Thursday, 28 January 2016

عقل کادائرہ کار


’’بنیادپرستی‘‘ایک گالی بن چکی ہے۔
جب یہ  آوازبلندہوتی ہے کہ ہماراقانون،ہماری معیشت،ہماری سیاست یاہماری زندگی کاہرپہلواسلام کے سانچے میں ڈھلناچاہئے توسوال پیداہوتاہے کہ کیوں ڈھلناچاہئے؟اس کی کیادلیل ہے؟یہ سوال اس لئے پیداہواکہ آج ہم ایک ایسے معاشرےمیں زندگی گزاررہے ہیں جس میں سیکولرتصورات(Secular ideas)اس دنیاکے دل ودماغ پرچھائے ہوئے ہیں اوریہ بات تقریباًساری دنیامیں بطورایک مسلمہ مان لی گئی ہےکہ کسی ریاست کوچلانے کابہترین سسٹم سیکولرسسٹم (Secular system)ہے اوراسی سیکولرزم کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست کوکامیابی کے ساتھ چلایاجاسکتاہے ایسے ماحول میں جہاں دنیاکی بیشترریاستیں بڑی سے لے کرچھوٹی تک،وہ نہ صرف یہ کہ سیکولرہونے کادعوی کرتی ہیں بلکہ اس پرفخربھی محسوس کرتی ہیں۔ایسے معاشرے میں یہ آوازبلندکرناکہ’’ہمیں ملک کو،اپنے قانون کواپنی معیشت اورسیاست کو،اپنی زندگی کے ہرشعبے کواسلامائیزکرناچاہئے‘‘یادوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے کہ معاشرے کوچودہ سوسال پرانے اصولوں کے ماتحت چلاناچاہئے تویہ آوازآج کی اس دنیامیں اجنبی معلوم ہوتی ہے اوراس کوطرح طرح کے طعنوں سے نوازاجاتاہے ۔بنیادپرستی اورفنڈامینٹلزم کی اصطلاح ان لوگوں کی طرف سے ایک گالی بناکردنیامیں مشہورکردی گئی ہے۔اوران کی نظرمیں ہروہ شخص بنیادپرست(Fundamentalist)ہے جویہ کہے کہ ریاست کانظام دین کے تابع ہوناچاہئے۔اسلام کے تابع ہوناچاہیے۔ایسے شخص کوبنیادپرست کاخطاب دے کربدنام کیاجارہاہے،حالانکہ اگراس لفظ کے اصل معنی پرغورکیاجائے تویہ کوئی برالفظ نہیں تھا۔فنڈامینٹلسٹ کے معنی یہ ہیں کہ جوبنیادی اصولوں کواختیارکرے۔لیکن ان لوگوں نے ا کوگالی بناکرمشہورکردیاہے۔
اسلامائیزیشن کیوں؟
آج میں اس سوال کوجواب دیناچاہتاہوں کہ ہم کیوں اپنی زندگی کواسلامائیزیشن کرناچاہتے ہیں؟اورہم ملکی قوانین کواسلام کے سانچے میں کیوں ڈالناچاہتے ہیں؟جب کہ دین کی تعلیمات چودہ سوسال بلکہ بیشترتوہزارہاسال پرانی ہیں۔
ہمارے پاس عقل موجودہے۔
         اس سلسلے میں ،میں جس پہلوکی طرف توجہ دلاناچاہتاہوںوہ یہ ہے کہ ایک سیکولرریاست  جس کولادینی ریاست کہاجائے ۔وہ اپنے نظام حکومت اورنظام زندگی کوکس طرح چلائے؟اس کے لئے اس کے پاس کوئی کوئی اصول موجودنہیں ہیں بلکہ یہ کہاجاتاہے کہ ہمارے پاس عقل موجودہے۔ہمارے پاس تجربہ اورمشاہدہ موجودہے۔اس عقل،تجربے اورمشاہدہ کے بنیادپرہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے اس دورکی ضروریات کیاہیں؟اس کے تقاضے کیاہیں؟اورپھراس کے لحاظ سے کیاچیزہماری مصلحت کے مطابق ہے؟اورپھراسی مصلحت کے مطابق ہم اپنے قوانین کوڈال سکتے ہیں۔بدلتے ہوئے حالات کے اندرہم اس میں تبدیلی لاسکتے ہیں اورترقی کرسکتے ہیں۔
کیاعقل آخری معیارہے؟
         ایک سیکولرنظام حکومت میں عقل،تجربے اورمشاہدے کوآخری معیارقراردے دیاگیاہے ،اب دیکھنایہ ہے کہ یہ معیارکتنامضبوط ہے؟کیایہ معیاراس لائق ہے کہ قیامت تک آنے والی انسانیت کی رہنمائی کرسکے؟کیایہ معیارتنہاعقل کے بھروسے پر،تنہامشاہدے اورتجربے کے بھروسے پرہمارے لئے کافی ہوسکتاہے؟
ذرائع علم
         اس کے جواب کے لئے ہمیں یہ دیکھناہوگاکہ کوئی بھی نظام جب تک اپنی پشت پراپنے پیچھے علمی حقائق کاسرمایہ نہ رکھتاہواس وقت تک وہ کامیابی سے نہیں چل سکتا۔اورکسی بھی معاملے میں علم حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالی نے انسان کوکچھ ذرائع عطافرمائے ہیں ۔ان ذرائع میں سے ہرایک کاایک مخصوص دائرہ کارہے ۔اس دائرہ کارتک وہ ذریعہ کام دیتاہے اوراس سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔لیکن اس سے آگے وہ ذریعہ کام نہیں دیتاہے اس سے فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتاہے۔
حواس خمسہ کادائرہ کار
         مثال کے طورپرانسان کوسب سے پہلے جوذرائع علم عطاہوئے وہ اس کے حواس خمسہ ہیں،آنکھ،کان ،ناک اورزبان وغیرہ ۔آنکھ کے ذریعہ دیکھ کربہت سے چیزوں کاعلم حاصل ہوتاہے ۔زبان کے ذریعہ چکھ کرعلم حاصل ہوتاہے ۔ناک کے ذریعہ سونگھ  کرعلم حاصل ہوتاہے ۔ہاتھ کے ذریعہ چھوکرعلم حاصل ہوتاہے ۔لیکن علم کے یہ پانچ ذرائع جومشاہدے کی سرحدمیں آتے ہیں،ان میں سے ہرایک کاایک دائرہ کارہے۔اس دائرہ  کارسے باہروہ ذریعہ کام نہیں کرتا،آنکھ دیکھ سکتی ہے لیکن سن نہیں سکتی کان سن سکتاہے  لیکن دیکھ نہیں سکتا ناک سونگھ سکتی ہے ،دیکھ نہیں سکتی۔اگرکوئی شخص یہ چاہے کہ میں آنکھ توبندکرلوں اورکان سے دیکھناشروع کردوں تواس شخص کوساری دنیااحمق کہے گی ۔اس لئے کاکان اس کام کے لئے نہیں بنایاگیا۔اگرکوئی شخص اس سے کہے کہ تمھاراکان نہیں دیکھ سکتا۔اس لئے کان سے دیکھنے کی تمھاری کوشش بالکل بے کارہے ۔جواب میں وہ شخص کہے کہ اگرکان دیکھ نہیں سکتاتووہ بے کارچیزہے تواس کوساری دنیااحمق کہے گی ۔اس لئے کہ وہ اتنی بات بھی نہیں جانتاکہ کان کاایک دائرہ کارہے،اس حدتک وہ کام کرے گا۔اس سے اگرآنکھ کاکام لیناچاہوگے توہ نہیں کرے گا۔
دوسراذریعہ علم’’عقل‘‘
         پھرجس طرح اللہ تعالی نے ہمیں علم کے حصول کے لئے  یہ پانچ حواص عطافرمائے ہیں۔ایک مرحلہ پرجاکران پانچوں حواس کی پروازختم ہوجاتی ہے۔اس مرحلہ پرنہ توآنکھ کام دیتی ہے،نہ کان کام دیتاہے،نہ زبان کام دیتی ہے ،نہ ہاتھ کام دیتاہے۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اشیاء براہ راست مشاہدہ کی گرفت میں نہیں آتیں۔اس موقع پراللہ تعالی نے ہمیں اورآپ کوعلم کاایک اورذریعہ عطافرمایاہے اوروہ ہے ’’عقل‘‘جہاں پرحواس خمسہ کام چھوڑدیتے ہیں۔وہاں پر’’عقل‘‘کام آتی ہے،مثلاًمیرے سامنے یہ میزرکھی ہے،میں آنکھ سے دیکھ کریہ بتاسکتاہوں کہ اس کارنگ کیاہے؟ہاتھ سے چھوکرمعلوم کرسکتاہوں کہ یہ سخت لکڑی کی ہے ،اوراس پرفارمیکالگاہواہے ۔لیکن اس بات کاعلم کہ یہ میزوجودمیں کیسی آئی ہے؟یہ بات میں نہ توآنکھ سے دیکھ کربتاسکتاہوں ،نہ کان سے سن کر،نہ ہاتھ سے چھوکربتاسکتاہوں ۔اس لئے کہ اس کے بننے کاعمل میرے سامنے نہیں ہوا۔اس موقع پرمیری عقل میری رہنمانی کرتی ہے کہ یہ چیزاتنی صاف ستھری بنی ہوئی ہے۔خودبخودوجودمیں نہیں آسکتی ۔اس کوکسی بنانے والے نے بنایاہے۔اوروہ بنانے والااچھاتجربہ کارماہربڑھئی(Carpenter)ہے۔جس نے اس کوخوبصورت شکل میں بنایاہے۔لہذایہ بات کہ اس کوکسی کارپینٹرنے بنایاہےمجھے میری عقل نے بتائی۔توجس جگہ پرمیرے خواس خمسہ نے کام کرناچھوڑدیاتھا۔وہاں میری عقل آئی اوراس نے میری رہنمائی کرکے ایک دوسراعلم عطاکیا۔
’’عقل‘‘کادائرہ کار
         لیکن جس طرح ان پانچوں حواس خمسہ کادائرہ کارلامحدود(Unlimited)نہیں۔عقل بھی ایک حدتک انسان کوکام دیتی ہے۔ایک حدتک رہنمائی کرتی ہے۔اس حدسے آگے اگراس عقل کواستعمال کرناچاہیں گے تووہ عقل صحیح جواب نہیں دے گی ،صحیح رہنمانی نہیں کرے گی ۔
تیسراذریعہ علم’’وحی‘‘الہی
         جس جگہ عقل کی پروازختم ہوجاتی ہے۔وہاں اللہ تبارک وتعالی نے انسان کوایک تیسراذریعہ علم عطافرمایاہے ۔اوروہ ہے’’وحی الہی‘‘یعنی اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے وحی اورآسمانی تعلیم۔یہ ذریعہ علم شروع ہی اس جگہ سے ہوتاہے جہاں عقل کی پروازختم ہوجاتی ہے۔لہذاجس جگہ ’’وحی الہی‘‘آتی ہے۔اس جگہ پرعقل کواستعمال کرنابالکل ایساہی ہے جیسے کہ آنکھ کے کام کے لئے کان کواستعمال کرنا۔کان کے کام کے لئے آنکھ کواستعمال کرنا۔اس کے ہرگزیہ معنی نہیں کہ عقل بیکارہے۔نہیں بلکہ وہ کارآمدچیزہے ،بشرط یہ کہ آپ کواس کے دائرہ کار(Jurisdiction)میں استعمال کریں۔اگراس کے دائرہ کارسے باہراستعمال کریں گے توبالکل ایساہی ہوگاجیسے کوئی شخص آنکھ اورکان سے سونگھنے کاکام لے۔
اسلام اورسیکولرنظام میں فرق
         اسلام اورسیکولرنظام حیات میں یہی فرق ہے کہ سیکولرنظام میں علم کے پہلے دوذرائع استعمال کرنے کے بعدرک جاتے ہیں ۔ان کاکہنایہ ہے کہ انسان کے پاس علم کے حصول کاکوئی تیسراذریعہ نہیں ہے بس ہماری آنکھ ،کان،ناک ہے اورہماری عقل ہے ۔اس سے آگے کوئی ذریعہ علم نہیں ہے ۔اوراسلام یہ کہتاہے کہ ان دونوں ذرائع کے آگے تمہارے پاس ایک اورذریعہ علم بھی ہے اوروہ ہے ’’وحی الہی‘‘۔
وحی الہی کی ضرورت
         اب دیکھنایہ ہے کہ اسلام کایہ دعوی کے عقل کے ذریعے ساری باتیں معلوم نہیں کی جاسکتں،بلکہ آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے،وحی الہی کی ضرورت ہے،پیغمبروں اوررسولوں کی ضرورت ہے،آسمانی کتابوں کی ضرورت ہے ۔اسلام کایہ دعوی ہمارے موجودہ معاشرے میں کس حدتک درست ہے؟
عقل دھوکہ دینے والی ہے
         آج کل عقل پرستی (Rationalism)کابڑازورہے اورکہاجاتاہے کہ ہرچیزعقل کی میزان پرپرکھ کراورتول کراختیارکریں گے لیکن عقل کے پاس کوئی ایسالگابندھاضابط(Formula) اورکوئی لگابندھااصول(principle)نہیں ہے،جوعالمی حقیقت(Universal Truth)رکھتاہو۔جس کوساری دنیاکے انسان تسلیم کرلیں اوراس کے ذریعہ وہ اپنے خیروشراوراچھائی برائی کامعیارتجویزکرسکیں ۔کون سے اچھی  ہے؟کون سی چیزبری ہے؟کون سی چیزاختیارکرنی چاہیے ؟کون سی چیزاختیارنہیں کرنی چاہیے ؟یہ فیصلہ جب ہم عقل کے حوالے کرتے ہیں توآپ تاریخ اٹھاکردیکھ لیجئے،اس میں آپ کویہ نظرآئے گاکہ اس عقل نے انسان کواتنے دھوکے دیئے ہیں جس کوکوئی شماراورحدوحساب ممکن نہیں اگرعقل کواس طرح آزادچھوڑدیاتوانسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتاہے۔اس کے لئے میں تاریخ سے چندمثالیں پیش کرتاہوں۔
بہن سے نکاح خلاف عقل نہیں
         آج سے تقریباً آٹھ سوسال پہلے عالم اسلام میں ایک فرقہ پیداہواتھا۔جس کو’’باطنی فرقہ‘‘ اور’’قرامطہ‘‘کہتے ہیں۔اس فرقے کاایک مشہورلیڈرگزراہے جس کانام عبیداللہ بن حسن قیروانی ہے ۔اس نے اپنے پیروکاروں کے نام ایک خط لکھاہے وہ خط بڑادلچسپ ہے ۔جس میں اس نے اپنے پیروکاروں کوزندگی گزارنے کے لئے ہدایات دی ہیں۔اس میں وہ لکھتاہے کہ:
         ‘‘میری سمجھ میں یہ بے عقلی کی بات نہیں آتی ہے کہ لوگوں کے پاس اپنے گھرمیں ایک بڑی خوبصورت،سلیقہ شعارلڑکی بہن کی شکل میں موجودہےاوربھائی کے مزاج کوبھی سمجھتی ہے ،اس کی نفسیات سے بھی واقف ہے ۔لیکن یہ بے عقل انسان اس بہن  کاہاتھ اجنبی شخص کوپکڑادیتاہے ۔جس کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ نباہ صحیح ہوسکے گایانہیں؟وہ مزاج سے واقف ہے یانہیں؟اورخوداپنے لئے بعض اوقات ایک ایسی لڑکی لے آتے ہیں جوحسن وجمال کے اعتبارسے بھی ،سلیقہ شعاری کے اعتبارسے بھی،مزاج شناسی کے اعتبارسے بھی اس بہن کے ہم پلہ نہیں ہوتی۔
         میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اس بے عقلی کاکیاجوازہے کہ اپنے گھرکی دولت تودوسرے کے ہاتھ میں دے دے۔اوراپنے پاس ایک ایسی چیزلے آئے جواس کوپوری راحت اورآرام نہ دے ۔یہ بے عقلی ہے۔عقل کے خلاف ہے میں اپنے پیرو ں کاروں کونصیحت کرتاہوں کہ وہ اس بے عقلی سے اجتناب کریں اوراپنے گھرکی دولت کوگھرہی میں رکھیں۔(الفرق بین الفرق للبغدادی صفحہ ۲۹۷وبیان مذاہب الباطنیہ للدیلمی،ص ۸۱۔)
بہن اورجنسی تسکین
         اوردوسری جگہ عبیداللہ بن حسن قیروان عقل کی  بنیادپراپنے پیروکاروں کویہ پیغام دے رہاہے وہ کہتاہے کہ:
                  ’’یہ کیاوجہ ہے کہ جب ایک بہن بھائی  کے لئے کھاناپکاسکتی ہے،اس کی بھوک دورکرسکتی ہے،اس کی راحت کے لئے اس کے کپڑے سنوارسکتی ہے،اس کابستردرست کرسکتی ہےتواس کی  جنسی تسکین کاسامان کیوں نہیں کرسکتی ؟اس کی کیاوجہ ہے؟یہ توعقل کے خلاف ہے۔(الفرق بین الفرق للبغدادی صفحہ ۲۹۷وبیان مذاہب الباطنیہ للدیلمی،ص ۸۱۔)
عقلی جواب ناممکن ہے
         آپ اس کی بات پرجتنی چاہےلعنت بھیجیں ،لیکن میں یہ کہتاہوں کہ خالص عقل کی بنیادپرجووحی الہی کی رہنمائی سے آزادہو۔جس کووحی الہی کی روشنی میسرنہ ہو۔اس عقل کی بنیادپرآپ اس کے اس استدلال کاجواب دیں ۔خالص عقل کی بنیادپرقیامت تک اس کے اس استدلال کاجواب نہیں دیاجاسکتا۔
عقلی اعتبارسے بداخلاقی نہیں
        اگرکوئی شخص یہ کہے کہ یہ توبڑی بداخلاقی کی بات ہے ،بری گھناؤنی بات ہے ،تواس کوجواب موجودہے کہ یہ بداخلاقی اورگھناؤناپن ،یہ سب ماحول کے پیداکردہ تصورات ہیں۔آپ ایک ایسے ماحول میں پیداہوئے ہیں جہاں اس بات کومعیوب سمجھاجاتاہے۔اس لئے آپ اس کومعیوب سمجھتے ہیں ۔ورنہ عقلی اعتبارسے کوئی عیب نہیں۔
نسب کاتحفظ کوئی عقلی اصول نہیں
         اگرآپ یہ کہتے ہیں کہ اس سے حسب ونسب کاسلسلہ خراب ہوجاتاہے تواس کوجواب موجودہے کہ نسلوں کاسلسلہ خراب ہوجاتاہے توہونے دو۔اس میں کیابرائی ہے؟نسب کاتحفظ کونساایساعقلی اصول ہےکہ اس کی وجہ سے نسب کاتحفظ ضرورکیاجائے ۔
یہ بھی ہومین ارج(Human Urge)کاحصہ ہے۔
        اگرآپ اس استدلال کے جواب میں یہ کہیں کہ اس سے طبی طورپرنقصانات ہوتے ہیں۔اس لئے کہ اب یہ تصورات سامنے آئے ہیں کہ استلذاذبالاقارب (Incest)سے طبی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔
         لیکن آپ کومعلوم ہے کہ آج مغربی دنیامیں اس موضوع پرکتابیں آرہی ہیں کہ استلذاذبالاقارب (Incest)انسان کی فطری خواہش (Human Urge)کاایک حصہ ہے۔اوراس کے جوطبی نقصانات بیان  کئے جاتے ہیں،وہ صحیح نہیں ہیں ۔وہی نعرہ جوآج سے آٹھوسوسال پہلے عبیداللہ بن حسن قیروان نے لگایاتھا۔اس کی نہ صرف صدائے بازگشت ،بلکہ آج مغربی ملکوں میں اس پرکسی طرح عمل ہورہاہے۔
وحی الہی سے آزادی کانتیجہ
         یہ سب کیوں ہورہاہے؟اس لئے کہ عقل کواس جگہ استعمال کیاجارہاہےجوعقل کے دائرہ کار(Jurisdiction)میں نہیں ہے۔جہاں وحی الہی کی ضرورت ہے۔اورعقل کووحی الہی کی رہنمائی سے آزادکرنے کانتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ ہم جنس پرستی (Sexuality)کے جوازکابل تالیوں کی گونج میں منظورکررہی ہے۔
         اوراب توباقاعدہ یہ ایک علم بن گیاہے۔میں(مولاناتقی عثمانی صاحب)ایک مرتبہ اتفاق سے نیویارک کے ایک کتب خانہ میں گیا۔وہاں پرپوراایک علیحدہ سیکشن تھا،جس پریہ عنوان لگاہواتھاکہ(گے اسٹائل آف لائف(Gay Style of life) تواس موضوع پرکتابوں کاایک ذخیرہ آچکاتھااورباقاعدہ ان کی انجمنیں ہیں۔ان کے گروپ اورجماعتیں ہیں،اوروہ بڑے بڑے عہدوں پرفائزہیں۔اس زمانے میں نیویارک کامیئر(Mayor)بھی ایک گے (Gay)تھا۔
عقل کافریب
        اگرآپ امریکہ کے ایک رسالے’’ٹائم‘‘کودیکھے تواس میں یہ خبرآئی ہے کہ خلیج کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں سے تقریباًایک ہزارافرادکوصرف اس لئے فوج سے نکال دیاگیاکہ وہ ہم جنس پرست(Homo Sexual) تھے۔لیکن اس اقدام کے خلاف شورمچ رہاہے ۔مظاہرے ہورہے ہیں،اورچاروں طرف سے یہ آوازاٹھ رہی ہیں کہ یہ بات کہ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے آپ نے ان لوگوں کوفوج کے عہدوں سے برخاست کردیاہے۔یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہےاوران کودوبارہ بحال کرناچاہیے ۔اوران کی دلیل یہ ہے کہ یہ توایک ہیومین ارج(Human Urge  ) ہے۔اورآج (Human Urge)کابہانہ لے کردنیاکی ہربری سے بری بات کوجائزقراردیاجارہاہے۔یہ سب عقل کی بنیادپرہورہاہے،کہ بتاؤعقلی اعتبارسے اس میں کیاخرابی ہے ۔اوریہ توصرف جنس انسانی کی بات تھی۔اب توبات جانوروں،کتوں،گدھوں گھوڑوں تک بات پہنچ گئی ہے۔اوراس کوبھی باقاعدہ فخریہ بیان کیاجارہاہے۔
عقل کاایک اورفریب
         بات واضح کرنے کے لئے ایک اوربات عرض کردوں کہ یہ ایٹم بم جس کی تباہ کاریوں سے تمام دنیاآج خوف زدہ اورپریشان حال ہے ،اورایٹمی اسلحہ میں تخفیف کے طریقے تلاش کررہی ہے ۔انسائیکلوپیڈیاآف برٹانیکا(Encyclopaedia of Britannica)میں ایٹم بم پرجومقالہ لکھاگیاہےاس کوذراکھول کردیکھیں۔اس میں یہ ذکرکیاگیاہے کہ دنیامیں ایٹم بم کاتجربہ دوجگہ پرکیاگیاہے ۔ایک ہیروشیما،اوردوسرے ناگاساکی پرجوایٹم بم برسائے گئے اس کے ذریعہ ایک کروڑانسانوں کی جانیں بچائی گئیں،اوران کوموت کے منہ سے نکالاگیا۔اوراس کی منطق یہ لکھی ہے کہ اگرہیروشیمااورناگاساکی  پربم نہ گرائے جاتے توپھرجنگ مسلسل جاری رہتی اوراس میں اندازہ یہ تھاکہ تقریباًایک کروڑانسان مزیدمرجاتے۔توایٹم بم کاتعارف اس طرح کرایاگیاکہ ایٹم بم وہ چیزہے کہ جس سے ایک کروڑانسانوں کی جانیں گئیں۔یہ اس واقع کاجواز(justification)پیش کیاجارہاہے۔جس پرساری دنیالعنت بھیجتی ہے کہ ان ایٹم بم کے ذریعہ ہیروشیمااورناگاساکی میں ان بچوں کی نسلیں تک تباہ کردی گئیں۔بے گناہوں کوماراگیااوریہ جواز(justification)بھی عقل کی بنیادپرہے۔
          لہذاکوئی بری سے بری بات اورکوئی سنگین سے سنگین حرابی ایسی نہیں ہے جس کے لئے عقل کوئی نہ کوئی دلیل اورکوئی نہ کوئی جوازفراہم نہ کردے۔
         آج ساری دنیافاشزم (Fascism)پرلعنت بھیج رہی ہے اورسیاست کی دنیامیں ہٹلراورمسولینی کانام ایک گالی بن گیاہے ،لیکن آپ ذراان کافلسفہ تواٹھاکردیکھیں کہ انہوں نے اپنے فاشزم(Fascism) کوکس طرح فلسفیانہ اندازمیں پیش کیاہے۔ایک معمولی سمجھ کاآدمی اگرفاشزم کے فلسفے کوپڑھے گاتواسے اعتراف ہونے لگے گاکہ بات توسمجھ میں آتی ہے معقول بات ہے۔یہ کیون ہے؟اس لئے کہ عقل ان کواس طرف لے جارہی ہے۔۔۔بحرحال دنیاکی کوئی بدترسے بدتربرائی ایسی نہیں ہے جس کوعقل کی دلیل کی بنیادپرصحیح تسلیم کرانے کی کوشش نہ کی جاتی ہو۔اس لئے کہ عقل کواس جگہ استعمال کیاجارہاہے جہاں اس کے استعمال کی جگہ نہیں ہے۔

 

Unknown

''الاسلام''بلاگ میں آپ اپنے اصلاح کے لیے(اردو،پشتومیں) اسلامی اصلاحی بیانات سنے اور اسلامی معلوماتی مضامین پڑھیں نیکیاں کمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں اوراس کے علاوہ (اردو،پشتو)میں حمدباری تعالی اور نعت رسول مقبولﷺ بھی سماعت فرمائیں ،نیزمختلف قراء حضرات کی تلاوت بھی سن سکتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

 

Copyright @ 2013 الاسلام.