے تھے اور صحابہ کرام اپنے کانوں سے سنگریزوں کی اس تسبیح کو سنتے تھے۔ اور گوہ اور ہرن آنحضرت ق سے کلام کرتے تھے باقی ہم جیسون کا حروف مقطعات کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہنا ہرگز اس کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ کہ نفس الامر اور واقع میں یہ حروف معانی اور حقائق سے عاری ہیں (روح المعانی) حدیث میں ہے کہ ہر آیت کے لیے ایک ظاہر ہے ایک باطن ہے یعنی ظاہری معنی کے علاوہ اس آیت کے کچھ باطنی اور معنوی اسرار اور لطائف بھی ہوتے ہیں جنکو ارباب باطن ہی سمجھتے ہیں اور وہ باطنی اسرار۔ مدلول لفظی کے ماتحت ہوتے ہیں مخالف نہیں ہوتے ہیں بلکہ باطنی اسرار کے حق اور باطل ہونے کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ آیت کے ظاہری مدلول کے مطابق ہوں نہ کہ مخالف کیونکہ شرط یہ ہے کہ وہ باطنی معنی ظاہری مدلول کے ماتحت ہوں اور ظاہر ہے کہ ماتحت ہو کر مافوق کا مخالف کیسے ہوسکتا ہے۔ لہذا ممکن ہے کہ حروف مقطعات ظاہر کے اعتبار سے مجہول الکنہ اور غیر معلوم المراد ہوں اور باطن کے اعتبار سے ارباب باطن کے نزدیک معلوم المراد ہوں۔
 3۔ علامہ زمخشری اور قاضی بیجاوی فرماتے ہیں کہ یہ حروف مقطعات۔ حروف تہجی کے اسماء ہیں اور ظاہر ہے کہ کلام کا مادہ اور عنصر یہی حروف تہجی ہیں۔ انہی سے مل کر کلام بنتا ہے۔ قرآن کریم کی بعض سورتوں کو ان حروف سے شروع کرنے میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن جس کے کلامِ الٰہی ہونے کا تم لوگ انکار کرتے ہو وہ انہی حروف سے مرکب ہے جن سے تم اپنے کلام کو ترکیب دیتے ہو پس اگر یہ قرآن خدا کا کلام نہیں تو تم اس جیسے کلام کے بنانے سے کیوں عاجز ہو پھر اس ذاتی اعجاز کے علاوہ اس پر بھی تو نظر کرو کہ ان مقطعات کا پیش کرنے والا شخص محض امی ہے جس نے نہ کبھی کسی مکتب کا دروازہ جھانکا اور نہ کسی استاذ اور کاتب کے سامنے زانوائے ادب تہ کیا اور تم فصحاء اور بلغاء اور ادباء اور خطباء ہو اور اس نبی امی نے جن حروف کو پیش کیا ہے ان میں ایسے ایسے دقیق اور نکات کی رعایت کی گئی ہے کہ جن کی بڑے سے بڑا ادیب اور ماہر عربیت بھی رعایت نہیں کرسکتا۔
 صد ہزاراں دفتر اشعار بود پیش حرف امیش آں عار بود
 مثلاً یہ کہ قرآن مجید کی انتیس سورتوں میں جو شمار کے اعتبار سے حروف تہجی کے برابر ہیں۔ چودہ حروف لائے گئے ہیں جو حروف تہجی کا نصف ہیں۔ نیز حروف کی تمام اقسام یعنی مہموسہ اور مجہورہ۔ شدیدہ اور رخوہ، مطبقہ اور منفتحہ وغیرہ وغیرہ میں سے ہر قسم کے نصف نصف حروف لائے گئے ہیں۔ تفصیل کے لیے کشاف اور بیضاوی کی مراجعت فرمائیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ حروف مقطعات کی تفسیر میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ یہ تمام اقوال اپنی اپنی جگہ پر سب درست ہیں حروف مقطعات لغت عربیہ کے اعتبار سے حروف تہجی کے اسماء ہیں۔ جیسا کہ علامہ زمخشری اور قاضی بیضاوی فرماتے ہیں اور یہی خلیل بن احمد اور سیبویہ اور دیگر ائمہ عربیت کا مذہب ہے اور ظاہر شریعت کے اعتبار سے متشابہات اور خداوند ذوالجلال کے مخفی اسرار ہیں جن کے معانی سے عام طور پر لوگوں کو اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ان میں اس کی استعداد ہے اس لیے ان پر ایمان لانا لازم ہوا اور ان کی تحقیق اور تفتیش کرنا ممنوع ہوا اور اگر یہ شبہ کیا جائے کہ جب حروف مقطعات کو سر الٰہی مانا گیا تو قرآن مفہوم المعنی نہ رہے گا تو پھر نزول سے کیا فائدہ؟ جواب یہ کہ نزول قرآن کا فائدہ۔ فہم معانی میں منحصر نہیں بلکہ بہت سے مقامات ایسے ہیں کہ جہاں مکلفین سے فقط ایمان لانا مطلوب ہے اسی طرح حروف مقطعات کے نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور ان کے من جانب اللہ ہونے کا یقین کریں تاکہ بندوں کا کمال انقیاد ظاہر ہو۔
 زباں تازہ کردن باقرار تو ننگیختن علت ازکار تو
 یہ حضرات مفسرین اور محدثین (بکسرا الدال) کا مذہب ہے اور حضرت محدثین (بفتح الدال) یعنی جو حضرات محدث من اللہ ملہم من اللہ ہیں ان کا مسلک یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کبھی کبھی اپنے مخصوس بندوں کو حروف مقطعات کے معانی اور اسرار سے بذریعہ الہام کے مطلع فرمادیتے ہیں۔ محدثین (بکسر الدال) اور محدثین (بفتح الدال) میں حقیقی نزاع نہیں۔ محض لفظی نزاع ہے۔ محدثین جو علم اور ادراک کی نفی کرتے ہیں وہ عوام کے اعتبار سے ہے اور اس نفی سے بھی علم یقینی کی نفی مراد ہے علم ظی اور وجدانی کی نفی مراد نہیں اور محدثین (بفتح الدال) جو حروف مقطعات کے معانی کے علم اور ادراک کے قائل ہیں وہ خواص کے لیے قائل ہیں نہ کہ عوام کے لیے اور پھر خواص کو بھی جو علم ہوتا ہے وہ ظنی اور وجدانی ہوتا ہے۔ قطعی اور یقینی نہیں ہوتا اور عجب نہیں کہ حروف مقطعات عالم غیب میں ذو الوجوہ ہوں کسی پر کوئی معنی اور کسی پر کوئی معنی منکشف ہوں۔ مثلاً کسی پر یہ منکشف ہوا ہو کہ حروف مقطعات اسماء الٰہی ہیں اور کسی پر یہ منکشف ہوا ہو کہ یہ اسماء سور ہیں جس کسی نے جو کچھ کہا وہ اپنے مکاشفہ اور مشاہدہ کے لحاظ سے کہا اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو عربی زبان میں اتارا عربی زبان کے اعتبار سے حروف مقطعات حروف تہجی کے اسماء ہیں۔ سورتوں کے شروع میں طرح طرح کے لطائف اور معارف اور قسم قسم اعجاز کی رعایت کے ساتھ ان کو لایا گیا ہے۔ لہذا ایمہ عربیت اور علامہ زمخشری اور قاضی بیضاوی کا یہ قول محدثین اور محدثین کے قول کے ہرگز منافی اور مخالف نہیں علامہ زمخشری اور بیضاوی کا قول لسان عربی مبین کے قواعد پر مبنی ہے اور محدثین (بکسر الدال) کا قول کہ حروف مقطعات متشابہات سے ہیں ظاہر شریعت پر مبنی ہے اور محدثین (بفتح الدال) یعنی اولیاء اللہ اور عارفین کا قول باطن شریعت پر مبنی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر آیت کے لیے ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور پھر ہر ظاہر اور ہر باطن کے لیے کچھ وجوہ ہوتے ہیں کوئی عالم کسی درجہ کو اختیار کرتا ہے اور کوئی کسی وجہ کو۔ ولکل وجھۃ ھو مولیھا فاستبقوا الخیرات واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔

Unknown

''الاسلام''بلاگ میں آپ اپنے اصلاح کے لیے(اردو،پشتومیں) اسلامی اصلاحی بیانات سنے اور اسلامی معلوماتی مضامین پڑھیں نیکیاں کمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں اوراس کے علاوہ (اردو،پشتو)میں حمدباری تعالی اور نعت رسول مقبولﷺ بھی سماعت فرمائیں ،نیزمختلف قراء حضرات کی تلاوت بھی سن سکتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

 

Copyright @ 2013 الاسلام.