تِلۡکَ الرُّسُلُ
فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ
بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ
بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ
بَعۡدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ وَ لٰکِنِ اخۡتَلَفُوۡا
فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا
اقۡتَتَلُوۡا ۟ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفۡعَلُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۲۵۳﴾٪
تفسیر: گذشتہ آیت(وانک لمن المرسلین)میں حضورﷺکی رسالت کابیان
تھاکہ آپ اللہ تعالی کے بلاشبہ رسول ہیں مگرعنادکرنے والے آپ کی رسالت کونہیں
مانتے،اب اِن آیات میں آپ ﷺکی تسلی کامضمون ذکرکیاگیاہےکہ آپ اِن معاندین کی
تکذیب سے رنجیدہ نہ ہوں چنانچہ فرماتے ہیں بعض اِن پیغمبروں میں سے ایسے ہیں
جن سے اللہ تعالی نے بلاواسطہ فرشتہ کے کلام فرمایاہے جیسے موسی علیہ السلام
اوربعضوں کوہم کلامی کاشرف تونہیں عطاکیالیکن اُن کودوسراشرف عطاکیااورطرح طرح سے
اُن کے درجے بلندکیے جیسے داؤدعلیہ السلام کونبوت کے ساتھ بے مثال بادشاہت بی
عطاکی۔اورہم نے عیسی بن مریم کواُن کی نبوت ورسالت کی واضح نشانیاں عطاکیں اورروح
القدس یعنی جبرائیل امین کوان کی تائیدکے لئے مقررکیاکہ ہروقت یہودسے اُن کی حفاظت
کریں۔اوراگراللہ تعالی چاہتاتوسب لوگوں کودین حق پرمتفق کردیتااورپھرلوگ پیغمبروں
کے بعددین میں اختلاف نہ کرتے اورنہ آپس میں لڑتے لیکن لوگوں نے حق قبول کرنے میں
اختلاف کیابعض ان میں ایمان لائے اوربعضوں نے کفراختیارکیااوراگراللہ تعالی
چاہتاہے تویہ لوگ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالی کی حکمت اورمصلحت یہ ہے کہ
دنیاحق اورباطل کامیدان کارزارنی رہے وہ حکیم مطلق اورحاکم مطلق ہے جوچاہتاہے
کرتاہے کسی کی مجال نہیں کہ کوئی اس پراعتراض کرسکے کہ یہ کیوں کیااوریہ کیوں نہ
کیا؟

0 comments:
Post a Comment