ذلک الکتب
یہی کتاب
حقیقت میں کتاب ہے کہ تمام کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ کے متفرق علوم اور مضامین کی
جامع ہے اور اسی وجہ سے اسکا اتباع تمام کتب سماویہ کا اتباع ہے اور اس کا انکار
تمام کتب الٰہیہ کا انکار ہے کتاب کا اصل مادہ لغت میں جمع کرنے کے معنی میں آتا
ہے اس لیے اس کے مناسب معنی بیان کیے گئے اور ذلک اسم اشارہ اس لیے لایا گیا کہ اس
طرف اشارہ ہوجائے کہ اس کتاب کی جامعیت محسوس اور مشاہد ہے۔ ارباب معنی تو علوم
اور معارف کی روشنی میں اس کی جامعیت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور اصحاب لفظ۔ فصاحت
اور بلاغت کے آئینہ میں اس کی جامعیت کا جلوہ دیکھتے ہیں۔
بہار عالم
حسنش دل وجاں تازہ می دارد برنگ اصحاب صورت راببو ارباب معنی را
اور بجائے
لفظ ھذا کے جو اشارہ قریب کے لیے مستعمل ہوتا ہے لفظ ذلک کا استعمال فرمایا جو
اشارہ بعید کے لیے وضع ہوا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی بے مثال جامعیت اور
عجیب وغریب حقائق ومعارف اور اسرار وغوامض اور دقائق اور لطائف پر مشتمل ہونے کی
وجہ سے نظر وفکر کی جولانگاہ سے بہت ہی دور اور بلند اور برتر ہے۔ یعنی قرآن اگرچہ
باعتبار صورت کے حاضر وقریب ہے مگر اسرار وحقائق کے اعتبار سے ہمارے فہم وادراک سے
بہت بعد ہے۔ اس لیے بجائے ھذا کے ذالک اسم اشارہ بعید لایا گیا۔
لاریب فیہ
اور اس
کتاب کے کامل اور بیمثال ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے تمام مطالب مدلل اور مبرہن
ہیں اس میں کسی قسم کے شک اور تردد کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ایسی جامع اور مکمل
اور واضح اور مدلل کتاب میں بھی اگر کسی کو کوئی شک اور شبہ پیش آئے تو وہ اس کے
فہم کا قصور ہے اس کتاب میں تو کوئی شبہ نہیں یہ نافہم اپنی نافہمی سے شبہ میں
پڑگیا ہے۔ قرآن کریم کی کوئی بات بھی عقل سلیم کے خلاف نہیں۔
یہ پہلی
سورت ہے جو ہجرت کے بعد مدینہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی۔ مگر ایک آیت واتقوا یوما
ترجعون فیہ الی اللہ۔ بالاتفاق حجۃ الوداع میں دسویں تاریخ ذی الحجہ کو منی میں
اتری۔ تبع کے زمانہ سے یہود نبی آخر الزمان کے انتظار میں مدینہ منورہ آکر آباد
ہوئے تھے ان آیات میں انہیں کو خطاب ہے کہ یہ وہی کتاب ہے، جس کی خبر انبیاء علیہم
الصلوۃ والسلام دیتے چلے آئے ہیں۔ مالک بن صیف یہودی مسلمانون کے دلون میں شک
ڈالتا تھا کہ یہ وہ کتاب نہیں کہ جس کی خبر اگلی کتابوں میں دی گئی ہے اور اس میں
کوئی شک اور شبہ نہیں۔ علماء بنی اسرائیل میں سے جو حقیقت میں علماء تھے۔ وہ قرآن
کو سنتے ہی ایمان لے آئے اور جن کے دل ثمن قلیل اور دراہم معدودہ کی محبت میں
گرفتار تھے وہ اس سعادت سے محروم رہے کما قال تعالی۔
وقرانا
فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلنہ تنزیلا۔ قل امنوا بہ اولا تؤمنوا۔ ان الذین
اوتوا العلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یخرون للاذقان سجدا ویقولون سبحن ربنا ان کا
وعد ربنا لمفعولاویخرون للاذقان یبکون ویزیدھم خشوعا۔
ترجمہ :
قرآن کو ہم نے بتفریق نازل کیا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے آہستہ آہستہ پڑھیں
اور بتدریج ہم نے اس کو نازل کیا آپ کہدیجئے کہ اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ
مگر وہ لوگ جن کو اس کے نازل ہونے سے پہلے اس کا علم دیا گیا ان کی حالت تو یہ ہے
کہ جب ان پر اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو ٹھوڑیوں پر سجدہ میں گر جاتے ہیں اور یہ
کہتے ہیں کہ سبحان اللہ بیشک خدا کا وعدہ (جو اس کتاب کے نازل کرنے کے متعلق تھا)
وہ پورا ہو کر رہا اور گریہ وزاری کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر رتے ہیں اور ان کے خشوع
میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔
(ف 1): اس
روایت سے ذلک اسم اشارہ بعید لانے کی ایک اور وجہ بھی معلوم ہوگئی کہ ذلک کا اشارہ
اس کتاب کی طرف ہے کہ جس کی انبیاء سابقین خبر دیتے چلے آئے تھے۔ یعنی یہ وہی کتاب
ہے جس کی خبر کتب سابقہ میں دی گئی ہے۔
(ف 2): یہ
خصوصیت قرآن کریم ہی کی ہے کہ اس کے تمام مضامین عقل سلیم کے مطابق اور سب کے سب
یقینی ہیں۔ تقلیدی اور ظنی نہیں کہیں ریب اور تردد کی گنجائش نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ
جس کتاب کے مضامین اور مطالب اس درجہ قطعی اور یقینی ہوں کہ اس میں کہیں شک اور شبہ
کی گنجائش نہ ہو تو اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے میں کیا شک اور شبہ ہوسکتا ہے
توریت اور انجیل کو دیکھئے کہ اصل ہی سے مشکوک ہے تثلیث اور الوہیت مسیح اور کفارہ
کے مضامین فقط اس درجہ ہی میں نہیں کہ عقل کو ان میں کوئی شک اور تردد ہو بلکہ عقل
قطعاً ان کو لغو اور باطل سمجھتی ہے توریت میں العیاذ باللہ حضرات انبیاء کا بت
پرستی کرنا اور جھوٹ بولنا اور العیاذ باللہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی
بیٹیوں سے زنا کرنا مذکور ہے اس کو کون عقل باور کرسکتی ہے۔ وید اور دساتیر میں جا
بجا عناصر اور کواکب پرستی کے مضامین مذکور ہیں جن سے عقل نفرت کرتی ہے لنگ اور
بہک (فرج) کی پوجا کا ذکر ہی عقل کے لیے باعث صد عار وننگ ہے۔ شرک اور بے شرمی کی
بھی حد ہوگئی کہ شرمگاہ کو بھی پرستش سے نہ چھوڑا۔
مولانا
عبدالحق صاحب حقانی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ص 61 ج 2 گبن جو کہ
انگلستان کا بڑا مشہور مورخ اور مقنن ہے اپنی تاریخ میں لکھتا ہے۔
محمد کا
مذہب شکوک وشبہات سے پاک ہے مکہ کے پیغمبر نے بتوں اور انسانوں اور ستاروں کی
پرستش کو اس معقول دلیل سے رد کیا ہے کہ جو شیئ طلوع ہوتی ہے غروب ہوجاتی ہے اور
جو حادث ہے وہ فانی ہے اور جو قابل زوال ہے وہ معدوم ہوجاتی ہے الخ ان بڑے بڑے
حقائق کو پیغمبر نے مشہور کیا الخ ایک حکیم جو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی سفات
پر یقین رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے عقائد مذکورہ بالا کو کہہ سکتا ہے کہ وہ عقائد
ہمارے ادراک اور اور قوائے عقلی سے بڑھ کر ہیں وہ اصل کہ جس کی بناء عقل اور وحی
پر ہے محمد کی شہادت سے استحکام کو پہنچی انتہی ملخصاً۔ اور سیل باوجود سخت تعصب
کے اپنے ترجمۂ قرآن کے دیباچہ میں اقرار کرتا ہے کہ تھوڑے سے دنوں میں جو محمد کا
دین شرقاً غرباً روئے زمین پر پھیل گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مذہب کے جملہ امور
وہ امور ہیں کہ جن کو عقل بہت جلد تسلیم کرتی ہے جو لوگ تلوار کے زور سے اس دین کا
پھیلنا خیال کرتے ہیں وہ بڑی غلطی میں ہیں۔ انتہی ملخصاً۔
صفات
مومنین مخلصین
ھدیً
للمتقین یہ کتاب ہدایت ہے متقیوں کے لیے جس درجہ کا تقویٰ ہے اس درجہ کی ہدایت ہے
یہ جملہ ذلک الکتاب کی دوسری دلیل ہے یعنی کتاب حقیقت میں یہی ہے اس لیے کہ اول تو
اس میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہیں دوم یہ کہ یہ کتاب خدا سے ڈرنے والوں
کے لیے ایک نور مبین اور مشعل ہدایت ہے جب تک دل میں خدا کا خوف نہ ہو اس وقت تک
راہ ہدایت نظر نہیں آتی یا یہ کہو کہ ھدی للمتقین لاریب فیہ۔ کی دلیل ہے یعنی اس
جامع کتاب میں اس لیے شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ کتاب تو مشعل ہدایت ہے لوگوں
کے شبہات اور توہمات کی ظلمتوں اور تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ہر
بات اس کی میزان عقل میں تلی ہوئی ہے ہر بیان اس کا شافی اور کافی مددلل اور مبرہن
ہے۔ اوہام پرستوں کے لیے سیف قاطع ہے۔ بھلا ایسی کتاب میں کہا شک اور شبہ کی
گنجائش ہوسکتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے چند سال میں جو لوگوں کو ہدایت کی طرف
کھینچا توریت انجیل اس کی نظیر تو کیا عشر عشیر بھی نہیں پیش کرسکتی۔ چند ہی روز
میں عرب جیسے وحشی ملک کو خدا پرستی کا گہوارہ بنا دیا۔ عرب کے درندے یکلخت شمع
نبوت کا پروانہ بن گئے حواریین کی بے وفائی کے خود نصاری معترف ہیں کہ حضرت مسیح
کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور یہودا نے تیس درہم رشوت لے کر حضرت مسیح کو گرفتار
کرادیا۔ سورۃ فاتحہ میں بندوں کی جانب سے خدا کی حمد ؤثناء کا ذکر تھا۔ سورۃ بقرہ
میں اس کے برعکس خدائے عز وجل کی جانب سے عباد متقین کی مدح وثناء کا ذکر ہے۔
سبحان اللہ۔ خود اپنی رحمت اور فضل سے ایمان اور تقویٰ کی صفت عطا فرمائیں اور پھر
خود ہی اس کی توصیف فرماتے ہیں۔ اللہم لا نحصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔
لغت میں
تقوی کے معنی صیانت اور حفاظت کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ان چیزوں سے بچنے کو
تقوی کہتے ہیں جو آخرت کے لحاظ سے ضرر رساں ہوں۔ خواہ از قبیل عقائد واخلاق ہوں یا
از قبیل اقوال وافعال واحوال ہوں۔ اور چونکہ ضرر کے درجات مختلف ہیں اسی اعتبار سے
تقویٰ کے درجات بھی مختلف ہیں۔
پہلا مرتبہ
: یہ ہے کہ فر سے تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوا اور اپنے کو عذاب دائمی کی مضرت
سے بچالے والزمھم کلمۃ التقوی میں تقوی ٰ سے یہی معنی مراد ہیں۔
دوسرا
مرتبہ : یہ ہے کہ اپنے نفس کو ارتکاب کبائر اور اصرار علی الصغائر کی مضرت سے
محفوظ رکھے کما قال تعالیٰ ولو ان اھل القریٰ امنوا واتقو ا اہل شریعت کی اصطلاح
میں جب تقویٰ کا لفظ بولا جاتا ہے تو یہی معنی مراد ہوتے ہیں اور کسی نے کیا خوب
کہا ہے
خل الذنوب
صغیرھا
وکبیرھا
ذاک التقی
چھوٹے اور
بڑے سب گناہوں کو چھوڑدے۔ یہی تقویٰ ہے
واصنع کما
شفوق ارض الشوک یحذرھا یری
خدا کی راہ
میں اسطرح چل جس طرح کہ خاردار جنگل میں ڈر ڈر کر اور سنبھل سنبھل کر کوئی چلتا
ہے۔
لا تحقرن
صغیرۃ ان الجبال من الحصی
چھوٹی
چھوٹے گناہ کو بھی حقیر مت سمجھ۔ چھوٹے چھوٹے سنگریزوں سے پہاڑ بنتے ہیں
حضرت عمر
(رض) نے ابی بن کعب سے تقویٰ کی حقیقت دریافت کی تو یہ جواب دیا کہ اے امیر
المومنین کیا آپ کبھی کسی پر خار راستہ سے بھی گزرے ہیں فرمایا کیوں نہیں۔ ابی بن
کعب (رض) نے کہا کہ اے امیر ال مومنین پھر آپ نے اس وقت کیا کیا۔ فرمایا کہ میں نے
دامن چڑھائے بچا بچا کر قدم رکھے کانٹوں سے بچنے کے لیے اپنی تمام جدوجہد کو خرچ
کر ڈالا۔ ابی بن کعب (رض) نے کہا کہ اے امیر ال مومنین یہی تقوی ہے یعنی حق جل
وعلی *1 کی معصیت اور نافرمانی سے بچنے کے لیے اپنی پوری ہمت اور طاقت کو خرچ
کردینے کا نام تقویٰ ہے۔ اسی لی ارشاد فرمایا۔ ان اکرمکم عندا للہ اتقاکم۔ یقیناً
خدا کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور اس
کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔
*1۔ یہ قید
اس لیے لگائی کہ اگر دنیاوی ذلت وندامت سے ڈر کر معصیت کو چھوڑا تو وہ تقویٰ نہیں
خدا کے ڈر سے گناہ کو چھوڑنے کا نام تقوی ہے۔ 12 منہ عفا اللہ عنہ
تیسرا
مرتبہ : یہ ہے کہ قلب کو ہر اس چیز سے محفوط کرلیا جائے جو خدا تعالیٰ سے غافل
کرتی ہو اور یا ایہاالذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ (اے ایمان والو اللہ سے ڈرو
جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) اس آیت میں تقویٰ کا یہی مرتبہ مراد ہے۔ خدا کا خوف
ہی ہدایت کا مبداء اور ہر قسم کے فوز وفلاح کا سرچشمہ ہے اسی لیے حضرت نوح اور
حضرت ہود اور حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم الصلاۃ والسلام نے سب سے
پہلے اپنی قوم کو یہی نصیحت فرمائی۔ الا تتقون۔ کیا تم کو خدا کا خوف نہیں۔ اور
فاتقوا اللہ واطیعون۔ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اس لیے کہ بغیر خدا کے خوف
کے کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوتی کما قال اللہ تعالیٰ سیدذکر من یخشی۔ یعنی نصیحت
وہی قبول کرے گا جو خدا سے ڈرتا ہوگا۔
حق جل وعلا
نے دوسرے موقعہ پر بجائے ھدی للمتقین، ھدی للناس (یعنی ہدایت ہے انسانوں کے لیے)
ارشاد فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو متقی نہیں وہ درحقیقت انسان نہیں
انسانیت اور آدمیت کا اقتضاء یہ ہے کہ اپنے خالق اور مالک سے ڈرے اور جو اس احکم
الحاکمین سے نہیں ڈرتا وہ انسان نہیں بہائم کے مثل ہے بلکہ بہائم سے بدتر قال تعالیٰ
اولئک کا لانعام بل ھم اضل۔
سفر آخرت
کے لیے تقویٰ ہی کا توشہ اور تقویٰ ہی کا لباس کار آمد ہوسکتا ہے کما قال تعالیٰ۔
وتزودہ فان خیر الزاد التقوی۔ سفر کے لیے توشہ لے لو پس تحقیق سب سے بہتر توشہ
تقویٰ ہے۔
جس طرح
بغیر زاد راہ کے مسافر کا دنیاوی سفر ناممن ہے۔ اسی طرح بغیر تقویٰ کے توشہ کے
آخرت کا سفر ناممکن ہے اور جس طرح ایک معمولی راستہ سے برہنہ اور عریاں گزرنا خلاف
حیا اور خلاف شرم ہے۔ اسی طرح اس عظیم الشان شاہراہ سے جو ایک لمحہ کے لیے بھی بے
شمار ملائکۃ اللہ سے خالی نہیں رہتی۔ لباس تقویٰ سے برہنہ اور عریاں گزرنا کس طرح
بے حیائی اور بے شرمی نہ ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔ آمین۔
0 comments:
Post a Comment